سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب : ذكر التوبة
باب: توبہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4252
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ , عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ ابْنِ مَعْقِلٍ , قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ , فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّدَمُ تَوْبَةٌ" , فَقَالَ لَهُ أَبِي: أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" النَّدَمُ تَوْبَةٌ"؟ قَالَ: نَعَمْ.
عبداللہ بن معقل مزنی کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ندامت (شرمندگی) توبہ ہے“، میرے والد نے ان سے پوچھا کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت توبہ ہے؟ انہوں نے کہا: ”ہاں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4252]
حضرت عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں اپنے والد (حضرت معقل بن مقرن رضی اللہ عنہ) کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے انہیں سنا وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «النَّدَمُ تَوْبَةٌ» ”ندامت توبہ ہے۔“ میرے والد نے ان سے کہا: کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (براہ راست) سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «النَّدَمُ تَوْبَةٌ» ”ندامت توبہ ہے“؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفةالأشراف: 9351، ومصباح الزجاجة: 1522)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/376، 422، 423، 433) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4252
| الندم توبة |
المعجم الصغير للطبراني |
1064
| الندم توبة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4252 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4252
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ندامت توبہ کا اہم جز ہے۔
(2)
عالی سند کی طلب مستحسن ہے۔
(3)
اگر کسی چیز میں شک ہو تو استاد سے دریافت کرلینا احترام کے منافی نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
ندامت توبہ کا اہم جز ہے۔
(2)
عالی سند کی طلب مستحسن ہے۔
(3)
اگر کسی چیز میں شک ہو تو استاد سے دریافت کرلینا احترام کے منافی نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4252]
Sunan Ibn Majah Hadith 4252 in Urdu
عبد الله بن المغفل المزني ← عبد الله بن مسعود