السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
374. (بَابُ مَعْرِفَةِ الْإِيمَانِ وَالرُّسُومِ الْجَاهِلِيَّةِ)
(ایمان کی پہچان اور جاہلی رسوم)
حدیث نمبر: 552
عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِلالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ جَارِيَةً لِي كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لِي فَجِئْتُهَا وَفُقِدَتْ شَاةٌ مِنَ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا، فَقَالَتْ: أَكَلَهَا الذِّئْبُ، فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا، وَكُنْتُ امْرَأً مِنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ أَفَأُعْتِقُهَا؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ اللَّهُ؟" فَقَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، فَقَالَ:" مَنْ أَنَا؟" فَقَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَعْتِقْهَا"، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْحَكَمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشْيَاءٌ كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ: كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلا تَأْتُوا الْكُهَّانَ"، فَقَالَ عُمَرُ: وَكُنَّا نَتَطَيَّرُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ فَلا يَصُدَّنَّكُمْ". قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُسَمِّي هَذَا الرَّجُلَ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ وَإِنَّمَا هُوَ مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ. قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: هُوَ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ. وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: مَالِكٌ يَقُولُ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ هِلالَ بْنَ أُسَامَةَ، وَإِنَّمَا هُوَ هِلالُ بْنُ عَلِيٍّ غَيْرَ أَنَّ قَائِلا قَالَ: هُوَ هِلالُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أُسَامَةَ فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَإِنَّمَا نَسَبَهُ مَالِكٌ إِلَى جَدِّهِ.
سیدنا عمر بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک لونڈی بکریاں چراتی تھی میں اس کے پاس گیا تو ایک بکری غائب تھی میں نے اس بکری کے متعلق دریافت کیا تو اس نے کہا بکری بھیڑیا کھا گیا ہے، مجھے اس پر انتہائی افسوس ہوا (کیونکہ) میں بھی بنی آدم سے ہوں میں نے اس لونڈی کے چہرے پر تھپڑ مار دیا میں نے غلام آزاد کرنے کی نذر مانی تھی کیا اس کو آزاد کر دوں؟ (تو اس لونڈی کو لایا گیا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”یہ بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟“ کہنے لگی: ”آسمانوں پر ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ تو اس نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دے۔“ تو عمر بن حکم رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کچھ کام ہم جاہلیت میں کیا کرتے تھے ہم غیب کی باتیں بتانے والوں کے پاس جایا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس (اسلام کے بعد) مت جاؤ۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم پرندوں کے ذریعے قسمت بھی معلوم کیا کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وسوسہ ہے جو تمہارے دلوں میں آتا ہے پرندے اور بدشگونیاں تمہیں کسی کام سے نہ روکیں۔“ امام مزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: امام مالک رحمہ اللہ اس کا نام عمر بن حکم رضی اللہ عنہ بتاتے تھے حالانکہ یہ معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ تھے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب من أعتق شركاً له في عبد/حدیث: 552]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، المساجد، باب تحريم الكلام في الصلاة رقم: 537.»
Sunan Shafi Hadith 552 in Urdu