سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب : ذكر الذنوب
باب: گناہوں کو یاد کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4245
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ بْنِ خَدِيجٍ الْمَعَافِرِيُّ , عَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ , عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْأَلْهَانِيِّ , عَنْ ثَوْبَانَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ , بِيضًا , فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا" , قَالَ ثَوْبَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , صِفْهُمْ لَنَا , جَلِّهِمْ لَنَا أَنْ لَا نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَا نَعْلَمُ , قَالَ:" أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ , وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ , وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنی امت میں سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں کے برابر نیکیاں لے کر آئیں گے، اللہ تعالیٰ ان کو فضا میں اڑتے ہوئے ذرے کی طرح بنا دے گا“، ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان لوگوں کا حال ہم سے بیان فرمائیے اور کھول کر بیان فرمایئے تاکہ لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے ہم ان میں سے نہ ہو جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جان لو کہ وہ تمہارے بھائیوں میں سے ہی ہیں، اور تمہاری قوم میں سے ہیں، وہ بھی راتوں کو اسی طرح عبادت کریں گے، جیسے تم عبادت کرتے ہو، لیکن وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب تنہائی میں ہوں گے تو حرام کاموں کا ارتکاب کریں گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2095، ومصباح الزجاجة: 1518) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4245
| أقواما من أمتي يأتون يوم القيامة بحسنات أمثال جبال تهامة بيضا فيجعلها الله هباء منثورا أما إنهم إخوانكم ومن جلدتكم ويأخذون من الليل كما تأخذون ولكنهم أقوام إذا خلوا بمحارم الله انتهكوها |
المعجم الصغير للطبراني |
1011
| أقواما من أمتي يأتون يوم القيامة بحسنات أمثال جبال تهامة فيجعلها الله هباء منثورا أما إنهم من إخوانكم ولكنهم أقوام إذا خلوا بمحارم الله انتهكوها |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4245 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4245
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بہت سے گناہ نیکیوں کو ضائع کردیتے ہیں۔
(2)
لوگوں کے سامنے نیک بنے رہنا اور تنہائی میں گناہ کاارتکاب، بے تکلف کرلینا یہ بھی ایک قسم کی منافقت ہے۔
جس کی وجہ سے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔
(3)
تہجد پڑھنا نیکی ہے۔
لیکن اس سے زیادہ ضروری تنہائی میں تقویٰ پر قائم رہنا ہے۔
(4)
اصل تقویٰ یہی ہے۔
کہ انسان اس وقت بھی گناہ سے باز رہے جب اسے دیکھنے والا کوئی نہ ہو۔
(5)
نیکیوں کو غبار میں تبدیل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو قبول نہیں فرمائے گا۔
اس لئے وہ بے وزن ہوجایئں گی اگرچہ دیکھنے میں وہ پہاڑوں جیسی عظیم اور سفید ہوں۔
فوائد و مسائل:
(1)
بہت سے گناہ نیکیوں کو ضائع کردیتے ہیں۔
(2)
لوگوں کے سامنے نیک بنے رہنا اور تنہائی میں گناہ کاارتکاب، بے تکلف کرلینا یہ بھی ایک قسم کی منافقت ہے۔
جس کی وجہ سے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔
(3)
تہجد پڑھنا نیکی ہے۔
لیکن اس سے زیادہ ضروری تنہائی میں تقویٰ پر قائم رہنا ہے۔
(4)
اصل تقویٰ یہی ہے۔
کہ انسان اس وقت بھی گناہ سے باز رہے جب اسے دیکھنے والا کوئی نہ ہو۔
(5)
نیکیوں کو غبار میں تبدیل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو قبول نہیں فرمائے گا۔
اس لئے وہ بے وزن ہوجایئں گی اگرچہ دیکھنے میں وہ پہاڑوں جیسی عظیم اور سفید ہوں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4245]
عبد الله بن غابر الألهاني ← ثوبان بن بجدد القرشي