🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ : وَضْعِ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 809
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا فَيَأْخُذُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ".
ہلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تو اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ سے پکڑے رہتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 809]
حضرت ہلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تھے، دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 809]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الموا قیت 73 (252)، (تحفة الأشراف: 11735) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥يزيد بن قنافة الطائي، أبو قبيصةصحابي
👤←👥قبيصة بن الهلب الطائي
Newقبيصة بن الهلب الطائي ← يزيد بن قنافة الطائي
مقبول
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← قبيصة بن الهلب الطائي
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص
Newسلام بن سليم الحنفي ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة متقن
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← سلام بن سليم الحنفي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
252
يؤمنا فيأخذ شماله بيمينه
سنن ابن ماجه
809
يؤمنا فيأخذ شماله بيمينه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 809 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث809
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے معلوم ہوا کہ قیام میں سنت ہاتھ باندھنا ہے۔
چھوڑنا نہیں جس طرح بعض حضرات ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں۔

(2)
پکڑنے سے مراد بایئں ہاتھ پر دایاں ہاتھ رکھنا ہے جیسے کہ حدیث 811 میں آرہا ہے۔

(3)
صحیح بخاری کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
کہ دایاں ہاتھ بایئں بازو پررکھنا چاہیے۔
دیکھئے: (صحیح البخاری، الأذان، باب وضع الیمنیٰ علی الیسریٰ فی الصلاۃ، حدیث: 740)
 یعنی حدیث 811 میں ید سے مراد ہتھیلی نہیں بلکہ بازو ہے۔
اس طرح دونوں حدیثوں میں تطبیق ہوجاتی ہے۔
اور ہاتھ باندھنے کی وہ کیفیت متعین ہوجاتی ہے۔
جو صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتی ہے۔

(4)
قیام میں دونوں ہاتھ سینے پر باندھنے چاہییں جیسے کہ متعدد احادیث میں مروی ہے۔
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔
انھوں نے فرمایا:
کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔
تو آپ نے دایاں ہاتھ اپنے بایئں ہاتھ پر سینہ پر رکھا۔ (صحیح ابن خزیمة، الصلاۃ، باب وضع الیمین علی الشمال فی الصلاۃ قبل افتتاح القراۃ، حدیث 479)
 اس کے حاشیے میں شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔
اس کی سند ضعیف ہے لیکن یہ حدیث صحیح ہے۔
کیونکہ دوسری کئی سندوں سے اس سے ملتے جلتے الفاظ سے مروی ہے۔
اس کی مذید تایئد سینے پر ہاتھ باندھنے کی دوسری احادیث سے بھی ہوتی ہے۔
یہ احادیث مسند احمد، طبرانی، ابن ابی حاتم، اور بہیقی میں ملاحظہ کی جا سکتیں ہیں۔ (الحاکم: 537/2  والبیہقی: 30/29  والطبرانی 325/30)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 809]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله،ترمذی 252
نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے والی ایک اور حدیث صحیح ہے۔
◈ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (متوفی 597ھ) نے فرمایا:
«أخبارنا ابن الحصين قال: أنبأنا ابن المذهب قال: أنبأنا أحمد بن جعفر قال: حدثنا عبد الله بن أحمد قال: حدثني أبي قال: حدثنا يحيى بن سعيد قال: حدثنا سفيان قال: حدثني سماك عن قبيصة بن هلب عن أبيه قال: رأيت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يضع هذه على هذه على صدره. ووصف يحيى اليمينى على اليسرى فوق المفصل.»
❀ ہُلب الطائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ یہ (دایاں ہاتھ) اس (بائیں ہاتھ) پر سینے پر رکھتے تھے۔
اور یحییٰ (القطان) نے دائیں (ہاتھ) کو بائیں (ہاتھ) پر جوڑ پر رکھ کر بتایا یا دکھایا۔ [التحقيق في اختلاف الحديث: 283/1 ح 477، دوسرا نسخہ 338/1 ح 434]
اس حدیث میں «هذه علٰي هذه» یعنی دو دفعہ «هذه» آیا ہے جو کہ مسند احمد کے مطبوعہ نسخوں میں دو دفعہ چھپنے سے رہ گیا ہے، لیکن حافظ ابن الجوزی کی امام احمد تک سند بالکل صحیح ہے جیسا کہ راویوں کی درج ذیل تحقیق سے صاف ظاہر ہے:
➊ ہبۃ اللہ بن محمد بن عبد الواحد بن احمد بن الحصین الشیبانی ثقہ صحیح السماع ہیں۔ [المنتظم لابن الجوزي: 268/17، تحقیقی مقالات: 397/1-398]
➋ ابن المذہب جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق ہیں اور مسند احمد کے بنیادی راویوں میں سے ہیں۔ [تحقیقی مقالات: 396/1-397، تاريخ بغداد: 36/14، ميزان الاعتدال: 511/1]
➌ احمد بن جعفر القطیعی جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق ہیں اور مسند احمد کے بنیادی راویوں میں سے ہیں۔ [تحقیقی مقالات: 393/1-396]
ابن المذہب نے اُن کے اختلاط سے پہلے اُن سے سنا تھا۔ [لسان الميزان: 145/1-146]
لہٰذا یہاں اختلاط کا اعتراض بھی مردود ہے۔
➍ عبد اللہ بن احمد بن حنبل بالاجماع ثقہ ہیں۔ [تحقیقی مقالات: 392/1-393]
➎ امام احمد بن حنبل بالاجماع ثقہ ہیں۔
➏ امام یحییٰ بن سعید القطان بالاجماع ثقہ ہیں۔
➐ امام سفیان ثوری بالاجماع ثقہ ہیں اور آپ مدلس بھی تھے لیکن اس روایت میں آپ نے سماع کی تصریح کر دی ہے، لہٰذا یہاں تدلیس کا اعتراض مردود ہے۔
➑ سماک بن حرب صحیح مسلم کے بنیادی راوی اور جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق ہیں۔ [نصر الرب في توثيق سماك بن حرب، نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام ص 39-49]
◈ سماک کے شاگرد امام سفیان ثوری رحمہ اللہ نے فرمایا:
«ما يسقط لسماك بن حرب حديث»
سماک کی کوئی حدیث ساقط نہیں ہوتی۔ [تاريخ بغداد: 215/9 وسندہ صحیح]
یاد رہے کہ امام سفیان ثوری کا سماک سے سماع سماک کے اختلاط سے پہلے کا ہے۔ [نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام ص 47]
➒ قبیصہ بن ہلب الطائی رحمہ اللہ
قبیصہ کو درج ذیل علمائے محدثین نے صراحتاً یا تصحیحِ حدیث کے ذریعے سے ثقہ و صدوق قرار دیا۔
(1) عجلی نے فرمایا:
«تابعي ثقة» [تاريخ الثقات: 1379]
(2) ابن حبان نے فرمایا:
اُن کا ذکر ثقات میں کیا ہے۔ [الثقات: 319/5]
(3) ترمذی نے فرمایا:
اُن کی حدیث کو حسن کہا ہے۔ [سنن الترمذي: 252، 301، 1565]
(4) بغوی نے فرمایا:
اُن کی حدیث کے متعلق فرمایا: «هذا حديث حسن» [شرح السنة: 31/3 ح 570]
(5) ابن عبد البر نے فرمایا:
اُن کی حدیث کے متعلق فرمایا: «وهو حديث صحيح» [الاستيعاب في أسماء الأصحاب: 329/2]
جمہور کی توثیق کے مقابلے میں امام ابن المدینی اور امام نسائی کا قبیصہ بن ہلب کو مجہول کہنا صحیح نہیں، بلکہ یہاں جمہور کی ترجیح کی وجہ سے توثیق ہی مقدم ہے۔
➓ ہلب الطائی رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔
تحقیق کا خلاصہ: اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث اصولِ حدیث اور اصولِ محدثین کی رُو سے بالکل حسن لذاتہ یا صحیح یعنی حجت ہے۔
[تحریر الشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 252
نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔
ہلب طائی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت کرتے تو بائیں ہاتھ کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 252]
اردو حاشہ:
1؎:
اس کے برعکس امام الک ؒسے جو ہاتھ چھوڑنے کا ذکر ہے وہ شاذ ہے صحیح نہیں،
مؤطا امام مالک میں بھی ہاتھ باندھنے کی روایت موجود ہے شوافع،
احناف اور حنابلہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ نماز میں ہاتھ باندھنا ہی سنت ہے،
اب رہا یہ مسئلہ کہ ہاتھ باندھے کہا جائیں سینے پر یا زیر ناف؟ تو بعض حضرات زیر ناف باندھنے کے قائل ہیں مگر زیر ناف والی حدیث ضعیف ہے،
بعض لوگ سینے پر باندھنے کے قائل ہیں ان کی دلیل وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت ((صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَوَضَعَ یَدَہ الْیُمْنیٰ عَلَی یَدِہِ الْیُسْریٰ عَلَی صَدْرِہِ)) ہے،
اس روایت کی تخریج ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں کی ہے اوریہ ابن خزیمہ کی شرط کے مطابق ہے اور اس کی تائید ہلب الطائی کی روایت سے بھی ہوتی ہے جس کی تخریج امام احمد نے اپنی مسند میں ان الفاظ کے ساتھ کی ہے ((رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ یَنْصَرِفُ عَنْ یَّمِیْنِہِ وَعَنْ یَّسَارِہِ وَرَأَیْتُہ یَضَعُ ہَذِہ عَلَی صَدْرِہ وَوَصفَ یَحْییٰ الْیُمْنیٰ عَلَی الْیُسْریٰ فَوْقَ الْمُفصلِ)) یزید بن قُنافہ ہُلب الطائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (سلام پھیرتے وقت) دیکھا کہ آپ (پہلے) دائیں جانب مڑتے اور پھر بائیں جانب،
اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں بھی دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھوں کو سینے پر رکھتے تھے،
امام احمد بن حنبل کے استاذ یحیی بن سعید نے ہلب رضی اللہ عنہ کے اس بیان کی عملی وضاحت اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر جوڑ کے اوپر باندھ کر کی۔
اس کے سارے رواۃ ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل ہے (مسند احمد 5/226) اور وائل بن حجر کی روایت پر جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں اضطراب ہے،
ابن خزیمہ کی روایت میں ((عَلَی صَدْرِہ)) ہے،
بزار کی روایت میں ((عَنْدَ صَدْرِہ)) ہے اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ((تَحْتَ السُّرَّۃِ)) ہے تو یہ اعتراض صحیح نہیں ہے،
کیو نکہ مجرد اختلاف سے اضطراب لازم نہیں آتا بلکہ اضطراب کے لیے شرط ہے کہ تمام وجوہ اختلاف برابر ہوں اور یہاں ایسا نہیں ہے ابن ابی شیبہ کی روایت میں ((تَحْتَ السُّرَّۃِ)) کا جو لفظ ہے وہ مدرج ہے،
اسے جان بوجھ کربعض مطبع جات کی طرف سے اس روایت میں داخل کر دیا گیا ہے اور ابن خزیمہ کی روایت میں
((عَلَی صَدْرِہ)) اور بزار کی روایت ((عَنْدَ صَدْرِہ)) جو آیا ہے تو ان دونوں میں ابن خزیمہ والی روایت راجح ہے،
کیونکہ ہلب طائی رضی اللہ عنہ کی روایت اس کے لیے شاہد ہے،
اور طاؤس کی ایک مرسل روایت بھی اس کی تائید میں ہے اس کے برعکس بزار کی حدیث کی کوئی شاہد روایت نہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 252]

Sunan Ibn Majah Hadith 809 in Urdu