🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. باب : ما جاء في الوضوء على ما أمر الله تعالى
باب: اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وضو کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 459
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ يُحَدِّثُ، أَبَا بُرْدَةَ فِي الْمَسْجِدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ فَالصَّلَوَاتُ الْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کامل وضو کیا، تو اس کی فرض نماز ایک نماز سے دوسری نماز تک کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 459]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطہارة 4 (231)، سنن النسائی/ الطہارة 108 (145)، (تحفة الأشراف: 9789)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 24 (160)، مسند احمد (1/57، 66، 69) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عثمان بن عفان، أبو عمروصحابي
👤←👥حمران بن أبان النمري
Newحمران بن أبان النمري ← عثمان بن عفان
صدوق حسن الحديث
👤←👥جامع بن شداد المحاربي، أبو صخرة
Newجامع بن شداد المحاربي ← حمران بن أبان النمري
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← جامع بن شداد المحاربي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
145
من أتم الوضوء كما أمره الله الصلوات الخمس كفارات لما بينهن
صحيح مسلم
547
من أتم الوضوء كما أمره الله الصلوات المكتوبات كفارات لما بينهن
صحيح مسلم
546
ما من مسلم يتطهر فيتم الطهور الذي كتب الله عليه يصلي هذه الصلوات الخمس إلا كانت كفارات لما بينها
سنن ابن ماجه
459
من أتم الوضوء كما أمره الله الصلوات المكتوبات كفارات لما بينهن
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 459 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث459
اردو حاشہ:
فلئدہ:
اس قسم کی احادیث سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ نمازی جتنے بھی گناہ کرتا رہے کوئی حرج نہیں کیونکہ نماز کے آداب اور خشوع وخضوع میں کمی سے گناہوں کی معافی میں بھی کمی آجاتی ہے۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی برے گناہ کی وجہ سے نماز کی توفیق ہی نہ حاصل رہے بلکہ بعض اوقات نماز اتنی ناقص ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان اللہ تعالی كا قرب حاصل کرنے کے بجائے اللہ تعالی کو مزید ناراض کرلیتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 459]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 546
حمران بن ابان بیان کرتے ہیں: میں عثمان ؓ کے وضو کے لیے پانی رکھا کرتا تھا، وہ ہر دن کچھ پانی سے غسل فرماتے تھے۔ عثمان ؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس نماز سے (مسعر نے کہا: میرا خیال ہے عصر مراد ہے) سلام پھیرنے کے بعد کہا: میں نہیں جانتا تم سے کچھ بیان کروں یا چپ رہوں؟ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! اگر بہتری و بھلائی کی بات ہے، تو ہمیں بتا دیجیے! اور اگر کچھ اور ہے، تو اللہ اور اس کا رسول ؐہی بہتر... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:546]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
نُطْفَةٌ﷩:
تھوڑا سا پانی۔
(2)
يُفِيضُ عَلَيْهِ:
اپنے اوپر بہاتے،
یعنی غسل کرتے۔
(3)
مَا أَدْرِي:
میں فیصلہ نہیں کر پایا،
کہ اس بات کو بیان کرنا مفید ہے یا نہیں،
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بہتر سمجھا،
کہ طہارت و نماز کی ترغیب و تشویق کے لیے اس کو بیان کر دیا جائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 546]