🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب : ذكر الحوض
باب: حوض کوثر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4303
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ , حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سَالِمٍ الدِّمَشْقِيُّ , نُبِّئْتُ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيِّ , قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَأَتَيْتُهُ عَلَى بَرِيدٍ , فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَيْهِ , قَالَ: لَقَدْ شَقَقْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا سَلَّامٍ فِي مَرْكَبِكَ , قَالَ: أَجَلْ وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ الْمَشَقَّةَ عَلَيْكَ , وَلَكِنْ حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهِ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَوْضِ , فَأَحْبَبْتُ أَنْ تُشَافِهَنِي بِهِ , قَالَ: فَقُلْتُ: حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ حَوْضِي مَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى أَيْلَةَ , أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ , وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ , أَوانيِهُ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ , مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا , وَأَوَّلُ مَنْ يَرِدُهُ عَلَيَّ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ , الدُّنْسُ ثِيَابًا وَالشُّعْثُ رُءُوسًا , الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُنَعَّمَاتِ , وَلَا يُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ" , قَالَ: فَبَكَى عُمَرُ حَتَّى اخْضَلَّتْ لِحْيَتُهُ , ثُمَّ قَالَ: لَكِنِّي قَدْ نَكَحْتُ الْمُنَعَّمَاتِ , وَفُتِحَتْ لِي السُّدَدُ , لَا جَرَمَ أَنِّي لَا أَغْسِلُ ثَوْبِي الَّذِي عَلَى جَسَدِي حَتَّى يَتَّسِخَ , وَلَا أَدْهُنُ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ.
ابوسلام حبشی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے مجھ کو بلا بھیجا، میں ان کے پاس ڈاک کے گھوڑے پر بیٹھ کر آیا، جب میں پہنچا تو انہوں نے کہا: اے ابو سلام! ہم نے آپ کو زحمت دی کہ آپ کو تیز سواری سے آنا پڑا، میں نے کہا: بیشک، اللہ کی قسم! اے امیر المؤمنین! (ہاں واقعی تکلیف ہوئی ہے)، انہوں نے کہا، اللہ کی قسم، میں آپ کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا، لیکن مجھے پتا چلا کہ آپ ثوبان رضی اللہ عنہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام) سے حوض کوثر کے بارے میں ایک حدیث روایت کرتے ہیں تو میں نے چاہا کہ یہ حدیث براہ راست آپ سے سن لوں، تو میں نے کہا کہ مجھ سے ثوبان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا عدن سے ایلہ تک کا فاصلہ، دودھ سے زیادہ سفید، اور شہد سے زیادہ میٹھا، اس کی پیالیاں آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر ہیں، جو شخص اس میں سے ایک گھونٹ پی لے گا کبھی پیاسا نہ ہو گا، اور سب سے پہلے جو لوگ میرے پاس آئیں گے (پانی پینے) وہ میلے کچیلے کپڑوں اور پراگندہ بالوں والے فقراء مہاجرین ہوں گے، جو ناز و نعم میں پلی عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے اور نہ ان کے لیے دروازے کھولے جاتے۔ ابو سلام کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رونے لگے یہاں تک کہ ان کی داڑھی تر ہو گئی، پھر بولے: میں نے تو ناز و نعم والی عورتوں سے نکاح بھی کیا، اور میرے لیے دروازے بھی کھلے، اب میں جو کپڑا پہنوں گا، اس کو ہرگز نہ دھووں گا، جب تک وہ میلا نہ ہو جائے، اور اپنے سر میں تیل نہ ڈالوں گا جب تک کہ وہ پراگندہ نہ ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة 15 (2444)، (تحفة الأشراف: 2120)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/275) (صحیح)» ‏‏‏‏ (عباس بن سالم اور ابو سلام کے مابین انقطاع کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، لیکن مرفوع حدیث دوسرے طریق سے ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1082، السنة لابن ابی عاصم: 707 - 708)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف / ت+2444

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ثوبان بن بجدد القرشي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥ممطور الأسود الحبشي، أبو سلام
Newممطور الأسود الحبشي ← ثوبان بن بجدد القرشي
ثقة يرسل
👤←👥العباس بن سالم اللخمي
Newالعباس بن سالم اللخمي ← ممطور الأسود الحبشي
ثقة
👤←👥محمد بن المهاجر الأشهلي
Newمحمد بن المهاجر الأشهلي ← العباس بن سالم اللخمي
ثقة
👤←👥مروان بن محمد الطاطري، أبو حفص، أبو بكر، أبو عبد الرحمن
Newمروان بن محمد الطاطري ← محمد بن المهاجر الأشهلي
ثقة
👤←👥محمود بن خالد السلمي، أبو علي
Newمحمود بن خالد السلمي ← مروان بن محمد الطاطري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2444
حوضي من عدن إلى عمان البلقاء ماؤه أشد بياضا من اللبن أحلى من العسل أكاويبه عدد نجوم السماء من شرب منه شربة لم يظمأ بعدها أبدا أول الناس ورودا عليه فقراء المهاجرين الشعث رءوسا الدنس ثيابا الذين لا ينكحون المتنعمات ولا تفتح لهم السدد قال عمر لكني نكحت ا
سنن ابن ماجه
4303
حوضي ما بين عدن إلى أيلة أشد بياضا من اللبن أحلى من العسل أوانيه كعدد نجوم السماء من شرب منه شربة لم يظمأ بعدها أبدا أول من يرده علي فقراء المهاجرين الدنس ثيابا والشعث رءوسا الذين لا ينكحون المنعمات ولا يفتح لهم السدد
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4303 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4303
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
غریب و گم نام مسلمان اگر نیک ہے تو اللہ کے ہاں ان کا بڑا مقام ہے۔

(2)
اگر اللہ تعالی دولت دے تو زیب و زینت فخر و مباہات کے بجائے سادگی اختیار کرنا درجا ت کی بلندی کا باعث ہے۔

(3)
دروازے کھولے جانے کا مطلب یہ ھے کہ دنیا میں بلند مقام کی وجہ سے سب لوگ ان کا احترام کرتے ہیں اور جس کے پاس جائیں وہ دروازہ کھول کر ان کا استقبال کرتا ہے۔
۔
جبکہ غریب آدمی سے اس کے بر عکس سلوک ہوتا ہے۔

(4)
میلے پراگندہ با ل رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ مناسب صفائی ستھرائی کا خیال نہ رکھا جائے۔
بلکہ یہ مطلب ھے کہ زیب و زینت میں حد سے زیادہ انہماک نہ ہو۔

(5)
حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ خلیفہ ہونے کے باوجود علم حدیث کا اتنا شوق رکھتے تھے کہ جس عالم کے بارے میں انہیں معلوم ہوا کہ اسے کوئی حدیث یاد ہے تو اس سے استفادہ کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھا۔
مسلمان حکمرانوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔

(6)
علمائے کرام کا فرض ہے کہ دین سے محبت کرنے والے حکام کا احترام کریں۔
اور ان کے احکام کی تعمیل کی پوری کوشش کریں
(7)
عمر بن عبدالعزیز ؒ نے یہ حکم نہیں بھیجا تھا کہ فورا پہنچیں لیکن ابو سلام ؒ نے اطاعت امیر میں مشقت اٹھا کر جلد از جلد پہنچنے کی کوشش کی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4303]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2444
حوض کوثر کے برتنوں کے وصف کا بیان۔
ابو سلام حبشی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے میرے پاس بلاوے کا پیغام بھیجا، چنانچہ میں ڈاک سواری خچر پر سوار ہو کر آپ کے پاس پہنچا، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! ڈاک سواری خچر کی سواری مجھ پر شاق گزری تو انہوں نے کہا: ابو سلام! میں تمہیں تکلیف دینا نہیں چاہتا تھا، لیکن میں نے تمہارے بارے میں یہ سنا ہے کہ تم ثوبان رضی الله عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کے بارے میں ایک حدیث روایت کرتے ہو، چنانچہ میری یہ خواہش ہوئی کہ وہ حدیث تم سے براہ راست سن لوں، ابو سلام نے کہا: ثوبان رضی الله عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2444]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں انقطاع ہے،
لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر اس کا مرفوع حصہ صحیح ہے،
تفصیل کے لیے دیکھیے:
الصحیحة رقم: 1082)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2444]