علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب : النهي عن النوم قبل صلاة العشاء وعن الحديث بعدها
باب: عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 702
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَلَا سَمَرَ بَعْدَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے نہ سوئے، اور نہ اس کے بعد (بلا ضرورت) بات چیت کی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17497، ومصباح الزجاجة: 258)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/264) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بیکار اور غیر ضروری باتیں عشاء کے بعد کرنی مکروہ ہے، اور کراہت کی علت یہ ہے کہ شاید رات زیادہ گزر جائے اور تہجد کے لئے آنکھ نہ کھلے، یا فجر کی نماز اول وقت اور باجماعت ادا نہ ہو سکے، اور یہ وجہ بھی ہے کہ سوتے میں گویا آدمی مر جاتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ خاتمہ عبادت پر ہو، نہ دنیا کی باتوں پر، اگر دین یا دنیا کی ضروری باتیں ہوں تو ان کا کرنا جائز ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کے بعد مسلمانوں کے کاموں کے متعلق ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے باتیں کیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
702
| ما نام رسول الله قبل العشاء ولا سمر بعدها |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 702 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث702
اردو حاشہ:
فائدہ:
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمودی عادت مبارکہ بیان کی ہے ورنہ بعض اوقات عشاء کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بات چیت کرنا اور نصیحت کرنا احادیث سے ثابت ہے۔
فائدہ:
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمودی عادت مبارکہ بیان کی ہے ورنہ بعض اوقات عشاء کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بات چیت کرنا اور نصیحت کرنا احادیث سے ثابت ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 702]
Sunan Ibn Majah Hadith 702 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق