علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب : ما جاء في التشهد
باب: تشہد کا بیان۔
حدیث نمبر: 900
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَطَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، فَكَانَ يَقُولُ:" التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے، آپ کہتے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”بابرکت دعائیں اور پاکیزہ نمازیں سب اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 900]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 16 (403)، سنن ابی داود/الصلاة 182 (974)، سنن الترمذی/الصلاة 101 (290)، سنن النسائی/التطبیق 103 (1175)، السہو 42 (1279)، (تحفة الأشراف: 5750، 5607)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/292) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1175
| التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته سلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله |
صحيح مسلم |
902
| التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته |
صحيح مسلم |
903
| يعلمنا التشهد كما يعلمنا السورة من القرآن |
سنن أبي داود |
974
| التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته |
سنن ابن ماجه |
900
| التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله |
سنن النسائى الصغرى |
1279
| يعلمنا التشهد كما يعلمنا السورة من القرآن |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 900 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث900
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قرآن کیطرح دعا سکھانے کا مطلب یہ ہے کہ بہت اہتمام اور توجہ سے یہ دعا سکھائی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا نماز میں ضرور پڑھنی چاہیے۔
(2)
جس طرح قرآن کے الفاظ گھٹا بڑھا لینا جائز نہیں لیکن بعض الفاظ کئی طرح نازل ہوئے ہیں۔
اور ان طریقوں میں سے کسی بھی طریقے سے انھیں پڑھنا درست ہے۔
اسی طرح جو دعایئں کئی طرح مروی ہیں۔
انھیں انہی روایت شدہ طریقوں میں سے کسی بھی طریقے سے پڑھا جا سکتا ہے۔
(3) (ایھاالنبی)
”اے نبی!“ سے مقصود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنانا نہیں۔
بلکہ یہ الفاظ اسی طرح پڑھے جاتے ہیں۔
جس طرح قرآن مجید کے الفاظ پڑھے جاتے ہیں۔
مثلاً (ينوح، يا ابراهيم، يا ايها المزمل، يا ايهاالذين امنوا، ياايهاالناس، يبني آدم، يفرعون، يهامن)
وغیرہ۔
ان کو پڑھتے وقت قاری انھیں مخاطب کرنے کی نیت نہیں رکھتا اور نہ حاضروموجود سمجھتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
قرآن کیطرح دعا سکھانے کا مطلب یہ ہے کہ بہت اہتمام اور توجہ سے یہ دعا سکھائی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا نماز میں ضرور پڑھنی چاہیے۔
(2)
جس طرح قرآن کے الفاظ گھٹا بڑھا لینا جائز نہیں لیکن بعض الفاظ کئی طرح نازل ہوئے ہیں۔
اور ان طریقوں میں سے کسی بھی طریقے سے انھیں پڑھنا درست ہے۔
اسی طرح جو دعایئں کئی طرح مروی ہیں۔
انھیں انہی روایت شدہ طریقوں میں سے کسی بھی طریقے سے پڑھا جا سکتا ہے۔
(3) (ایھاالنبی)
”اے نبی!“ سے مقصود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنانا نہیں۔
بلکہ یہ الفاظ اسی طرح پڑھے جاتے ہیں۔
جس طرح قرآن مجید کے الفاظ پڑھے جاتے ہیں۔
مثلاً (ينوح، يا ابراهيم، يا ايها المزمل، يا ايهاالذين امنوا، ياايهاالناس، يبني آدم، يفرعون، يهامن)
وغیرہ۔
ان کو پڑھتے وقت قاری انھیں مخاطب کرنے کی نیت نہیں رکھتا اور نہ حاضروموجود سمجھتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 900]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 974
تشہد (التحیات) کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن سکھاتے تھے، آپ کہا کرتے تھے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله» ”آداب، بندگیاں، پاکیزہ صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 974]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن سکھاتے تھے، آپ کہا کرتے تھے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله» ”آداب، بندگیاں، پاکیزہ صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 974]
974۔ اردو حاشیہ:
➊ ”تشہد اس اہتمام سے سکھاتے تھے، جیسے کہ قرآن“ اس میں یہ اشارہ ہے کہ یہ واجب ہے۔ ترجمہ اوپر گزرے الفاظ ہی کی مانند ہے۔ یعنی تمام بابرکت عظمتیں اور پاکیزہ اذکار اللہ ہی کے لئے خاص ہیں۔
➋ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تصریح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان ہی الفاظ سے پورا تشہد پڑھا کرتے تھے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کو تعلیم فرماتے تھے۔
➊ ”تشہد اس اہتمام سے سکھاتے تھے، جیسے کہ قرآن“ اس میں یہ اشارہ ہے کہ یہ واجب ہے۔ ترجمہ اوپر گزرے الفاظ ہی کی مانند ہے۔ یعنی تمام بابرکت عظمتیں اور پاکیزہ اذکار اللہ ہی کے لئے خاص ہیں۔
➋ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تصریح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان ہی الفاظ سے پورا تشہد پڑھا کرتے تھے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کو تعلیم فرماتے تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 974]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1279
تشہد کو قرآن کی سورت کی طرح سکھانے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1279]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1279]
1279۔ اردو حاشیہ: معین اور مسنون اور اد و وظائف میں حتیٰ الامکان کمی بیشی اور تبدیلی سے اجتناب کرنا چاہیے حتیٰ کہ لفظ ”نبی“ کی جگہ لفظ ”رسول“ بھی نہ کہا جائے۔ قرآن مجید کی طرح تعلیم دینے کا یہی مطلب ہے۔ اسی طرح اذان اور ادعیۂ مسنونہ بعینہٖ پڑھنی چاہئیں، ورنہ تحریف کا الزام آئے گا، البتہ مطلق دعائیں اپنی پسند کے مطابق کی جا سکتی ہیں اگرچہ قرآن و حدیث میں منقول دعائیں بہرحال جامع، مبارک اور بہتر ہیں۔ باب 43: تشہد کیسے پڑھا جائے؟
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1279]
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، ابوداود 974
تشہد کے الفاظ، افضل تشہد
➊ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں یہ لفظ ہیں۔
«التحيات الله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبى و رحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصلحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله»
[بخارى: 831، كتاب الأذان: باب التشهد فى الآخرة، مسلم: 402، أبو داود: 968، ترمذي: 289، نسائي: 239/2، ابن ماجة: 899، أحمد: 382/1، دارمي: 308/1، بيهقي: 138/2، دارقطني: 350/1، أبو عوانة: 299/2]
➋ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس طرح تشہد سکھاتے جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھا رہے ہوں اور فرماتے:
«التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبى ورحمة الله و بركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمد رسول الله»
[مسلم: 403، كتاب الصلاة: باب التشهد فى الصلاة، أبو داود: 974، ترمذي: 290، نسائي: 242/2، ابن ماجة: 900، أحمد: 292/1، دارقطني: 350/1، يهقي: 140/2]
➌ حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو یہ تشہد سکھایا کرتے تھے۔
«التحيات لله الزاكيات لله الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبى ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله»
[صحيح: نصب الراية: 422/1، موطا: 90/1، كتاب النداء للصلاة: باب التشهد فى الصلاة، حاكم: 266/1، بيهقى: 142/2]
➍ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں یہ لفظ ہیں۔
«التحيات الطيبات الصلوات الله ......»
(باقی آخر تک حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کی طرح ہے)۔
[مسلم: 404، كتاب الصلاة: باب التشهد فى الصلاة]
❀ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ کون سا تشہد افضل ہے؟
(احمدؒ، ابوحنیفہؒ، جمہور) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا تشہد افضل.
(شافعیؒ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا تشہد افضل ہے۔
(مالکؒ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا تشہد افضل ہے۔ [شرح المهذب: 343/3، الأم: 228/1، حلية العلماء فى معرفة مذاهب الفقهاء: 126/2، المبسوط: 27/1، كشاف القناع: 357/1، سبل السلام: 267/1]
(نوویؒ) ان سب (تشہدوں) کے جواز پر علماء کا اتفاق ہے۔ [شرح مسلم: 354/2]
(راجح) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا تشہد افضل ہے۔ (کیونکہ یہ صحیحین کی روایت سے ثابت ہے اور اس کے راوی ایسے ثقہ ہیں کہ جنہوں نے اس کے الفاظ میں اختلاف نہیں کیا)۔
(ترمذیؒ) تشہد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی سب سے زیادہ صحیح حدیث حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہے۔ [سنن ترمذي: 289]
(مسلمؒ) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد پر لوگوں کا اجماع ہے۔ [سبل السلام: 443/1]
(بزارؒ) تشہد میں میرے نزدیک سب سے زیادہ صحیح حدیث حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہے۔ [تحفة الأحوذى: 185/2]
(ابن حجرؒ) انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کی افضلیت کے مختلف اسباب بیان کیے ہیں۔ [فتح البارى: 368/2]
(صدیق حسن خانؒ) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا تشہد سب سے زیادہ صحیح ہے۔ [الروضة الندية: 249/1]
(عبد الرحمٰن مبارکپوریؒ) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث تمام احادیث سے زیادہ راجح ہے۔ [تحفة الأحوذى: 186/2]
➊ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں یہ لفظ ہیں۔
«التحيات الله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبى و رحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصلحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله»
[بخارى: 831، كتاب الأذان: باب التشهد فى الآخرة، مسلم: 402، أبو داود: 968، ترمذي: 289، نسائي: 239/2، ابن ماجة: 899، أحمد: 382/1، دارمي: 308/1، بيهقي: 138/2، دارقطني: 350/1، أبو عوانة: 299/2]
➋ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس طرح تشہد سکھاتے جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھا رہے ہوں اور فرماتے:
«التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبى ورحمة الله و بركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمد رسول الله»
[مسلم: 403، كتاب الصلاة: باب التشهد فى الصلاة، أبو داود: 974، ترمذي: 290، نسائي: 242/2، ابن ماجة: 900، أحمد: 292/1، دارقطني: 350/1، يهقي: 140/2]
➌ حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو یہ تشہد سکھایا کرتے تھے۔
«التحيات لله الزاكيات لله الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبى ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله»
[صحيح: نصب الراية: 422/1، موطا: 90/1، كتاب النداء للصلاة: باب التشهد فى الصلاة، حاكم: 266/1، بيهقى: 142/2]
➍ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں یہ لفظ ہیں۔
«التحيات الطيبات الصلوات الله ......»
(باقی آخر تک حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کی طرح ہے)۔
[مسلم: 404، كتاب الصلاة: باب التشهد فى الصلاة]
❀ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ کون سا تشہد افضل ہے؟
(احمدؒ، ابوحنیفہؒ، جمہور) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا تشہد افضل.
(شافعیؒ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا تشہد افضل ہے۔
(مالکؒ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا تشہد افضل ہے۔ [شرح المهذب: 343/3، الأم: 228/1، حلية العلماء فى معرفة مذاهب الفقهاء: 126/2، المبسوط: 27/1، كشاف القناع: 357/1، سبل السلام: 267/1]
(نوویؒ) ان سب (تشہدوں) کے جواز پر علماء کا اتفاق ہے۔ [شرح مسلم: 354/2]
(راجح) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا تشہد افضل ہے۔ (کیونکہ یہ صحیحین کی روایت سے ثابت ہے اور اس کے راوی ایسے ثقہ ہیں کہ جنہوں نے اس کے الفاظ میں اختلاف نہیں کیا)۔
(ترمذیؒ) تشہد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی سب سے زیادہ صحیح حدیث حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہے۔ [سنن ترمذي: 289]
(مسلمؒ) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد پر لوگوں کا اجماع ہے۔ [سبل السلام: 443/1]
(بزارؒ) تشہد میں میرے نزدیک سب سے زیادہ صحیح حدیث حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہے۔ [تحفة الأحوذى: 185/2]
(ابن حجرؒ) انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کی افضلیت کے مختلف اسباب بیان کیے ہیں۔ [فتح البارى: 368/2]
(صدیق حسن خانؒ) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا تشہد سب سے زیادہ صحیح ہے۔ [الروضة الندية: 249/1]
(عبد الرحمٰن مبارکپوریؒ) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث تمام احادیث سے زیادہ راجح ہے۔ [تحفة الأحوذى: 186/2]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 390]
Sunan Ibn Majah Hadith 900 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي