🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب : ما جاء في مسح الرأس
باب: سر کے مسح کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 438
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَتْ:" تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّتَيْنِ".
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے سر کا مسح دوبار کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15846)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 50 (126)، سنن الترمذی/الطہارة 25 (33)، مسند احمد (6/360) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: دوبارسے مراد آگے سے پیچھے لے جانا، اور پیچھے سے آگے لانا ہے، فی الواقع یہ ایک ہی مسح ہے، راوی نے اس کی ظاہری شکل دیکھ کر اس کی تعبیر مرتین (دو بار) سے کردی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (126) ترمذي (33)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الربيع بنت معوذ الأنصاريةصحابي
👤←👥عبد الله بن عقيل الهاشمي، أبو محمد
Newعبد الله بن عقيل الهاشمي ← الربيع بنت معوذ الأنصارية
مقبول
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عبد الله بن عقيل الهاشمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← علي بن محمد الكوفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
33
مسح برأسه مرتين بدأ بمؤخر رأسه ثم بمقدمه وبأذنيه كلتيهما ظهورهما وبطونهما
جامع الترمذي
34
مسح رأسه ومسح ما أقبل منه وما أدبر وصدغيه وأذنيه مرة واحدة
سنن أبي داود
126
غسل كفيه ثلاثا ووضأ وجهه ثلاثا ومضمض واستنشق مرة ووضأ يديه ثلاثا ثلاثا ومسح برأسه مرتين بمؤخر رأسه ثم بمقدمه وبأذنيه كلتيهما ظهورهما وبطونهما ووضأ رجليه ثلاثا ثلاثا
سنن أبي داود
128
توضأ عندها فمسح الرأس كله من قرن الشعر كل ناحية لمنصب الشعر لا يحرك الشعر عن هيئته
سنن أبي داود
129
مسح رأسه ومسح ما أقبل منه وما أدبر وصدغيه وأذنيه مرة واحدة
سنن أبي داود
130
مسح برأسه من فضل ماء كان في يده
سنن أبي داود
131
توضأ فأدخل إصبعيه في حجري أذنيه
سنن ابن ماجه
390
اسكبي فسكبت فغسل وجهه وذراعيه وأخذ ماء جديدا فمسح به رأسه مقدمه ومؤخره وغسل قدميه ثلاثا ثلاثا
سنن ابن ماجه
418
توضأ ثلاثا ثلاثا
سنن ابن ماجه
438
توضأ رسول الله فمسح رأسه مرتين
سنن ابن ماجه
440
توضأ فمسح ظاهر أذنيه وباطنهما
سنن ابن ماجه
441
توضأ النبي فأدخل إصبعيه في جحري أذنيه
سنن ابن ماجه
458
توضأ وغسل رجليه
سنن الدارمي
713
يأتينا في منزلنا فآخذ ميضأة لنا تكون مدا وثلث مد أو ربع مد فأسكب عليه فيتوضأ ثلاثا ثلاثا
المعجم الصغير للطبراني
153
توضأ ومسح برأسه مرة
مسندالحميدي
345
بهذا كنت أخرج لرسول الله صلى الله عليه وسلم الوضوء فيبدأ فيغسل يديه ثلاثا قبل أن يدخلهما الإناء، ثم يتمضمض ويستنثر ثلاثا ثلاثا، ويغسل وجهه ثلاثا، ثم يغسل يديه ثلاثا ثلاثا، ثم يمسح برأسه مقبلا ومدبرا، ويغسل رجليه ثلاثا ثلاثا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 438 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث438
اردو حاشہ:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ یہی روایت ابن عفراء رضی اللہ عنہ سے سنن ابو داؤد میں بھی ہے اور وہاں ہمارے فاضل محقق نے حسن قراردیا ہے علاوہ ازیں مذکورہ روایت کو شیخ البانی ؒ نے بھی حسن قراردیا ہے۔
بہرحال یہ روایت قابل حجت اور قابل عمل ہے۔

(2)
اس روایت میں سر کے مسح کو دوبار کرنے کا ذکر ہے جوکہ بیان جواز کے لیے ہے۔
بعض کا قول ہے کہ یہ روای کی تعبیر ہے۔
راوی کا مطلب ہے کہ ایک بار ہاتھ پیچھے سے آگے کو لائےاور دوسری بار آگے سے پیچھے کو لیکن پہلی بات زیادہ درست ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 438]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 126
مسح کی ابتدا
«. . . عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا، فَحَدَّثَتْنَا أَنَّهُ قَالَ: اسْكُبِي لِي وَضُوءًا، فَذَكَرَتْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ فِيهِ:" فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَوَضَّأَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّةً، وَوَضَّأَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ بِمُؤَخَّرِ رَأْسِهِ ثُمَّ بِمُقَدَّمِهِ وَبِأُذُنَيْهِ كِلْتَيْهِمَا ظُهُورِهِمَا وَبُطُونِهِمَا، وَوَضَّأَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا . . .»
. . . ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس (اکثر) تشریف لایا کرتے تھے تو ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے وضو کا پانی لاؤ، پھر ربیع نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کیا اور کہا کہ (پہلے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے تین بار دھوئے، اور چہرے کو تین بار دھویا، کلی کی، ایک بار ناک میں پانی ڈالا اور دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، دو بار سر کا مسح کیا، پہلے سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا، پھر اگلے حصہ سے، پھر اپنے دونوں کانوں کی پشت اور ان کے اندرونی حصہ کا مسح کیا اور دونوں پیر تین تین بار دھوئے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 126]
فوائد و مسائل:
اس روایت میں سر کے مسح کو دو بار کہا گیا ہے، جو کہ بیان کے جواز کے لیے ہے۔ بعض کا قول ہے کہ راوی کی تعبیر ہے، راوی کا مطلب ہے کہ ایک بار ہاتھ پیچھے سے آگے کو لائے اور دوسری بار آگے سے پیچھے کو لیکن پہلی بات زیادہ درست ہے، دوسرا اس میں مسح کی ابتداء سر کے آخری حصے سے بتلائی گئی ہے جو دوسری روایات کے خلاف ہے، اس لیے یہ روایت صحیح حدیث کے معارض ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ لیکن مذکورہ بالا دونوں احتمال کمزور ہیں۔ کیونکہ یہ حدیث حسن درجے کی ہے، اس میں اور ایک مسح والی روایت میں کوئی تضاد نہیں بلکہ تطبیق ممکن ہے اور وہ یوں ہے کہ اس کو کبھی کبھار پر محمول کر لیا جائے۔ «والله أعلم»
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 126]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 128
سر کے مسح کا ایک طریقہ
«. . . عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ عِنْدَهَا، فَمَسَحَ الرَّأْسَ كُلَّهُ مِنْ قَرْنِ الشَّعْرِ كُلِّ نَاحِيَةٍ لِمُنْصَبِّ الشَّعْرِ لَا يُحَرِّكُ الشَّعْرَ عَنْ هَيْئَتِهِ . . .»
. . . ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس وضو کیا، تو پورے سر کا مسح کیا، اوپر سے سر کا مسح شروع کرتے تھے اور ہر کونے میں نیچے تک بالوں کی روش پر ان کی اصل ہیئت کو حرکت دیے بغیر لے جاتے تھے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 128]
فوائد و مسائل:
حدیث میں مذکور سر کے مسح کا یہ طریقہ ان لوگوں کے لیے ہے جن کے بال لمبے ہوں (یعنی پٹے بال) جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے، عورتوں کے بال بھی لمبے ہوتے ہیں، وہ بھی اس طریقے سے سر کا مسح کر سکتی ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 128]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 130
سر کا مسح
«. . . عَنِ الرُّبَيِّعِ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مِنْ فَضْلِ مَاءٍ كَانَ فِي يَدِهِ . . .»
. . . ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے بچے ہوئے پانی سے اپنے سر کا مسح کیا . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 130]
فوائد و مسائل:
بعض علماء کے نزدیک اس راوی کی حدیث میں اضطراب ہے، کیونکہ یہی روایت ابن ماجہ میں ہے تو اس میں نیا پانی لینے کی صراحت ہے اور بعض نے یہ توجیہ کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نیا پانی لیا اور آدھا گرا دیا اور پھر ہاتھوں کی تری سے سر کا مسح کیا۔ [عون المعبود]
بہرحال صحیح روایت سے سر کے مسح کے لیے نئے پانی کا لینا ثابت ہے اور وہی صحیح ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 130]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث390
وضو میں کسی سے مدد لینے کا بیان جو اس پر پانی ڈالے۔
ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا برتن لے کر آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی ڈالو ۱؎، میں نے پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے اور نیا پانی لے کر سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 390]
اردو حاشہ:
(1)
حضرت ربیع رضی اللہ عنہ صغار صحابیات میں سے ہیں، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں کم سن تھیں۔
انصار کے قبیلہ بنو نجار سے تعلق تھا۔
ان کے والد حضرت معوذ ابن عفراء رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں شریک تھے،
(2)
ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے لیکن دیگر شواہد کی بناء پر حدیث میں مذکور جملے (أَخَذَ مَاءً جَدِيْداً)
کے سوا باقی روایت قابل حجت ہے۔
علاوہ ازیں شیخ البانی ؒنے بھی اس روایت کی بابت یہی حکم لگایا ہے۔ دیکھیے: (صحیح ابوداؤد، حدیث: 122، 117)

(3)
پورے سر کا مسح کرنا مسنون ہے جیسا کہ صحیح روایت میں بیان ہوا ہے۔
اس میں سر کے اگلے اور پچھلے حصے کے مسح کرنے کا بیان ہے، اس سے مراد پورے سر کا مسح ہی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 390]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث458
وضو میں دونوں پاؤں کے دھونے کا بیان۔
ربیع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس ابن عباس رضی اللہ عنہما آئے، اور انہوں نے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، اس سے وہ اپنی وہ حدیث مراد لے رہی تھیں جس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے دونوں پیر دھوئے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگ پاؤں کے دھونے ہی پر مصر ہیں جب کہ میں قرآن کریم میں پاؤں کے صرف مسح کا حکم پاتا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 458]
اردو حاشہ:
(1)
قرآن مجید میں ہے:
﴿فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ ﴾ (المائده: 6)
اس میں متواتر روایت ﴿أَرْجُلَكُمْ﴾ (لام مفتوح)
ہے جس کا عطف ﴿وُجُوهَكُمْ﴾ پر ہے۔
یعنی جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اپنے منہ اور کہنیون تک ہاتھ دھوؤ اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پیر ٹخنوں تک دھوؤ۔
لیکن ایک شاذ قراءت ﴿أَرْجُلِكُمْ﴾ (لام مكسور)
ہےاس صورت میں اس کا عطف ﴿بِرُءُوسِكُمْ﴾  پر ہوگا اور معنی ہونگے اپنے سروں اور پیروں کا مسح کرو۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی باتاس شاذ قرات پر مبنی ہوسکتی تھی۔
چونکہ یہ روایت ہی صحیح نہیں ہے۔
اسی لیے شیخ البانی ؒنے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول کو منکر قراردیا ہے۔
صحیح بات متواتر قرات کے مطابق ہی اس آیت کا مفہوم ہے اور اس کی رو سے قرآن میں پیروں کے دھونے کا ہی ذکر ہے نہ کہ مسح کرنے کا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 458]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 33
مسح سر کے پچھلے حصہ سے شروع کرنے کا بیان​۔
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سر کا دو مرتبہ ۱؎ مسح کیا، آپ نے (پہلے) اپنے سر کے پچھلے حصہ سے شروع کیا ۲؎، پھر (دوسری بار) اس کے اگلے حصہ سے اور اپنے کانوں کے اندرونی اور بیرونی دونوں حصوں کا مسح کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 33]
اردو حاشہ:
1؎:
حقیقت میں یہ ایک ہی مسح ہے آگے اور پیچھے دونوں کو راوی نے الگ الگ مسح شمار کر کے اسے ((مَرَّتَيْنِ)) دوبار سے تعبیر کیا ہے۔

2؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سر کا مسح سر کے پچھلے حصہ سے شروع کیا جائے،
لیکن عبداللہ بن زید کی متفق علیہ روایت جو اوپر گزری اس کے معارض اور اس سے زیادہ صحیح ہے،
کیونکہ ربیع کی حدیث میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل متکلم فیہ ہیں اور اگر اس کی صحت مان بھی لی جائے تو ممکن ہے آپ نے بیان جواز کے لیے ایسا بھی کیا ہو۔

3؎:
یہ مرجوح مذہب ہے،
راجح سر کے اگلے حصہ ہی سے شروع کرنا ہے،
جیسا کہ سابقہ حدیث میں گزرا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 33]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 34
سر کا مسح صرف ایک بار ہے۔
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ نے اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، اگلے حصہ کا بھی اور پچھلے حصہ کا بھی اور اپنی دونوں کنپٹیوں اور کانوں کا بھی۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 34]
اردو حاشہ:
1؎:
اس باب سے مؤلف ان لوگوں کا رد کرنا چاہتے ہیں جو تین بار مسح کے قائل ہیں۔

2؎:
امام ترمذی نے امام شافعی سے ایسا ہی نقل کیا ہے،
مگر بغوی نے نیز تمام شافعیہ نے امام شافعی کے بارے میں تین بار مسح کرنے کا قول نقل کیا ہے،
عام شافعیہ کا عمل بھی تین ہی پر ہے،
مگر یا تو یہ دیگر اعضاء پر قیاس ہے جو نص صریح کے مقابلہ میں صحیح نہیں ہے،
یا کچھ ضعیف حدیثوں سے تمسک ہے (نیز صحیحین کی دیگراحادیث میں صرف ایک پر اکتفاء کی صراحت ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 34]