سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
130. . باب في مؤاكلة الحائض
باب: حائضہ عورت کے ساتھ کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 651
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ:" سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ؟ فَقَالَ:" وَاكِلْهَا".
عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے متعلق پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ساتھ کھاؤ“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 83 (212)، سنن الترمذی/الطہارة 100 (133)، (تحفة الأشراف: 5326)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/293)، سنن الدارمی/الطہارة 108 (1113) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
133
| عن مواكلة الحائض فقال واكلها |
سنن ابن ماجه |
651
| عن مؤاكلة الحائض فقال واكلها |
سنن أبي داود |
212
| لك ما فوق الإزار |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 651 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث651
اردو حاشہ:
اس مسئلہ کی وضاحت حدیث: 643 کے تحت گزرچکی ہے۔
اس مسئلہ کی وضاحت حدیث: 643 کے تحت گزرچکی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 651]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 133
حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جھوٹے کا بیان۔
عبداللہ بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اس کے ساتھ کھاؤ“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 133]
عبداللہ بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اس کے ساتھ کھاؤ“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 133]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث آیت کریمہ:
﴿فَاعْتَزِلُواْ النِّسَاء فِي الْمَحِيضِ﴾ [ البقرة: 222] کے معارض نہیں کیونکہ آیت میں جدا رہنے سے مراد وطی سے جدا رہنا ہے۔
1؎:
یہ حدیث آیت کریمہ:
﴿فَاعْتَزِلُواْ النِّسَاء فِي الْمَحِيضِ﴾ [ البقرة: 222] کے معارض نہیں کیونکہ آیت میں جدا رہنے سے مراد وطی سے جدا رہنا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 133]
حرام بن حكيم الأنصاري ← عبد الله بن خالد القرشي