🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. باب : الوضوء من النوم
باب: جاگنے کے بعد وضو کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 477
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْعَيْنُ وِكَاءُ السَّهِ، فَمَنْ نَامَ فَلْيَتَوَضَّأْ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آنکھ سرین کا بندھن ہے، لہٰذا جو سو جائے وہ وضو کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 477]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آنکھیں سرین کا بندھن ہیں، لہٰذا جو شخص سو جائے، اسے چاہیے کہ وضو کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 80 (203)، (تحفة الأشراف: 10208)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/97، 118، 150) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (203)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 395


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن عائذ الأزدي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله
Newعبد الرحمن بن عائذ الأزدي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة
👤←👥محفوظ بن علقمة الحضرمي، أبو جنادة
Newمحفوظ بن علقمة الحضرمي ← عبد الرحمن بن عائذ الأزدي
ثقة
👤←👥الوضين بن عطاء الخزاعي، أبو كنانة، أبو عبد الله
Newالوضين بن عطاء الخزاعي ← محفوظ بن علقمة الحضرمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥بقية بن الوليد الكلاعي، أبو يحمد
Newبقية بن الوليد الكلاعي ← الوضين بن عطاء الخزاعي
صدوق كثير التدليس عن الضعفاء
👤←👥محمد بن المصفى القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن المصفى القرشي ← بقية بن الوليد الكلاعي
صدوق له أوهام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
203
وكاء السه العينان فمن نام فليتوضأ
سنن ابن ماجه
477
العين وكاء السه فمن نام فليتوضأ
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 477 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث477
اردو حاشہ:
(1)
  تھیلی میں اشرفیاں وغیرہ ڈال کراس کا منہ جس دھاگے یا رسی وغیرہ سے باندھا جاتا ہے اسے وِکَاء کہتے تھے۔
جب تک وِکَاء نہ کھولا جائے تھیلی میں سے کوئی چیز نہیں نکل سکتی۔
گویا وہ تھیلی کے اندر کی چیزوں کا محافظ ہے۔
اسی طرح بیداری کی حالت میں انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا وضو قائم ہے یا ہوا خارج ہونے کی وجہ سے ٹوٹ گیا ہے۔
جب آنکھیں نیند سے بند ہوجائیں تو جسم پر کنٹرول نہیں رہتا گویا بندھن کھل جاتا ہےاور ہوا خارج ہونے کا احساس نہیں ہوتا، اسلیے نیند ہی کو وضو توڑنے والا قراردیا گیا ہے۔

(2)
نیند عام حالات میں وضو ٹوٹنے کا باعث بنتی ہے اس لیے نیند سے وضو کا حکم دیا گیا ہے۔
اسی طرح شریعت میں بعض دوسرے احکام میں بھی ایک چیز کا باعث بننے والی شے کو اسی چیز والا حکم دے دیا جاتا ہے تاکہ انسان شکوک وشبہات کا شکار نہ رہے، مثلاً:
ایک مشروب زیادہ مقدار میں پینے سے نشہ ہوتا ہے تو اس کی کم مقدار کو بھی حرام قراردیا گیا ہے۔
تاکہ ایسا نہ ہو انسان یہ تصور کرے کہ فلان شراب کا ایک گلاس پینے سے نشہ نہیں ہوگا، پھر یہ سوچ کر ایک گلاس پی لے اور اسے نشہ ہوجائے، اس لیے ایک گلاس بھی حرام ہے اگرچہ نشہ نہ ہو۔

(3)
شیخ البانی ؒ نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 477]

Sunan Ibn Majah Hadith 477 in Urdu