علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب : المحافظة على صلاة العصر
باب: نماز عصر کی محافظت۔
حدیث نمبر: 686
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْس، فَقَالَ:" حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں نے ہمیں عصر کی نماز سے روکے رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 36 (628)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن سورة البقرة 3 (2985)، (تحفة الأشراف: 9549) وقد أخرجہ: مسند احمد (1/392، 403، 456) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
1426
| شغلونا عن الصلاة الوسطى صلاة العصر ملأ الله أجوافهم وقبورهم نارا أو قال حشا الله أجوافهم وقبورهم نارا |
سنن ابن ماجه |
686
| حبسونا عن صلاة الوسطى ملأ الله قبورهم وبيوتهم نارا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 686 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث686
اردو حاشہ:
(1)
اس سے معلوم ہو کہ درمیانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے جس کی تاکید قرآن مجید میں ان الفاظ میں وارد ہے:
﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ ﴾ (البقره: 238/2)
نمازوں کی حفاظت کرواور(خاص طور پر)
درمیانی نماز کی۔
(2)
نماز سے روکنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا حملہ جاری رہا جس کی وجہ سے ہم لوگ جنگ میں مشغول رہے اور نماز پڑھنے کا موقع نہ ملا۔
(3)
جہاد ایک عظیم عمل ہے جسے حدیث میں بجا طور پر اسلام کے کوہان کی بلندی فرمایا گیا ہے۔ (جامع الترمذی، الایمان، باب ماجاء فی حرمة الصلوۃ، حدیث: 2612)
لیکن جہاد کے اس عظیم ترین عمل میں مشغولیت بھی نماز چھوڑنے کا جواز نہیں بن سکتی۔
نماز کی اہمیت جہاد سے بھی بڑھ کر ہے۔
(1)
اس سے معلوم ہو کہ درمیانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے جس کی تاکید قرآن مجید میں ان الفاظ میں وارد ہے:
﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ ﴾ (البقره: 238/2)
نمازوں کی حفاظت کرواور(خاص طور پر)
درمیانی نماز کی۔
(2)
نماز سے روکنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا حملہ جاری رہا جس کی وجہ سے ہم لوگ جنگ میں مشغول رہے اور نماز پڑھنے کا موقع نہ ملا۔
(3)
جہاد ایک عظیم عمل ہے جسے حدیث میں بجا طور پر اسلام کے کوہان کی بلندی فرمایا گیا ہے۔ (جامع الترمذی، الایمان، باب ماجاء فی حرمة الصلوۃ، حدیث: 2612)
لیکن جہاد کے اس عظیم ترین عمل میں مشغولیت بھی نماز چھوڑنے کا جواز نہیں بن سکتی۔
نماز کی اہمیت جہاد سے بھی بڑھ کر ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 686]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1426
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز سے مشغول رکھا، یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے ہمیں درمیانی نماز عصر کی نماز سے مشغول رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے“، یا فرمایا: مَلَأَ اللهُ کی بجائے حَشَا اللہُ أَجْوَافَهُمْ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا فرمایا۔ مَلَا اور حَشَا دونوں کا معنی بھرنا ہے، اجواف اور بطون پیٹوں کو کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1426]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے نماز کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شغف اور شوق کا اظہار ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے تاخیر سے پڑھنے کا اتنا رنج اور قلق ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا باعث بننے والے مشرکوں کے خلاف دعا کی حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کی وادیوں میں پیغام توحید سنانے پر لہولہان کرنے،
دل آزار باتیں کہنے اور غنڈوں اور اوباشوں کے آوازیں کسنے پر ان کے خلاف دعا نہیں کی تھی،
اس طرح مشرکوں کے ہر قسم کے ظلم و ستم روا رکھنے پر ان کے خلاف دعا نہیں کی۔
لیکن غزوہ خندق کے موقعہ پر نماز کا وقت نکل جانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا لیکن آج ہماری حالت کیا ہے؟ بلا وجہ اور بلا عذر نمازیں چھوڑ دیتے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔
(2)
غزوہ خندق تک نماز خوف (جنگ کی نماز)
کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ والی نماز نہیں پڑھی تھی اور ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ الصلوۃ الوسطی کےمراد نماز عصر ہے۔
فوائد ومسائل:
(1)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے نماز کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شغف اور شوق کا اظہار ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے تاخیر سے پڑھنے کا اتنا رنج اور قلق ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا باعث بننے والے مشرکوں کے خلاف دعا کی حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کی وادیوں میں پیغام توحید سنانے پر لہولہان کرنے،
دل آزار باتیں کہنے اور غنڈوں اور اوباشوں کے آوازیں کسنے پر ان کے خلاف دعا نہیں کی تھی،
اس طرح مشرکوں کے ہر قسم کے ظلم و ستم روا رکھنے پر ان کے خلاف دعا نہیں کی۔
لیکن غزوہ خندق کے موقعہ پر نماز کا وقت نکل جانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا لیکن آج ہماری حالت کیا ہے؟ بلا وجہ اور بلا عذر نمازیں چھوڑ دیتے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔
(2)
غزوہ خندق تک نماز خوف (جنگ کی نماز)
کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ والی نماز نہیں پڑھی تھی اور ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ الصلوۃ الوسطی کےمراد نماز عصر ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1426]
Sunan Ibn Majah Hadith 686 in Urdu
مرة الطيب ← عبد الله بن مسعود