الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب في القدر
باب: قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔
حدیث نمبر: 91
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: الْعَمَلُ فِيمَا جَفَّ بِهِ الْقَلَمُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، أَمْ فِي أَمْرٍ مُسْتَقْبَلٍ؟ قَالَ:" بَلْ فِيمَا جَفَّ بِهِ الْقَلَمُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، وَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ".
سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ اعمال جو انسان سے صادر ہوتے ہیں آیا اس تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے، اور جو جاری ہو چکی ہے؟ یا ایسے امر کے مطابق ہوتے ہیں جو آگے ہونے والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اسی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو قلم لکھ کر خشک ہو چکا ہے، اور جو جاری ہو چکی ہے، اور پھر ایک شخص کے لیے اس کی تقدیر کے مطابق وہی کام آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 91]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3819، ومصباح الزجاجة: 35)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/197) (صحیح)» (اس حدیث میں مجاہد اور سراقہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: السنة لابن ابی عاصم: 169)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سراقة بن جعشم المدلجي، أبو سفيان | صحابي | |
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج مجاهد بن جبر القرشي ← سراقة بن جعشم المدلجي | ثقة إمام في التفسير والعلم | |
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد سليمان بن مهران الأعمش ← مجاهد بن جبر القرشي | ثقة حافظ | |
👤←👥عطاء بن مسلم الخفاف، أبو مخلد عطاء بن مسلم الخفاف ← سليمان بن مهران الأعمش | مقبول | |
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد هشام بن عمار السلمي ← عطاء بن مسلم الخفاف | صدوق جهمي كبر فصار يتلقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
91
| بل فيما جف به القلم وجرت به المقادير كل ميسر لما خلق له |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 91 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث91
اردو حاشہ:
انسان کے نیک اور بد ہونے کا تعلق بھی تقدیر سے ہے لیکن بندے کو اس کا علم نہیں۔
وہ شریعت کے مطابق عمل کرنے کا مکلف ہے۔
مزید وضاحت کے لیے حدیث 76 کے فوائد ملاحظہ فرمائیے۔
انسان کے نیک اور بد ہونے کا تعلق بھی تقدیر سے ہے لیکن بندے کو اس کا علم نہیں۔
وہ شریعت کے مطابق عمل کرنے کا مکلف ہے۔
مزید وضاحت کے لیے حدیث 76 کے فوائد ملاحظہ فرمائیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 91]
مجاهد بن جبر القرشي ← سراقة بن جعشم المدلجي