سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب : صفة أمة محمد صلى الله عليه وسلم
باب: امت محمدیہ کی صفات۔
حدیث نمبر: 4287
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّحَّاسِ الرَّمْلِيُّ , وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ , عَنْ ابْنِ شَوْذَبٍ , عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نُكْمِلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعِينَ أُمَّةً , نَحْنُ آخِرُهَا وَخَيْرُهَا".
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم قیامت کے دن ستر امتوں کا تکملہ ہوں گے، اور ہم ان سب سے آخری اور بہتر امت ہوں گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4287]
حضرت بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا (حضرت معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن ہمارے سمیت ستر قومیں (امتیں) ہوں گی۔ ہم ان میں سے سب سے آخری اور سب سے افضل (امت) ہوں گے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 4 (3001)، (تحفة الأشراف: 11387)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4474، 5/3، 5)، سنن الدارمی/الرقاق 47 (2802) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3001
| تتمون سبعين أمة أنتم خيرها وأكرمها على الله |
سنن ابن ماجه |
4288
| وفيتم سبعين أمة أنتم خيرها وأكرمها على الله |
سنن ابن ماجه |
4287
| نكمل يوم القيامة سبعين أمة نحن آخرها وخيرها |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4287 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4287
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مشہور قول کے مطابق رسولوں کی تعداد تین سو تیرہ ہے۔
اورانبیاء کی تعداد تقریبا سوا لاکھ ہے۔
ستر قوموں سے مراد بڑی بڑی قومیں ہیں۔
جن کی طرف کئی کئی رسول آئے۔
یا جن کی مدت طویل ہوئی۔
(2)
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت دوسرے انبیاء کی امتوں سے افضل ہے۔
تاہم انفرادی افضلیت دوسری بات ہے۔
(3)
اُمت محمدیہ میں سے ہونا بہت بڑی فضیلت ہے۔
لیکن بلند مقام کے تقاضے بھی بڑے ہوتے ہیں۔
ضروری ہے کہ ہم اللہ کے احکام کی تعمیل میں زیادہ کوشش کریں۔
غیر مسلم قوموں کو اسلام کے رحمت بھرے دامن کے سائے میں لانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
ظلم وستم سے نہ صرف خود باز رہیں بلکہ ظالموں کو ظلم سے روکیں اور نیکی کے ہر کام میں تعاون کریں۔
فوائد و مسائل:
(1)
مشہور قول کے مطابق رسولوں کی تعداد تین سو تیرہ ہے۔
اورانبیاء کی تعداد تقریبا سوا لاکھ ہے۔
ستر قوموں سے مراد بڑی بڑی قومیں ہیں۔
جن کی طرف کئی کئی رسول آئے۔
یا جن کی مدت طویل ہوئی۔
(2)
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت دوسرے انبیاء کی امتوں سے افضل ہے۔
تاہم انفرادی افضلیت دوسری بات ہے۔
(3)
اُمت محمدیہ میں سے ہونا بہت بڑی فضیلت ہے۔
لیکن بلند مقام کے تقاضے بھی بڑے ہوتے ہیں۔
ضروری ہے کہ ہم اللہ کے احکام کی تعمیل میں زیادہ کوشش کریں۔
غیر مسلم قوموں کو اسلام کے رحمت بھرے دامن کے سائے میں لانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
ظلم وستم سے نہ صرف خود باز رہیں بلکہ ظالموں کو ظلم سے روکیں اور نیکی کے ہر کام میں تعاون کریں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4287]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4288
امت محمدیہ کی صفات۔
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تمہیں لے کر ستر امتیں پوری ہوئیں، اور تم ان میں سب سے بہتر ہو، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4288]
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تمہیں لے کر ستر امتیں پوری ہوئیں، اور تم ان میں سب سے بہتر ہو، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4288]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
ستر پورا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پہلے انہتر قومیں گزری ہیں۔
تمھارے ساتھ ستر کی تعداد پوری ہوگئی اس طرح تم سترویں امت ہو۔
فوائد و مسائل:
ستر پورا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پہلے انہتر قومیں گزری ہیں۔
تمھارے ساتھ ستر کی تعداد پوری ہوگئی اس طرح تم سترویں امت ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4288]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3001
سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر۔
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے قول «كنتم خير أمة أخرجت للناس» ۱؎ کی تفسیر کرتے ہوئے سنا: ”تم ستر امتوں کا تتمہ (و تکملہ) ہو، تم اللہ کے نزدیک ان سب سے بہتر اور سب سے زیادہ باعزت ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3001]
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے قول «كنتم خير أمة أخرجت للناس» ۱؎ کی تفسیر کرتے ہوئے سنا: ”تم ستر امتوں کا تتمہ (و تکملہ) ہو، تم اللہ کے نزدیک ان سب سے بہتر اور سب سے زیادہ باعزت ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3001]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے (آل عمران: 110)
وضاحت:
1؎:
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے (آل عمران: 110)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3001]
Sunan Ibn Majah Hadith 4287 in Urdu
حكيم بن معاوية البهزي ← معاوية بن حيدة القشيري