🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب : ادرأ ما استطعت
باب: نمازی کے سامنے سے جو چیز گزرنے لگے اس کو ممکن حد تک روکنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 953
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى أَبُو الْمُعَلَّى ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟ فَذَكَرُوا: الْكَلْبَ، وَالْحِمَارَ، وَالْمَرْأَةَ، فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي الْجَدْيِ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُصَلِّي يَوْمًا، فَذَهَبَ جَدْيٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَبَادَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ".
حسن عرنی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ان چیزوں کا ذکر ہوا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں، لوگوں نے کتے، گدھے اور عورت کا ذکر کیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: تم لوگ بکری کے بچے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، تو بکری کا ایک بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے قبلہ کی طرف بڑھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 953]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5398، ومصباح الزجاجة: 344)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 111 (709)، مسند احمد (1/247، 291، 308، 343) (صحیح)» ‏‏‏‏ (حسن العرنی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مابین انقطاع کی وجہ سے سند ضعیف ہے، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے، صحیح ابی داو د: 702، نیز مصباح الزجاجة، موطا امام مالک/ الجامعہ الاسلامیہ: 346)
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے قبلہ کی طرف بڑھے تاکہ اسے گزرنے سے روک دیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد صحيح،رجاله ثقات إلا أنه منقطع
قال أحمد و ابن معين: لم يسمع الحسن (العرني) من ابن عباس ‘‘ فالسند منقطع
وقال الحافظ في العرني: ثقة،أرسل عن ابن عباس (تقريب: 1252)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 411

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥الحسن بن عبد الله العرني
Newالحسن بن عبد الله العرني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥يحيى بن ميمون الضبي، أبو المعلى
Newيحيى بن ميمون الضبي ← الحسن بن عبد الله العرني
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← يحيى بن ميمون الضبي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
709
ذهب جدي يمر بين يديه فجعل يتقيه
سنن ابن ماجه
953
ذهب جدي يمر بين يديه فبادره رسول الله القبلة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 953 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث953
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نمازی کو چاہیے کہ سامنے سے کسی بھی چیز کو نہ گزرنے دے۔

(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے آگے بڑھ گئے کہ آگے سے گزرنے کا راستہ کم ہوجائے اور میمنا پیچھے سےگزر جائے۔

(3)
یہ روایت بعض حضرات کے نزدیک صحیح ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 953]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 709
امام کا سترہ مقتدیوں کے لیے بھی سترہ ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا، تو آپ اسے دور کرنے لگے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 709]
709۔ اردو حاشیہ:
➊ نمازی کو چاہیے کہ اپنی نماز کی حفاظت کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے بچے کا گزرنا بھی گوارا نہیں فرمایا۔ ➋ بکری کا وہ بچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے یعنی مقتدیوں کے آگے سے گزر گیا، کیونکہ مقتدیوں کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سترہ تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 709]