🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب : من نام عن الصلاة أو نسيها
باب: نماز کے وقت سو جائے یا اسے پڑھنا بھول جائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 698
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: ذَكَرُوا تَفْرِيطَهُمْ فِي النَّوْمِ، فَقَالَ: نَامُوا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً، أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا وَلِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ: فَسَمِعَنِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ وَأَنَا أُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ، فَقَالَ: يَا فَتًى انْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ، فَإِنِّي شَاهِدٌ لِلْحَدِيثِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَمَا أَنْكَرَ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نیند کی وجہ سے اپنی کوتاہی کا ذکر چھیڑا تو انہوں نے کہا: لوگ سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیند میں کوتاہی نہیں ہے، کوتاہی بیداری کی حالت میں ہے، لہٰذا جب کوئی شخص نماز بھول جائے یا اس سے سو جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے، اور اگلے روز اس کے وقت میں پڑھ لے ۱؎۔ عبداللہ بن رباح کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے سنا تو کہا: نوجوان! ذرا غور کرو، تم کیسے حدیث بیان کر رہے ہو؟ اس حدیث کے وقت میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، وہ کہتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے اس میں سے کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 698]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 11 (437)، (تحفة الأشراف: 12089)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 55 (681)، سنن الترمذی/الصلاة 16 (177)، سنن النسائی/المواقیت 53 (618)، مسند احمد (5/305) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جب یاد آئے یا سونے کے بعد جاگتے ہی اسی وقت نماز پڑھ لے، اور دوسرے دن کوشش کرے کہ نماز کو وقت ہی پر پڑھے، نماز سے سستی کی عادت نہ ڈالے، اگرچہ ظاہر لفظ سے ایسا لگتا ہے کہ جاگنے کے بعد پڑھے، اور دوسرے دن اس کے وقت میں بھی پڑھے،لیکن اس کا کوئی قائل نہیں کہ نماز دو بار پڑھی جائے، نیز جو معنی ہم نے بتایا ہے اس کی تائید سنن دار قطنی کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥الحارث بن ربعي السلمي، أبو قتادة
Newالحارث بن ربعي السلمي ← عمران بن حصين الأزدي
صحابي
👤←👥عبد الله بن رباح الأنصاري، أبو خالد
Newعبد الله بن رباح الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي
ثقة
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← عبد الله بن رباح الأنصاري
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← ثابت بن أسلم البناني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
698
ليس في النوم تفريط إنما التفريط في اليقظة فإذا نسي أحدكم صلاة أو نام عنها فليصلها إذا ذكرها ولوقتها من الغد
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 698 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث698
اردو حاشہ:
(1)
اگلے دن وقت پر ادا کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ایک نماز دوبارہ ادا کی جائے۔
ایک بار عذر کی وجہ سے وقت گزرجانے کے بعد، اور دوسری دفعہ اگلے دن صحیح وقت پر، یعنی دوسرے دن ایک نماز دوبارہ نہیں پڑھی جائےگی۔
ایک پہلے دن کی، ایک دوسرے دن کی بلکہ مطلب یہ ہے کہ آئندہ احتیاط کرے باربار نماز بے وقت نہ پڑھے۔

(2)
چھوٹوں کو بزرگوں کی موجودگی میں حدیث یا علمی مسائل بیان کرنا درست ہے تاکہ اگر کوئی غلطی ہوجائے تو اصلاح کردی جائے۔

(3)
حدیث کی روایت میں احتیاط ضروری ہے ایسا نہ ہوکہ حدیث میں غلطی سے کوئی بات ذکر کردی جائے جو اصل میں حدیث میں شامل نہ ہو اور سامعین اسے حدیث سمجھ کر اس پر عمل کرنا شروع کردیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 698]