🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب : المحافظة على صلاة العصر
باب: نماز عصر کی محافظت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 686
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْس، فَقَالَ:" حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے ہمیں عصر کی نماز سے روکے رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 36 (628)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن سورة البقرة 3 (2985)، (تحفة الأشراف: 9549) وقد أخرجہ: مسند احمد (1/392، 403، 456) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مرة الطيب، أبو إسماعيل
Newمرة الطيب ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥زبيد بن الحارث اليامي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newزبيد بن الحارث اليامي ← مرة الطيب
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن طلحة اليامي، أبو عبد الله
Newمحمد بن طلحة اليامي ← زبيد بن الحارث اليامي
صدوق له أوهام
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← محمد بن طلحة اليامي
ثقة متقن
👤←👥يحيى بن حكيم المقوم، أبو سعيد
Newيحيى بن حكيم المقوم ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ مصنف
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← يحيى بن حكيم المقوم
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥حفص بن عمرو الربالي، أبو عمرو، أبو عمر
Newحفص بن عمرو الربالي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1426
شغلونا عن الصلاة الوسطى صلاة العصر ملأ الله أجوافهم وقبورهم نارا أو قال حشا الله أجوافهم وقبورهم نارا
سنن ابن ماجه
686
حبسونا عن صلاة الوسطى ملأ الله قبورهم وبيوتهم نارا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 686 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث686
اردو حاشہ:
(1)
اس سے معلوم ہو کہ درمیانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے جس کی تاکید قرآن مجید میں ان الفاظ میں وارد ہے:
﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ ﴾  (البقره: 238/2)
نمازوں کی حفاظت کرواور(خاص طور پر)
درمیانی نماز کی۔

(2)
نماز سے روکنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا حملہ جاری رہا جس کی وجہ سے ہم لوگ جنگ میں مشغول رہے اور نماز پڑھنے کا موقع نہ ملا۔

(3)
جہاد ایک عظیم عمل ہے جسے حدیث میں بجا طور پر اسلام کے کوہان کی بلندی فرمایا گیا ہے۔ (جامع الترمذی، الایمان، باب ماجاء فی حرمة الصلوۃ، حدیث: 2612)
لیکن جہاد کے اس عظیم ترین عمل میں مشغولیت بھی نماز چھوڑنے کا جواز نہیں بن سکتی۔
نماز کی اہمیت جہاد سے بھی بڑھ کر ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 686]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1426
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز سے مشغول رکھا، یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے ہمیں درمیانی نماز عصر کی نماز سے مشغول رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے، یا فرمایا: مَلَأَ اللهُ کی بجائے حَشَا اللہُ أَجْوَافَهُمْ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا فرمایا۔ مَلَا اور حَشَا دونوں کا معنی بھرنا ہے، اجواف اور بطون پیٹوں کو کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1426]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے نماز کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شغف اور شوق کا اظہار ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے تاخیر سے پڑھنے کا اتنا رنج اور قلق ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا باعث بننے والے مشرکوں کے خلاف دعا کی حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کی وادیوں میں پیغام توحید سنانے پر لہولہان کرنے،
دل آزار باتیں کہنے اور غنڈوں اور اوباشوں کے آوازیں کسنے پر ان کے خلاف دعا نہیں کی تھی،
اس طرح مشرکوں کے ہر قسم کے ظلم و ستم روا رکھنے پر ان کے خلاف دعا نہیں کی۔
لیکن غزوہ خندق کے موقعہ پر نماز کا وقت نکل جانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا لیکن آج ہماری حالت کیا ہے؟ بلا وجہ اور بلا عذر نمازیں چھوڑ دیتے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔
(2)
غزوہ خندق تک نماز خوف (جنگ کی نماز)
کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ والی نماز نہیں پڑھی تھی اور ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ الصلوۃ الوسطی کےمراد نماز عصر ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1426]

Sunan Ibn Majah Hadith 686 in Urdu