السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
199. (بَابُ فَضْلِ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ)
(عاشوراء کے روزے کی فضیلت)
حدیث نمبر: 329
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يَكْتُبِ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ وَأَنَا صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ".
حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو سنا عاشوراء کا دن تھا حج کا سال تھا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ منبر پر فرما رہے تھے اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ (بناوٹی بال لگانے سے تمہیں منع کیوں نہیں کرتے) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آج کا دن عاشوراء کا دن ہے اس کا روزہ اللہ نے فرض نہیں کیا لیکن میں نے روزہ رکھا ہے جو چاہیے روزہ رکھ لے جو چاہیے افطار کر لے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في صيام عاشوراء/حدیث: 329]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الصوم، باب صوم يوم عاشوراء، رقم: 2003، صحیح مسلم، الصيام، باب صوم يوم عاشوراء، رقم: 1129»
Sunan Shafi Hadith 329 in Urdu