🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب : إذا قرأ الإمام فأنصتوا
باب: جہری نماز میں امام قرات کرے تو اس پر خاموش رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 849
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَزَادَ فِيهِ قَالَ: فَسَكَتُوا بَعْدُ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ الْإِمَامُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، اس کے بعد پہلی جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں اتنا زیادہ ہے: پھر لوگوں نے جہری نماز میں خاموشی اختیار کر لی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 849]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی، اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے: اس کے بعد صحابہ نے ان نمازوں میں خاموشی اختیار فرمائی جن میں امام بلند آواز سے قراءت کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 849]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 14264) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی جہری نماز میں لوگوں نے آواز سے پڑھنا چھوڑ دیا، یا سورت کا پڑھنا ہی چھوڑ دیا، اور یہ مطلب نہیں ہے کہ سورت فاتحہ کا پڑھنا بھی چھوڑ دیا جیسا حنفیہ نے سمجھا ہے کیونکہ اس کے بغیر تو نماز ہی نہیں ہوتی، واضح رہے کہ حدیث کا آخری ٹکڑا «فسكتوا» مدرج ہے، زہری کا کلام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عمارة بن أكيمة الليثي، أبو الوليد
Newعمارة بن أكيمة الليثي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عمارة بن أكيمة الليثي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد
Newعبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة
👤←👥جميل بن الحسن الحمصي، أبو الحسن
Newجميل بن الحسن الحمصي ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي
ضعيف الحديث
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 849 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث849
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ان دونوں روایات سے معلوم ہوتا ہے۔
کہ سورۃ فاتحہ کے علاوہ تلاوت کی ممانعت جہری نمازوں میں ہے۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ (فَلَا تَقْرٌءوا بِشَئٍْ مِّنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلَّابِاُمِّ الْقُرْآنِ) (سنن ابی داؤد، الصلاۃ، ابواب تفریع استفتاح الصلاۃ، باب من ترک القراءت فی صلاته بفاتحة الکتاب، حدیث: 824)
 جب میں جہری قراءت کروں تو صرف سورۃ فاتحہ پڑھا کرو۔
 البتہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں مذکور ہے۔
کہ ایسا ہی واقعہ کسی سری نماز میں بھی پیش آیا تھا۔
کہ ظہر یا عصر کی نماز میں کسی مقتدی نے ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نا پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔
  (صحیح مسلم، الصلاۃ، باب نہي المأموم عن جھرۃ بالقراۃ خلف إمامه، حدیث 398)

(2)
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح مسلم کی شرح میں اس حدیث پر جو عنوان ذکر فرمایا ہے۔
اس سے اشارہ ملتا ہے کہ مقتدی نے سورۃ الاعلیٰ بلند آواز سے پڑھی تھی۔
کشمکش کے الفاظ سے بھی اس کا اشارہ ملتا ہے۔
واللہ اعلم۔

خلاصہ یہ ہے کہ جہری نماز میں سورۃ فاتحہ کے بعد مقتدی کو کچھ نہیں پڑھنا چاہیے۔
البتہ سری نماز میں دوسری سورت پڑھ سکتا ہے۔
لیکن بلند آواز سے نہ پڑھے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 849]

Sunan Ibn Majah Hadith 849 in Urdu