یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب : ذكر الموت والاستعداد له
باب: موت کی یاد اور اس کی تیاری کا بیان۔
حدیث نمبر: 4259
حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ , حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ , حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ فَرْوَةَ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ , فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا" , قَالَ: فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ؟ قَالَ:" أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا , وَأَحْسَنُهُمْ لِمَا بَعْدَهُ اسْتِعْدَادًا , أُولَئِكَ الْأَكْيَاسُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ کے پاس ایک انصاری شخص آیا، اس نے آپ کو سلام کیا، پھر کہنے لگا: اللہ کے رسول! مومنوں میں سے کون سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہے“، اس نے کہا: ان میں سب سے عقلمند کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ان میں موت کو سب سے زیادہ یاد کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے سب سے اچھی تیاری کرے، وہی عقلمند ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4259]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، ایک انصاری صحابی آئے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، پھر کہا: ”اللہ کے رسول! کون سا مومن افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا اخلاق زیادہ اچھا ہو۔“ انہوں نے کہا: ”کون سا مومن زیادہ عقل مند ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو موت کو زیادہ یاد کرتے ہیں اور اس کے بعد (کے مراحل) کے لیے زیادہ اچھی تیاری کرتے ہیں، یہی عقل مند ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7333، ومصباح الزجاجة: 1524) (حسن)» (سند میں فروہ بن قیس اور نافع بن عبد اللہ مجہول ہیں، لیکن حدیث دوسرے شواہد سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1384)
قال الشيخ الألباني: حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4259
| أحسنهم خلقا قال فأي المؤمنين أكيس قال أكثرهم للموت ذكرا وأحسنهم لما بعده استعدادا |
المعجم الصغير للطبراني |
1048
| من أكيس الناس وأحزم الناس فقال أكثرهم ذكرا للموت وأشدهم استعدادا للموت قبل نزول الموت أولئك هم الأكياس ذهبوا بشرف الدنيا وكرامة الآخرة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4259 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4259
اردو حاشہ:
فوائدو مسائل:
(1)
اچھا اخلاق اللہ کے ہاں درجات کی بلندی کا باعث ہے۔
(2)
موت کا ذکر کرنے سے دل کی غفلت دور ہوتی ہے۔
(3)
موت کو یاد رکھنے سےآخرت کے لئے تیاری کرنے کی ترغیب ہوتی ہے۔
(4)
اصل عقل مندی آخرت کی نعمتیں حاصل کرنے کے لئے محنت کرنا ہے۔
دنیا کی فانی اور بے حقیقت اشیاء پر پوری توجہ لگا دینا بے وقوفی ہے۔
فوائدو مسائل:
(1)
اچھا اخلاق اللہ کے ہاں درجات کی بلندی کا باعث ہے۔
(2)
موت کا ذکر کرنے سے دل کی غفلت دور ہوتی ہے۔
(3)
موت کو یاد رکھنے سےآخرت کے لئے تیاری کرنے کی ترغیب ہوتی ہے۔
(4)
اصل عقل مندی آخرت کی نعمتیں حاصل کرنے کے لئے محنت کرنا ہے۔
دنیا کی فانی اور بے حقیقت اشیاء پر پوری توجہ لگا دینا بے وقوفی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4259]
Sunan Ibn Majah Hadith 4259 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي