🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : أبواب مواقيت الصلاة
باب: اوقات نماز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 667
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ:" صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَر َبِلالا فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْيَوْمِ الثَّانِي أَمَرَهُ فَأَذَّنَ الظُّهْرَ فَأَبْرَدَ بِهَا وَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَ مَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَصَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا"، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: آنے والے دو دن ہمارے ساتھ نماز پڑھو، چنانچہ (پہلے دن) جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر ان کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی ۱؎، پھر ان کو حکم دیا، انہوں نے نماز عصر کی اقامت کہی، اس وقت سورج بلند، صاف اور چمکدار تھا ۲؎، پھر جب سورج ڈوب گیا تو ان کو حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، پھر جب شفق ۳؎ غائب ہو گئی تو انہیں حکم دیا، انہوں نے عشاء کی اقامت کہی، پھر جب صبح صادق طلوع ہوئی تو انہیں حکم دیا، تو انہوں نے فجر کی اقامت کہی، جب دوسرا دن ہوا تو آپ نے ان کو حکم دیا، تو انہوں نے ظہر کی اذان دی، اور ٹھنڈا کیا اس کو اور خوب ٹھنڈا کیا (یعنی تاخیر کی)، پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ سورج بلند تھا، پہلے روز کے مقابلے میں دیر کی، پھر مغرب کی نماز شفق کے غائب ہونے سے پہلے پڑھائی، اور عشاء کی نماز تہائی رات گزر جانے کے بعد پڑھائی اور فجر کی نماز اجالے میں پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟، اس آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری نماز کا وقت ان اوقات کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 667]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسا جد 31 (613)، سنن الترمذی/الصلا ة 1 (152)، سنن النسائی/المو اقیت 12 (520)، (تحفة الأشراف: 1931)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/349) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: پہلے روز سورج ڈھلتے ہی ظہر کی اذان دلوائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی اس سے معلوم ہوا کہ ظہر کا اول وقت زوال یعنی سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے۔ ۲؎: یعنی ابھی اس میں زردی نہیں آئی تھی ۳؎: شفق اس سرخی کو کہتے ہیں جو سورج ڈوب جانے کے بعد مغرب (پچھم) میں باقی رہتی ہے، اور عشاء سے ذرا پہلے تک برقرار رہتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥سليمان بن بريدة الأسلمي
Newسليمان بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥علقمة بن مرثد الحضرمي، أبو الحارث
Newعلقمة بن مرثد الحضرمي ← سليمان بن بريدة الأسلمي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← علقمة بن مرثد الحضرمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥مخلد بن يزيد الحراني، أبو خالد، أبو خداش، أبو الحسن، أبو يحيى، أبو الجيش
Newمخلد بن يزيد الحراني ← سفيان الثوري
ثقة
👤←👥علي بن ميمون العطار، أبو الحسن
Newعلي بن ميمون العطار ← مخلد بن يزيد الحراني
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← علي بن ميمون العطار
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥إسحاق بن يوسف الأزرق، أبو محمد
Newإسحاق بن يوسف الأزرق ← سفيان الثوري
ثقة مأمون
👤←👥أحمد بن سنان القطان، أبو جعفر
Newأحمد بن سنان القطان ← إسحاق بن يوسف الأزرق
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن الصباح الجرجرائي، أبو جعفر
Newمحمد بن الصباح الجرجرائي ← أحمد بن سنان القطان
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
520
أمر بلالا فأقام عند الفجر فصلى الفجر ثم أمره حين زالت الشمس فصلى الظهر
صحيح مسلم
1391
أمره فأقام العصر والشمس مرتفعة بيضاء نقية أمره فأقام المغرب حين غابت الشمس أمره فأقام العشاء حين غاب الشفق أمره فأقام الفجر حين طلع الفجر
صحيح مسلم
1392
أمر بلالا فأذن بغلس فصلى الصبح حين طلع الفجر
جامع الترمذي
152
أقام حين زالت الشمس فصلى الظهر
سنن ابن ماجه
667
لما زالت الشمس أمر بلالا فأذن ثم أمره فأقام الظهر أمره فأقام العصر والشمس مرتفعة بيضاء نقية أمره فأقام المغرب حين غابت الشمس أمره فأقام العشاء حين غاب الشفق أمره فأقام الفجر حين طلع الفجر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 667 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث667
اردو حاشہ:
(1)
اوقات کی تعلیم کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر اول اور آخر وقت میں نمازیں پڑھ کر دکھائیں۔
اس سے تعلیم میں عملی اسوہ کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

(2)
نماز میں افضل یہ ہے کہ اول وقت میں ادا کی جائے لیکن آخری وقت میں بھی ادا کرنے سے ادا ہوجاتی ہے۔

(3)
تعلیم کے لیے یا کسی اور جائز مقصد کے پیش نظر افضل کام کو چھوڑ کر غیر افضل جائز کام اختیار کیا جا سکتا ہے لیکن اسے مستقل عادت بنانا درست نہیں۔

(4)
نماز ظہر کا وقت سورج ڈھلتے ہی شروع ہوجاتا ہے۔
ڈھلنے کا مطلب یہ ہے کہ سورج اپنی سب سے زیادہ بلندی تک پہنچ کر نیچے آنا شروع ہوجائے۔
اس کا اندازہ سائے سے ہوتا ہے جب کہ دیوار وغیرہ کا سایہ مشرق کی طرف زمین پر آجائے۔

(5)
ظہر کی نماز ٹھنڈی کر نے کا مطلب یہ ہے کہ گرمی کی شدت کم ہونے کا انتظار کیا جائے۔
موسم گرما میں دوپہر کو بہت شدت کی گرمی ہوتی ہے۔
اس لیے زوال کے فورا بعد نماز پڑھنے کے بجائے کچھ ٹھر کر ادا کی جاسکتی ہے البتہ سردی کے موسم میں انتظار کی ضرورت نہیں،
(6)
اس حدیث میں عصر کا وقت دونوں دنوں میں ملتے جلتے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے یعنی فرمایا گیا ہے کہ سورج بلند تھا بلندی کی وضاحت آئندہ احا دیث سے ہوگی۔

(7)
مغرب کا وقت سورج کی ٹکیا افق سے غائب ہونے پر شروع ہوتا ہے اور شفق ختم ہونے پر ختم ہوجاتا ہے۔
شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو سورج غروب ہونے کے بعد مغرب کی طرف آتی ہے۔

(8)
عشاء کا وقت شفق غروب ہونے سے شروع ہوتا ہے۔
اس کا آخری وقت ا س حدیث کی روشنی میں تہائی رات معلوم ہوتا ہے۔
بعض دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عشاء کی نماز آدھی رات تک ادا کی جا سکتی ہے مثلاً:
صحیح مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی حدیث موجود ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے اوقات بیان کرتے ہوئے عشاء کی نماز کے بارے میں فرمایا:
(وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ اِليٰ نِصْفِ الَّيْل) (صحيح مسلم، المساجد، باب أوقات الصلوت الخمس، حديث: 612)
اور عشاء كی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے۔

(9)
فجر کی نماز کا وقت صبح صادق سے شروع ہوتا ہے لیکن سورج طلوع ہونے سے پہلے پہلے پڑھ لینی چاہیے البتہ کسی عذر کی بناء پر تاخیر ہو جائے تو سورج طلوع ہونے سے پہلے ایک رکعت ادا ہو جائے تو بروقت ادائیگی ہی سمجھی جائے گی۔
ارشاد نبوی ہے:
جسے سورج نکلنے سے پہلے نماز صبح کی ایک رکعت مل گئی اسے صبح کی نماز مل گئی اور جسے سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت مل گئی اسے عصر کی نماز مل گئی۔ (صحيح البخاري، مواقيت الصلاة، باب من أدرك من الفجر ركعة، حديث: 579 وصحيح مسلم، المساجد، باب من أدرك ركعة من الصلوة فقد أدرك تلك الصلاۃ، حدیث: 608)

(10)
نماز کے اوقات ان دو ایام میں ادا شدہ نمازوں کے اوقات کے درمیان میں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہر نماز کے ابتدائی اور آخری اوقات بتا دیے گیے ہیں جو شخص ان دو اوقات کے درمیان کسی وقت نماز ادا کرلے گا اس کی نماز ادا ہوجائے گی۔
اس کا یہ مطلب نہیں سمجھنا چاہیےکہ اول وقت کو چھوڑ کر وقت کی ابتداء اور انتہاء کے عین درمیان کے وقت کو نماز کے لیے متعین کردیا جائے کیونکہ اگر یہ مطلب قرار دیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صرف درمیان کے تھوڑے سے وقت میں نماز ادا کرنی چاہیے۔
اس طرح نماز کے اوقات میں جو گنجائش ہے وہ ختم ہوجائے گی مثلاً اگر مذکورہ دو دنوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پہلے دن تین بجے ادا کی ہواور دوسرے دن پانچ بجے تو اس جملہ سے یہ مطلب لینا درست نہیں کہ صحیح وقت چار بجے ہے ورنہ یہ لازم آئے گا کہ ان دونوں دنوں میں نمازیں بے وقت ادا ہوئیں۔
اور یہ بات صریحاً غلط ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 667]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 520
مغرب کے اول وقت کا بیان۔
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: تم یہ دو دن ہمارے ساتھ قیام کرو، آپ نے بلال کو حکم دیا، تو انہوں نے فجر طلوع ہوتے ہی اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، پھر آپ نے جس وقت سورج ڈھل گیا، انہیں اقامت کہنے کا حکم دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر جس وقت دیکھا کہ سورج ابھی سفید ہے ۱؎ آپ نے انہیں اقامت کہنے کا حکم دیا، تو انہوں نے عصر کی تکبیر کہی، پھر جب سورج کا کنارہ ڈوب ہو گیا، تو آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، پھر جب شفق ۲؎ غائب ہو گئی، تو آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی، پھر دوسرے دن انہیں حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت خوب اجالا ہو جانے پر کہی، پھر ظہر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب ٹھنڈا کر کے پڑھا، پھر عصر پڑھائی جب کہ سورج سفید (روشن) تھا، لیکن پہلے دن سے کچھ دیر ہو گئی تھی، پھر مغرب شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھائی، پھر بلال کو حکم دیا، تو انہوں نے عشاء کی اقامت اس وقت کہی جب تہائی رات گزر گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھائی، پھر فرمایا: نماز کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟ تمہاری نمازوں کا وقت ان کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 520]
520 ۔ اردو حاشیہ:
➊اس سے ملتی جلتی کئی روایات گزر چکی ہیں۔ ایک حدیث کے اجمال کو دوسری کی تفصیل سے حل کیا جا سکتا ہے۔
➋مغرب کی نماز کے اول وقت کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ غروب شمس اور آخری وقت غیوب شفق ہے۔
➌دین کے ضروری مسائل سے آگہی ہر مسلمان پر فرض ہے، لہٰذا خوب اہتمام اور ذوق شوق سے انہیں سیکھنا چاہیے۔
➍اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر نماز کا ایک افضل وقت ہے اور ایک وقت جوازواختیار۔
➎عملی مشق، وضاحت کا بلیغ ترین نمونہ ہے۔
➏کسی مصلحت شرعیہ کے پیش نظر نماز کو اول وقت سے مؤخر کرنا جائز ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 520]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1391
حضرت سلیمان بن بریدہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے پاب سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے وقت کے بارے میں سوال کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ہمارے ساتھ دو دن نماز پڑھو۔ جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو اذان کہنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا تو اس نے ظہر کے لیے تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عصر کا وقت ہونے پر) بلال صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا تو انہوں نے (پہلے اذان دی پھر) عصر کے لیے اقامت کہی۔ (اور یہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1391]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
أَبْرَدَ:
ٹھنڈے وقت میں داخل کیا۔
(2)
أَنْعَمَ أَن يُبْرٍدَ:
اس کو خوب ٹھنڈا کیا۔
فوائد ومسائل:
سائل کو نماز کے اوقات کی ابتدا اور انتہا اول و آخر سمجھانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبانی تعلیم و تفہیم کے بجائے عمل کر کے دکھایا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا:
آج اور کل دو دن ہمارے ساتھ پانچوں نمازوں میں شریک ہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دن ہر نماز اول وقت میں ادا فرمائی اور دوسرے دن جائز حد تک مؤخر کیا اور اس کے بعد اسے فرمایا نمازوں کو ان اوقات کے اندر پڑھو جن میں تم نے ہمیں نماز پڑھتے دیکھا ہے اور دوسرے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز وقت مستحب پر پڑھی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1391]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1392
حضرت سلیمان بن بریدہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے پاب سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نمازوں میں ہمارے ساتھ حاضر ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال ؓ کو حکم دیا، اس نے غلس (اندھیرا) میں اذان کہی، جب فجر طلوع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، جب سورج آسمان کے درمیان سے مغرب کی طرف ڈھل گیا تو اسے ظہر کے بارے میں حکم دیا، سورج ابھی بلند ہی تھا کہ اسے عصر کے بارے میں حکم دیا، پھر... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1392]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
غَلَس:
رات کی آخری تاریکی،
جبکہ صبح کی سفیدی شروع ہو چکی ہو۔
(2)
وَجَبَتِ الشَّمسُ:
سورج غروب ہو گیا۔
(3)
وَقَعَ الشَّفَقُ:
شفق غروب ہوگیا۔
(4)
نَوَّرَ بِالصُّبحِ:
صبح کو روشن کیا،
روشنی پھیلنے پر نماز پڑھائی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1392]