سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب : المشي إلى الصلاة
باب: نماز کے لیے چل کر مسجد جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 776
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو معاف کرتا اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشواری و ناپسندیدگی کے باوجود پورا وضو کرنا، مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 776]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4046، ومصباح الزجاجة: 292)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/3، 16، 95) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: وضو کا پورا کرنا یہ ہے کہ سب اعضاء کو پانی پہنچائے کوئی مقام سوکھا نہ رہے، اور آداب و سنن کے ساتھ وضو کرے، اور مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانے کا یہ مطلب ہے کہ مسجد مکان سے دور ہو اور جماعت کے لئے وہاں جائے، جتنی مسجد زیادہ دور ہو گی اتنے ہی قدم زیادہ اٹھانے پڑیں گے، اور ہر قدم پر ثواب ملتا رہے گا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھا رہنا بڑا ثواب ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ انتظار میں برابر نماز کا ثواب ملتا رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← أبو سعيد الخدري | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥عبد الله بن عقيل الهاشمي، أبو محمد عبد الله بن عقيل الهاشمي ← سعيد بن المسيب القرشي | مقبول | |
👤←👥زهير بن محمد التميمي، أبو المنذر زهير بن محمد التميمي ← عبد الله بن عقيل الهاشمي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥يحيى بن أبي بكير القيسي، أبو زكريا يحيى بن أبي بكير القيسي ← زهير بن محمد التميمي | ثقة | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← يحيى بن أبي بكير القيسي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
427
| إسباغ الوضوء على المكاره كثرة الخطا إلى المساجد انتظار الصلاة بعد الصلاة |
سنن ابن ماجه |
776
| إسباغ الوضوء عند المكاره كثرة الخطا إلى المساجد انتظار الصلاة بعد الصلاة |
سنن الدارمي |
721
| إسباغ الوضوء على المكروهات كثرة الخطا إلى المساجد انتظار الصلاة بعد الصلاة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 776 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث776
اردو حاشہ:
یہ حدیث کتاب الطھارہ میں گزرچکی ہے۔ دیکھیے حدیث: 427)
یہ حدیث کتاب الطھارہ میں گزرچکی ہے۔ دیکھیے حدیث: 427)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 776]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث427
اچھی طرح وضو کرنے کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! ضرور بتائیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناپسندیدگی کے باوجود مکمل وضو کرنا ۱؎، اور مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانا ۲؎، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 427]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! ضرور بتائیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناپسندیدگی کے باوجود مکمل وضو کرنا ۱؎، اور مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانا ۲؎، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 427]
اردو حاشہ:
(1)
نیک اعمال سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں بشرطیکہ وہ خلوص کے ساتھ اور سنت کے مطابق ادا کیے گئے ہوں۔
(2)
مسجدوں کی طرف زیادہ قدم اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر گھر مسجد سے دور ہو تب بھی مسجد میں جا کر باجماعت نماز ادا کی جائے۔
اسی طرح بار بار مسجد میں جانا بھی زیادہ قدم اٹھانے میں شامل ہے یعنی نماز کے بعد مسجد سے باہر گھر یا بازار میں حلال روزی کمانے میں یا دوسری جائز مصروفیات میں مشغول ہوجائے اور دوسری نماز کا وقت آنے پر پھر مسجد کی طرف چل پڑے۔
اس سے بھی نیکیوں میں اضافہ اور گناہ معاف ہوتے ہیں۔
(3)
نماز کا انتظار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے کاروبار یا دوسرے کاموں میں مصروف ہو کر نماز کو فراموش نہ کردے اور کوئی نماز بےوقت ادا کرے نہ ترک کرے۔
بلکہ کام کاج کے دوران بھی اس کی توجہ نماز کی طرف ہو تاکہ جونہی نماز کا وقت آئے وہ مسجد کی طرف چل دے۔
ایک روایت میں اسے سرحدوں کی حفاظت کا نام دیا گیا ہے گویا یہ بھی ایک قسم کا جہاد ہے۔ دیکھیے: (صحيح مسلم، الطهارة، باب فضل إسباغ الوضوء علي المكاره، حديث: 251)
(1)
نیک اعمال سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں بشرطیکہ وہ خلوص کے ساتھ اور سنت کے مطابق ادا کیے گئے ہوں۔
(2)
مسجدوں کی طرف زیادہ قدم اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر گھر مسجد سے دور ہو تب بھی مسجد میں جا کر باجماعت نماز ادا کی جائے۔
اسی طرح بار بار مسجد میں جانا بھی زیادہ قدم اٹھانے میں شامل ہے یعنی نماز کے بعد مسجد سے باہر گھر یا بازار میں حلال روزی کمانے میں یا دوسری جائز مصروفیات میں مشغول ہوجائے اور دوسری نماز کا وقت آنے پر پھر مسجد کی طرف چل پڑے۔
اس سے بھی نیکیوں میں اضافہ اور گناہ معاف ہوتے ہیں۔
(3)
نماز کا انتظار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے کاروبار یا دوسرے کاموں میں مصروف ہو کر نماز کو فراموش نہ کردے اور کوئی نماز بےوقت ادا کرے نہ ترک کرے۔
بلکہ کام کاج کے دوران بھی اس کی توجہ نماز کی طرف ہو تاکہ جونہی نماز کا وقت آئے وہ مسجد کی طرف چل دے۔
ایک روایت میں اسے سرحدوں کی حفاظت کا نام دیا گیا ہے گویا یہ بھی ایک قسم کا جہاد ہے۔ دیکھیے: (صحيح مسلم، الطهارة، باب فضل إسباغ الوضوء علي المكاره، حديث: 251)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 427]
سعيد بن المسيب القرشي ← أبو سعيد الخدري