🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
87. باب : ترك ذلك
باب: تکبیر تحریمہ کے بعد رفع یدین نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1027
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ، ثُمَّ لَمْ يُعِدْ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں؟ چنانچہ وہ کھڑے ہوئے اور پہلی بار اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر انہوں نے دوبارہ ایسا نہیں کیا ۱؎۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1027]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 119 (748، 751)، سنن الترمذی/الصلاة 76 (257)، (تحفة الأشراف: 9468)، مسند احمد 1/388، 441، 442، ویأتی عند المؤلف برقم: 1059 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎ ایسا ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین نہ کرتے رہے ہوں، کیونکہ یہ فرض و واجب تو ہے نہیں، اس لیے ممکن ہے بیان جواز کے لیے کبھی آپ نے رفع یدین نہ کیا ہو، اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسی حالت میں آپ کو دیکھا ہو، ویسے ان سے تو کچھ ایسی باتیں بھی منقول ہیں کہ جن کا کوئی بھی امام قائل نہیں ہے، جیسے رکوع میں تطبیق (دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں ملا کر دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھنا) اور معوّذتین کا ان کے مصحف (قرآن) میں نہ ہونا، وغیرہ، تو ممکن ہے ان کی یہ روایت بھی انہی باتوں میں سے ہو، رفع یدین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مستمرہ و راتبہ میں سے نہ ہوتا تو آپ کی وفات کے بعد بیسیوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رفع یدین نہ کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (748) ترمذي (257) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥علقمة بن قيس النخعي، أبو شبل
Newعلقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود
ثقة ثبت
👤←👥عبد الرحمن بن الأسود النخعي، أبو حفص، أبو بكر
Newعبد الرحمن بن الأسود النخعي ← علقمة بن قيس النخعي
ثقة
👤←👥عاصم بن كليب الجرمي
Newعاصم بن كليب الجرمي ← عبد الرحمن بن الأسود النخعي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عاصم بن كليب الجرمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← سفيان الثوري
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل
Newسويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1027
رفع يديه أول مرة ثم لم يعد
سنن النسائى الصغرى
1059
لم يرفع يديه إلا مرة واحدة
جامع الترمذي
257
لم يرفع يديه إلا في أول مرة
سنن أبي داود
748
لم يرفع يديه إلا مرة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1027 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1027
1027۔ اردو حاشیہ: یہ روایت رکوع کے رفع الیدین کے نسخ کی دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہے، مگر یہاں چند باتیں قابل غور ہیں:
➊ اس روایت میں رکوع کے رفع الیدین کا ذکر ہی نہیں تو مسنوخ کیسے؟ اگر کہا جائے: پھر نہ کیا سے یہ مفہوم اخذ ہوتا ہے تو عرض ہے کہ قنوت وتر کا رفع الیدین اس سے کیسے بچ گیا؟ تکبیرات عیدین کیوں اس کی زد میں نہ آئیں؟
➋ اس روایت کی اسنادی حیثیت اتنی قوی نہیں جتنی رفع الیدین کے ثبوت کی احادیث کی ہے۔ اس حدیث کو اکثر محدثین نے ضعیف کہا ہے جب کہ رفع الیدین کرنے کی بخاری اور مسلم کی مستند روایات ہیں۔ پھر وہ تعداد میں بہت زیادہ ہیں۔ کیا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ایک ضعیف روایت لے کر کثیر صحابہ کی روایات چھوڑنا کسی بھی لحاظ سے مناسب ہے؟ تفصیل کے لیے دیکھیے: [ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائي: 52-50/13]
➌ کثیر صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم سے رفع الیدین کرنے کا ثبوت ملتا ہے جبکہ ان سے اس کی نفی منقول ہے۔ کس کو ترجیح ہونی چاہیے؟ یقیناًً اصولی طور پر اثبات نفی پر مقدم ہوتا ہے۔ یا ممکن ہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھول گئے ہوں جس طرح وہ چند باتیں اور بھول گئے تھے، مثلاً: معوذتین قرآن کا جز ہیں یا نہیں؟ اور امام کے ساتھ دو مقتدی ہوں تو کیسے کھڑے ہوں؟ رکوع کے دوران میں ہاتھ کہاں اور کیسے رکھے جائیں؟ اور مسائل میں احناف بھی ان کی بات نہیں مانتے۔ تو کیا مناسب نہیں کہ رفع الیدین کو بھی ان مسائل میں شامل کر لیا جائے کیونکہ ان کا موقف کثیر صحابہ کے موافق نہیں۔
➍ اس حدیث کی مناسب تاویل بھی ہو سکتی ہے، مثلاً: پہلی رکعت کے شروع میں رفع الیدین کیا۔ دوسری رکعت کے شروع میں نہیں کیا۔ عید کی طرح بار بار نہیں کیا وغیرہ، تاکہ یہ روایت اصح اور کثیر روایات کے مطابق ہو سکے۔
➎ اگر بالفرض اس حدیث کو صحیح بھی مانا جائے، تاویل بھی نہ کی جائے اور عمل بھی کیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ کبھی کبھار رفع الیدین نہ بھی کیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ معمول رفع الیدین ہی کا ہوتاکہ سب حدثیوں پر عمل ہو۔ اس روایت سے نسخ تو قطعاً ثابت نہیں ہوتا۔ مندرجہ بالا معقول باتوں کو چھوڑ کر نسخ ہی باور کرانے پر تلے رہنا، جب کہ مولانا انور شاہ کشمیری نے بھی نسخ کی تردید کی ہے، یقیناًً انتہائی نامعقولیت ہے جس کا کوئی جواز نہیں کیا جا سکتا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1027]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ غلام مصطفٰے ظهير امن پوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 748
جنہوں نے رکوع کے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کیا
«. . . فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً . . .»
. . . تو رفع یدین صرف ایک بار (نماز شروع کرتے وقت) کیا . . . [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة: 748]
فوائد و مسائل:
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
«أنه كان يرفع يديه فى أول تكبيرة، ثم لا يعود.»
آپ پہلی تکبیر میں رفع الیدین فرماتے تھے، پھر دوبارہ نہ کرتے۔ [مسند احمد:441،388/1، سنن ابي داود:748، سنن نسائي:1059، سنن ترمذي:257]
تبصرہ:
➊ یہ روایت ضعیف ہے،
اس میں سفیان ثوری ہیں، جو کہ بالاجماع مدلس ہیں، ساری کی ساری سندوں میں «عن» سے روایت کر رہے ہیں، سماع کی تصریح ثابت نہیں۔
مسلم اصول ہے کہ جب ثقہ مدلس بخاری و مسلم کے علاوہ «عن» یا «قال» کے الفاظ کے ساتھ حدیث بیان کرے تو وہ ضعیف ہوتی ہے۔
اس حدیث کے راوی امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ (م: 181ھ) نے امام ہشیم بن بشیر رحمہ اللہ (م: 183ھ) سے پوچھا، آپ تدلیس کیوں کرتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا:
«ان كبيريك قد دلسا الأعمش وسفيان.»
آپ کے دو بڑوں امام اعمش اور امام سفیان رحمہ اللہ علیہما نے بھی تدلیس کی ہے۔ [الكامل لابن عدي:95/1، 135/7 وسنده صحيح]

◈ امام عینی حنفی لکھتے ہیں:
«سفيان من المدلسين، والمدلس لا يحتج بعنعنته الا أن يثبت سماعه من طريق آخر.»
سفیان مدلس راویوں میں سے ہیں اور مدلس راوی کے عنعنہ سے حجت نہیں لی جاتی، الا یہ کہ دوسری سند میں اس کا سماع ثابت ہو جائے۔ [عمدة القاري:112/3]

➋ یہ ضعیف روایت عام ہے، جبکہ رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کے متعلق احادیث خاص ہیں، خاص کو عام پر مقدم کیا جاتا ہے، لہٰذا یہ حدیث عدم رفع الیدین کے ثبوت پر دلیل نہیں بن سکتی۔

➌ مانعین رفع الیدین یہ بتائیں کہ وہ اس حدیث کو پس پشت ڈالتے ہوئے خود وتروں اور عیدین میں پہلی تکبیر کے علاوہ کیوں رفع الیدین کرتے ہیں؟

حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ محدیثین کرام کی نظر میں:
◈ امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«لم يثبت عندي حديث ابن مسعود.»
میرے نزدیک حدیث ابن مسعود ثابت نہیں۔ [سنن الترمذي: تحت حديث256، سنن الدارقطني:393/1، السنن الكبريٰ للبيهي:79/2، وسنده صحيح]

◈ امام ابوداود رحمہ اللہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
«وليس هو بصحيح على هذا اللفظ.» یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں۔

◈ امام ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«هذا خطأ.» یہ غلطی ہے۔ [العلل:96/1]

◈ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وليس قول من قال: ثم لم يعد محفوظا.»
جس راوی نے دوبارہ رفع یدین نہ کرنے کے الفاظ کہے ہیں، اس کی روایت محفوظ نہیں۔ [العلل:173/5]

◈ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«هو فى الحقيقة أضعف شئ يعول عليه، لأن له عللا تبطله.»
درحقیقت یہ ضعیف ترین چیز ہے جس پر اعتماد کیا جات ہے، کیونکہ اس میں کئی علتیں ہیں جو اسے باطل قرار دیتی ہیں۔ [التلخيص الحبير لابن حجر:222/1]

تنبیہ:
اگر کوئی کہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ حنفی مذہب کی معتبر کتابوں میں لکھا ہے:
ابن دحیہ نے اپنی کتاب العلم المشہور میں کہا ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں کتنی ہی «موضوع» (من گھڑت) اور ضعیف سندوں والی احادیث کو «حسن» کہہ دیا ہے۔ [نصب الراية للزيلعي:217/2، البناية للعيني:869/2، مقالات الكوثري:311، صفائح اللجين از احمد رضا خان بريلوي:29]
[ماہنامہ السنہ جہلم ، شمارہ نمبر 12، حدیث/صفحہ نمبر: 2]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1059
رفع یدین نہ کرنے کی رخصت کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟ چنانچہ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، تو انہوں نے صرف ایک بار رفع یدین کیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1059]
1059۔ اردو حاشیہ: یہ روایت ضعیف ہے۔ مزید دیکھیے، حدیث: 1027۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1059]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 257
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم صرف پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھاتے تھے۔
علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز نہ پڑھاؤں؟ تو انہوں نے نماز پڑھائی اور صرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 257]
اردو حاشہ:
1؎:
جو لوگ رفع الیدین کی مشروعیت کے منسوخ ہونے کے قائل ہیں انہوں نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے،
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے،
امام احمد اور امام بخاری نے عاصم بن کلیب کی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے،
اور اگر اسے صحیح مان بھی لیا جائے تو یہ ان روایتوں کے معارض نہیں جن سے رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کا اثبات ہوتا ہے،
اس لیے کہ رفع یدین مستحب ہے فرض یا واجب نہیں،
دوسرے یہ کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اسے نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اوروں کی روایت غلط ہو،
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بہت سے مسائل مخفی رہ گئے تھے،
ہو سکتا ہے یہ بھی انہیں میں سے ہو جیسے جنبی کے تیمم کا مسئلہ ہے یا (رکوع کے درمیان دونوں ہاتھوں کی) تطبیق کی منسوخی کا معاملہ ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 257]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود 748
رفع یدین کو منسوخ یا متروک سمجھنا باطل ہے
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسو ب ایک روایت میں آیا ہے کہ انہوں نے صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کیا۔ [سنن ترمذي: 257، سنن ابي داود: 748 وغيرهما]
اس کی سند سفیان ثوری (مدلس) کی تدلیس (عن) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
دیکھئے میری کتاب: نور العینین اور میرا مضمون: امام سفیان ثوری کی تدلیس اور طبقۂ ثانیہ؟
ماسٹر امین اوکاڑوی نے کہا: کیونکہ اس میں سفیان مدلس… [تجليات صفدر ج5 ص470]
سرفراز خان صفدر نے کہا: مدلس راوی عن سے روایت کرے تو وہ حجت نہیں… [خزائن السنن ج1 ص1]
اگر کوئی کہے کہ سفیان ثوری کی روایتیں صحیح بخاری میں بھی موجود ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر مدلس کی صحیحن (صحیح بخاری و صحیح مسلم) میں ہر روایت صحیح ہے۔ دیکھئے خزائن السنن (ج1 ص1) لیکن صحیحین کے باہر دوسری کتابوں میں اس مدلس کے سماع کی تصریح یا معتبر متابعت ہونا ضروری ہے۔
مدلس کی عن والی ضعیف روایت کو شیخ احمد شاکر اور البانی وغیرہما کا صحیح قرار دینا اصولِ حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے غلط ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ [صحيح بخاري ج 1 ص102 ح736 ملخصا]
اس کے راوی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ [صحيح بخاري: 739]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے شاگرد ان کے بیٹے سالم رحمہ اللہ بھی رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ [حديث السراج 34/2۔ 35 ح115، و سنده صحيح]
یاد رہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زندگی میں آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 116 صحيح مسلم 2537]
معلوم ہوا کہ رفع یدین کو منسوخ یا متروک سمجھنا باطل ہے۔
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
[فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 77]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود748
سمرقندی صاحب کی روایت
اسناد دین میں سے ہیں (اور) اگر سند نہ ہوتی تو جس کے جو دل میں آتا کہتا۔
مشہور ثقہ امام عبداللہ بن المبارک المروزی رحمہ اللہ نے فرمایا:
«الْإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ»
اسناد دین میں سے ہیں (اور) اگر سند نہ ہوتی تو جس کے جو دل میں آتا کہتا۔
[صحيح مسلم، ترقيم دارالسلام: 32، ماهنامه منهاج القرآن لاهور ج 20 شماره: 11، نومبر 2006ء ص 22]
اس سنہری قول سے معلوم ہوا کہ بے سند بات مردود ہوتی ہے۔
ادارہ منہاج القرآن کے بانی محمد طاہر القادری صاحب اس کی تشریح میں فرماتے ہیں:
پس روایت حدیث، علم حدیث، علم تفسیر اور مکمل دین کا مدار اسناد پر ہے۔ سند کے بغیر کوئی چیز قبول نہ کی جاتی تھی۔
[ماهنامه منهاج القرآن ج 20 شماره: 11 ص 23]
اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ علاء الدین محمد بن احمد بن ابی احمد السمرقندی نے تحفۃ الفقہاء نامی کتاب میں لکھا ہے:
«والصحيح مذهبنا لما روي عن ابن عباس أنه قال: إن العشرة الذين بشر لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بالجنة ما كانوا يرفعون أيديهم إلا لإ فتتاح الصلٰوة. قال السمرقندي: وخلاف هٰؤلاء الصحابة قبيح»
اور صحیح ہمارا (حنفی) مذہب ہے، اس وجہ سے کہ جو ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا گیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: بے شک عشرہ مبشرہ جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی خوش خبری دی، وہ شروع نماز کے سوا رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ سمرقندی نے کہا: اور ان صحابہ کی مخالفت بُری (حرکت) ہے۔
[ج 1 ص 132، 133، دوسرا نسخه ص 66، 67]
سمرقندی کے بعد تقریباً یہی عبارت علاء الدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی (متوفی 587ھ) نے بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع [ج 1 ص 207] میں اور بدر الدین محمود بن احمد العینی (متوفی 855ھ) نے بحوالہ بدائع الصنائع اپنی کتاب عمدۃ القاری [ج5 ص272] میں نقل کر رکھی ہے۔ ملا کاسانی نے بدائع الصنائع کے شروع میں یہ اشارہ کر دیا ہے کہ انھوں نے اپنے استاد محمد بن احمد بن ابی احمد السمرقندی سے لے کر اپنی کتاب مرتب کی ہے۔ [ج 1 ص 2]
معلوم ہوا کہ اس روایت کا دارومدار سمرقندی مذکور پر ہے۔ سمرقندی صاحب 553 ہجری میں فوت ہوئے۔ دیکھئے: [معجم المؤلفين ج 3 ص 67 ت 11750]
یعنی وہ پانچویں یا چھٹی صدی ہجری میں پیدا ہوئے تھے۔ فقیر محمد جہلمی تقلیدی نے انھیں حدیقۂ ششم (چھٹی صدی کے فقہاء و علماء کے بیان) میں ذکر کیا ہے۔ [حدائق الحنفيه ص 267]
سمرقندی مذکور سے لے کر صدیوں پہلے 68 ھ میں فوت ہونے والے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تک کوئی سند اور حوالہ موجود نہیں ہے، لہٰذا یہ روایت بے سند اور بے حوالہ ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
تنبیہ بلیغ: ایسی بے سند وبے حوالہ روایت کو «أخرجه السمرقندي فى تحفة الفقهاء» إلخ، اس کی تخریج سمرقندی نے تحفۃ الفقہاء میں کی ہے الخ، کہہ کر سادہ لوح عوام کو دھوکا نہیں دینا چاہئے۔ لوگ تو یہ سمجھیں گے کہ سمرقندی کوئی بہت بڑا محدث ہوگا جس نے یہ روایت اپنی سند کے ساتھ اپنی کتاب تحفۃ الفقہاء میں نقل کر رکھی ہے۔ حالانکہ سمرقندی کا محدث ہونا ہی ثابت نہیں ہے بلکہ وہ ایک تقلیدی فقیہ تھا جس نے یہ روایت بغیر کسی سند اور حوالے کے «رُوي» کے گول مول لفظ سے لکھ رکھی ہے۔ اب عوام میں کس کے پاس وقت ہے کہ اصل کتاب کھول کر تحقیق کرتا پھرے۔!
عام طور پر غیر ثابت اور ضعیف روایت کے لئے صیغۂ تمریض «رُوِيَ» وغیرہ کے الفاظ بیان کئے جاتے ہیں، دیکھئے: [مقدمة ابن الصلاح مع شرح العراقي ص 136 نوع 22]
لہٰذا جس روایت کی کوئی سند سرے سے موجود ہی نہ ہو اور پھر بعض الناس اسے «رُوي» وغیرہ الفاظ سے بیان کریں تو ایسی روایت موضوع، بے اصل اور مردود ہی ہوتی ہے۔
سمرقندی و کاسانی کی پیش کردہ یہ بے سند و بے حوالہ روایت متن اور اصولِ روایت و اصولِ درایت کے لحاظ سے بھی مردود ہے۔
دلیل اول: امام ابو بکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ (متوفی 235ھ) فرماتے ہیں:
«حدثنا هشيم قال: أخبرنا أبو جمرة قال: رأيت ابن عباس يرفع يديه إذا افتتح الصلٰوة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع»
ہمیں ہشیم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابو جمرہ نے خبر دی، کہا: میں نے ابن عباس (رضی اللہ عنہ) کو دیکھا آپ شروع نماز اور رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔
[مصنف ابن ابي شيبه ج 1 ص 235 ح 2431]
اس روایت کی سند حسن لذاتہ یا صحیح ہے۔
معلوم ہوا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بذاتِ خود رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین کرتے تھے لہٰذا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ انھوں نے رفع یدین کے خلاف کوئی روایت بیان کر رکھی ہو۔ «من ادعي خلافه فعليه أن يأتى بالدليل.»
دلیل دوم: عشرۂ مبشرہ میں سے اول صحابی سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ دیکھئے امام بیہقی کی کتاب السنن الکبریٰ [ج 2 ص 73] «وقال: رواته ثقات» اس کے راوی ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیں۔
تنبیہ: اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے اور اس پر بعض الناس کی جرح مردود ہے۔ دیکھئے میری کتاب نورالعینین فی مسئلۃ رفع الیدین [ص 119 تا 121]
دلیل سوم: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے بھی رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین مروی ہے۔ دیکھئے نصب الرایہ [ج 1 ص 416] ومسند الفاروق لابن کثیر [ج 1 ص 165، 166] وشرح سنن الترمذی لابن سید الناس [قلمي ج 2 ص 217] وسندہ حسن، نیز دیکھئے نورالعینین [ص 195 تا 204] اس روایت کی سند حسن ہے اور یہ روایت شواہد کے ساتھ صحیح لغیرہ ہے۔
دلیل چہارم: سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر عشرۂ مبشرہ میں سے کسی ایک صحابی سے بھی رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کا ترک، ممانعت یا منسوخیت قطعاً ثابت نہیں ہے۔
تنبیہ: طاہر القادری صاحب نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ترک رفع یدین کی تین روایات لکھی ہیں۔ المنہاج السوی طبع چہارم [ص 228، 229 ح 258، 260، 261] یہ تینوں روایات اُصولِ حدیث کی رُو سے ضعیف ہیں۔ دیکھئے: نورالعینین [ص 231، 234، 236]
ان میں سے پہلی روایت کے راوی محمد بن جابر پر خود امام دارقطنی و امام بیہقی نے جرح کر رکھی ہے۔ اہلِ سنت کے جلیل القدر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: «هٰذا حديث منكر» یہ حدیث منکر ہے۔ [المسائل: رواية عبدالله بن احمد ج1ص 242 ت 327]
ابھی تک ماہنامہ الحدیث حضرو اور نورالعینین کی محولہ تنقید و جرح کا کوئی جواب ہمارے پاس نہیں آیا۔ والحمد للہ
خلاصۃ التحقیق: محمد طاہر القادری صاحب کی مسؤلہ روایتِ مذکورہ بےسند اور بےحوالہ ہونے کی وجہ سے بے اصل، باطل اور مردود ہے۔ «وما علينا إلا البلاغ»
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 1 صفحہ 363 تا 366) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
[فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 366]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، نسائی 1059
مسئلۂ رفع یدین اور اس کی منسوخی:
ساتواں شبہ: دعویٰ نسخ
بعض لوگوں نے انتہائی سینہ زوری کا ثبوت دیتے ہوئے رفع الیدین کے نسخ کا بے بنیاد دعویٰ کیا ہے۔ یہ دعویٰ کئی دلائل کی رو سے مردود ہے:
➊ اس کا صریح صحیح ناسخ موجود نہیں ہے۔
➋ صحابہ و تابعین کے مبارک دور میں رفع الیدین پر عمل ہوتا رہا ہے اور رفع الیدین کا ترک کسی ایک صحابی سے بھی باسندِ صحیح ثابت نہیں ہے، جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
➌ ترکِ رفع الیدین ہی ثابت نہیں ہے، لہٰذا دعویٰ نسخ کیسا؟
➍ ناسخ و منسوخ پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں مثلاً کتاب الحازمی، کتاب ابن شاہین، کتاب ابن الجوزی وغیرہ؛ ان کتابوں کے مصنفین نے اس مسئلے کو اپنی کتابوں میں ذکر تک نہیں کیا۔ ہے کوئی جو اس موضوع کی کسی ایک کتاب سے یہ مسئلہ نکال کر ہمیں دکھائے؟
➎ میں نے دلائل رفع یدین میں صحیح حدیث سے ثابت کر دیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم 9ھ اور 10ھ میں رفع الیدین کرتے رہے ہیں۔ اب ہمیں صحیح حدیث کے ساتھ بتایا جائے کہ کس سن ہجری میں رفع الیدین منسوخ یا ترک کر دیا گیا تھا؟
➏ اگر معاذ اللہ رفع الیدین منسوخ ہو گیا تھا تو پھر تکبیرِ تحریمہ، قنوت اور عیدین والا کس طرح اس نسخ سے بچ گیا؟
➐ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی میں صرف ایک نماز کا بھی ثبوت نہیں ہے کہ آپ نے رفع الیدین نہ کیا ہو۔ جب ترک ہی ثابت نہیں ہے تو نسخ کس طرح ثابت ہو گا؟
➑ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رفع الیدین نہ کرنے والوں کو کنکریوں سے مارتے تھے۔ [جزء رفع الیدین: 15، وسندہ صحیح]
کسی صحابی نے کسی کو بھی رفع الیدین کرنے پر نہیں مارا، لہٰذا دعویٰ نسخ باطل ہے۔
➒ رفع الیدین کی احادیث میں کان کا لفظ آیا ہے۔
❀ حافظ زیلعی حنفی نے کہا:
«فإنه بلفظ كان المقتضية للدوام»
یعنی کان کا لفظ دوام کا مقتضی ہے۔ [نصب الرایہ: 31/1]
یہاں پر کوئی قرینہ صارفہ بھی نہیں ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ حنفیوں کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ (على الدوام) رفع الیدین کرتے رہے ہیں، لہٰذا دعویٰ نسخ مردود ہے۔
➓ ❀ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے کہا:
«ومن ذلك أحاديث المنع من رفع اليدين فى الصلوة عند الركوع والرفع منه كلها باطلة على رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يصح منها شيء كحديث عبدالله بن مسعود رضي الله عنه: إنما أصلي بكم صلوة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: فصلى فلم يرفع يديه إلا فى أول مرة»
(موضوع احادیث میں سے) نماز میں رکوع سے پہلے اور بعد میں رفع الیدین کرنے کی ممانعت کی ساری احادیث باطل ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے۔ مثلاً سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی (سند سے منسوب) حدیث کہ انھوں نے صرف پہلی مرتبہ رفع الیدین کیا (باطل ہے۔) [المنار المنیف: ص 137]
نسخ کے دعویداروں کا فرض ہے کہ پہلے ترک تو ثابت کریں۔
◈ تحقیق کا خلاصہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے پہلے اور بعد رفع الیدین کیا کرتے تھے۔ اس بات کو درج ذیل صحابہ رضی اللہ عنہم نے بیان کیا ہے:
ابن عمر، مالک بن الحویرث، وائل بن حجر، ابو حمید الساعدی، علی بن ابی طالب، ابو موسیٰ الاشعری، ابو بکر الصدیق، عبد اللہ بن الزبیر، ابو قتادہ، سہل بن سعد الساعدی، ابو اسید محمد بن مسلمہ اور جابر وغیرہم رضی اللہ عنہم اجمعین (ان روایات کی سندیں صحیح ہیں۔)
اس کے خلاف کسی ایک بھی صحیح یا حسن حدیث میں ترکِ رفع الیدین باصراحت ثابت نہیں ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر نماز میں رفع الیدین کریں۔
❀ امام علی بن عبد اللہ المدینی رحمہ اللہ نے فرمایا:
«حق على المسلمين أن يرفعوا أيديهم لهذا الحديث»
اس حدیث کی بنا پر مسلمانوں پر یہ لازم ہے کہ وہ (نماز میں) رفع الیدین کریں۔ [صحیح البخاری (نسخہ پاکستانی): ج 1، ص 102] [فتح الباری: ج 2، ص 175] [جزء رفع الیدین: ص 34، حدیث: 2] [التلخیص الحبیر: ج 1، ص 218، حدیث: 227]
نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔
[ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

محترم ابوحمزہ عبدالخالق صدیقی حفظ الله، فوائد و مسائل، ابوداود 748
مانعین رفع الیدین کے بنیادی دلائل میں سے سرفہرست سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث مبارک ہے۔ جس میں ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فصلى، فلم يرفع يديه الا فى اول مرة.»
«سنن ترمذي، ابواب الصلاة، رقم: 257 ـ سنن أبو داؤد، رقم: 748. مشكاة، رقم: 809.
»
کیا میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھاؤں؟ پس آپ نے نماز پڑھی اور صرف پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھائے۔
اس روایت کو کئی ایک ائمہ محدثین رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ مثلاً:
➊ امام عبدالله بن مبارك (شاگرد امام ابو حنيفه) [سنن: ترمذي: 2/ 38، التحقيق لابن الجوزي: 1/ 278]
➋ امام شافعی [الزرقـانـي عـلى الموطا: 1/ 158۔ فتح البارى 2 / 175]
➌ امام احمد بن حنبل [التمهيد: 219/9ـ العلل ومعرفة الرجال: 116/1، 117]
➍ امام ابو حاتم رازی [علل الحديث: 96/1]
➎ امام دار قطنی [العلل 172/5]
➏ امام ابن حبان [التلخيص: 222/1]
➐ امام ابو داؤد [سنن أبى داؤد: 199/1]
➑ امام يحيى بن آدم [التلخيص: 222/1]
➒ امام بزار [التمهيد: 220/9، 221]
➓ امام محمد بن وضاح [التمهيد: 221/9]
⓫ امام بخاری [التلخيص: 1/ 222۔ جزء رفع اليدين، 113۔ المجموع: 3/ 403]
⓬ امام ابن القطان الفاسي [نصب الرايه: 1/ 395]
⓭ امام ابن ملقن [البدر المنير]
⓮ امام حاکم [تهذيب السنن: 449/2]
⓯ امام نووی [المجموع: 403/3]
⓰ امام دارمی [تهذيب السنن: 449/2]
⓱ امام بیهقی [مختصر خلافيات: 379/1]
⓲ امام مروزی [نصب الرايه: 1 / 395]
⓳ امام ابن قدامه [المغنى: 295/1]
(20) امام ابن عبدالبر [التمهيد: 9/ 220، 221۔ مرعاة: 323/2]
(21) امام ابن قيم [المنار المنيف، ص 49]
علماء اصول کا مشہور قول ہے:
«الترمذى يتساهل فى التحسين.»
[فتح البارى: 62/9]
ترمذی حدیث کو حسن کہنے میں متساہل ہیں۔
[میں رفع یدین کیوں کروں، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

ڈاکٹر محمد جاویدحفظ اللہ، سنن نسائی 1059
حدیث عبد اللہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ اور عدم رفع الیدین
الف۔ یہاں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے رفع الیدین نہ کرنے کے حوالہ سے دو احادیث زیر بحث ہیں:
➊ ❀ «حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ:‏‏‏‏ أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ»
[مسند احمد: 3681] [جامع الترمذی: 257] [سنن ابی داؤد: 748] [سنن النسائی: 1058]
کیا میں تمہارے سامنے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھوں، پھر نماز پڑھی اور پہلی بار کے علاوہ ہاتھ نہ اٹھائے۔
➋ ❀ «وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ ثُمَّ لَا يَعُودُ»
[شرح مشکل الآثار: 5826] [شرح معانی الآثار: 1349]
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پہلی تکبیر کے ساتھ ہاتھ اٹھاتے، پھر ایسا نہ کرتے۔
ب۔ پہلی حدیث کی اگرچہ شیخ البانی اور احمد شاکر رحمہما اللہ کے علاوہ بھی بعض محدثین نے تصحیح کی ہے۔
ج۔ ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں ہیں، مصححین سے تسامح ہوا ہے۔ جارحین میں جلیل القدر محدثین ہیں اور ان کی جرح مفسر ہے۔
د۔ ضعف کی تفصیل اور جارحین:
➊ الشیخ عبد اللہ بن المبارک (م۔ 181 ھ):
آپ رفع الیدین کی حدیث کو ثابت کہنے کے بعد فرماتے ہیں:
«وَلَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ» [جامع الترمذی: 256]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ کی حدیث: رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پہلی بار کے علاوہ ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، ثابت نہیں ہے۔
یاد رہے عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللّٰہ کی جرح امام الترمذی رحمہ اللّٰہ نقل فرما رہے ہیں جو حدیث عبد اللہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کے ناقل ہیں۔ بعض کے نزدیک عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کی جرح سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہُ عنہ کی اس موقوف پہ نہیں، مرفوع پہ ہے، موقوف صحیح ہے۔ یہ بات بھی صحیح نہیں، کیونکہ جن مصححین کے نام لیے جاتے ہیں انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللّٰہ عنہ کی اسی موقوف حدیث کی تصحیح کی ہے۔ ہمارے نزدیک مذکورۃ الصدر مرفوع کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضعیف ہے، کیونکہ محدثین کی جرح وکیع رحمہ اللہ سے نچلے رواۃ پہ نہیں بلکہ انہی رواۃ پہ ہے جو دونوں احادیث میں مشترک ہیں۔
➋ امام ابو داؤد رحمہ اللّٰہ:
آپ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہی حدیث نقل کر کے متصلاً جرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
«هَذَا حَدِيثٌ مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَلَيْسَ هُوَ بِصَحِيحٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ» [سنن ابی داؤد: 748]
یعنی یہ حدیث ان الفاظ میں صحیح نہیں ہے۔
➌ امام ابن حبان رحمہ اللّٰہ:
آپ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی جلالتِ شان بیان کرنے کے بعد اس حدیث کو رکوع میں تطبیق کی طرح قرار دے کر جرح فرمائی۔
[صحیح ابن حبان: 1874]
ہمارے نزدیک نیچے کے رواۃ کا تسامح بیان کر کے حدیث کا ضعف بیان کرنا احوط ہے۔
➍ مزید ابن حبان رحمہ اللّٰہ:
آپ کے نزدیک ترکِ رفع کے باب میں یہ حدیث (بظاہر) احسن الخبر ہے لیکن حقیقت میں یہ انتہائی ضعیف ہے کیونکہ اس میں ایسی علل ہیں جو اسے باطل کر دیتی ہیں:
«لِأَنَّ لَهُ عِلَلًا تُبْطِلُهُ وَهَؤُلَاءِ الْأَئِمَّةُ إِنَّمَا طَعَنُوا كُلُّهُمْ فِي طَرِيقِ عاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ» [التلخیص الحبیر: 546/1]
➎ امام الدارقطنی رحمہ اللّٰہ (م۔ 385):
فرماتے ہیں:
اس کی سند صحیح ہے لیکن اس کے الفاظ «ثُمَّ لَمْ يَعُدْ» محفوظ نہیں ہیں جیسا کہ ابو حذیفہ نے سفیان ثوری رحمہ اللہ سے بیان کیا یا حمانی نے وکیع رحمہ اللّٰہ سے۔ امام احمد بن حنبل، ابن ابی شیبہ، ابن نمیر، وکیع سے بیان کرتے ہیں اور اس میں «ثُمَّ لَمْ يَعُدْ» کے الفاظ نہیں ہیں، یعنی «ثُمَّ لَمْ يَعُدْ» کے الفاظ صحیح نہیں ہیں [علل الدارقطنی: 804]
➏ ابن القطان الفاسی رحمہ اللہ (م۔ 628ھ):
انہوں نے ان الفاظ یعنی پھر رفع الیدین نہ کیا کو ضعیف کہا۔ [الوھم والایھام: 365/5]
➐ زیلعی حنفی رحمہ اللہ (م۔ 762ھ):
فرماتے ہیں:
عبد اللہ بن مبارک فرماتے ہیں، وکیع کی حدیث صحیح نہیں ہے، میرے نزدیک حدیث صحیح ہے، اس میں وکیع کے ان الفاظ «ثُمَّ لَا يَعُودُ» یعنی پہلی دفعہ رفع الیدین کرتے، پھر نہ کرتے کا انکار کیا گیا ہے [نصب الرایۃ: 359/1]
➑ امام محمد بن نصر المروزی رحمہ اللّٰہ:
انہوں نے اپنی کتاب «رفع الیدین» میں ان الفاظ، یعنی پہلی بار کے بعد پھر رفع الیدین نہ کرتے کو ضعیف کہا ہے۔ [الوھم والایھام: 365/3]
➒ حافظ ابن حجر العسقلانی (م۔ 852ھ):
سیدنا عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ حدیثِ وکیع صحیح نہیں، جبکہ زیلعی حنفی رحمہ اللّٰہ کی رائے ہے کہ حدیث صحیح ہے مگر «ثُمَّ لَا يَعُودُ» یعنی پھر رفع الیدین نہ کرتے کی زیادتی صحیح نہیں ہے۔ [المطالب العالیۃ: 40/4]
➓ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ:
فرماتے ہیں:
«هَذَا خَطَاءٌ، وَهِمَ فِيهِ الثَّوْرِيُّ»
یہ حدیث خطا ہے، اس میں سفیان الثوری رحمہ اللّٰہ کو وہم ہوا ہے، اس حدیث کو عاصم بن کلیب رحمہ اللّٰہ سے ایک جماعت نے نقل کیا اور سبھی یہ الفاظ بیان کرتے ہیں: رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع فرمائی تو رفع الیدین کیا، پھر رکوع کیا تو دونوں ہاتھ گھٹنوں کے درمیان رکھے، جو ثوری کہتے ہیں وہ کسی نے بھی بیان نہیں کیا [العلل لابن ابی حاتم: 124/2]
⓫ یحییٰ بن آدم رحمہ اللّٰہ:
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے شیخ فرماتے ہیں:
یہ حدیث ضعیف ہے [التلخیص الحبیر: 546/1]
⓬ شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ:
جامع الترمذی اور مسند کی تحقیق میں اسے صحیح ضرور کہا، جبکہ المحلّٰی لابن حزم کی تحقیق میں فرماتے ہیں:
یہ حدیث صحیح ہے جبکہ رفع الیدین کے اثبات کی احادیث اصح یعنی صحیح ترین بلکہ متواتر ہیں۔ ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ رفع الیدین کی نفی بیان کرتے ہیں جبکہ کثیر صحابہ رضوان اللہ علیہم اس کا اثبات کرتے ہیں اور اثبات نفی پہ مقدم ہوتا ہے
[حاشیہ المحلّٰی: 120/4] [انیس الساری: 2073/1]
⓭ احمد بن محمد الغماری:
ان کے نزدیک عبد اللہ بن مبارک، یحییٰ بن آدم، امام بخاری، امام ابو داؤد، ابو حاتم رازی، الدار قطنی اور ابن حبان رحمہم اللہ نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے بلکہ امام نووی رحمہ اللہ نے اس کے ضعف پہ محدثین کا اتفاق نقل کیا ہے۔ [الھدایۃ فی تخریج احادیث البدایۃ: 100/3]
مزید تسلی کے لیے یہ کتب دیکھیے جہاں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی عدم رفع کی احادیث کا ضعف بیان ہوا ہے:
⓮ امام بیہقی رحمہ اللّٰہ (م۔ 458ھ):
[السنن الکبری: 2533] [معرفۃ السنن والآثار: 3281]
⓯ امام بغوی رحمہ اللّٰہ (م۔ 516ھ):
[شرح السنۃ: 561]
⓰ ابن الجوزی رحمہ اللہ:
[التحقیق: 335/1]
⓱ امام ابن قدامہ رحمہ اللّٰہ (م۔ 620ھ):
[المغنی: 295/1]
⓲ امام نووی رحمہ اللہ (م۔ 676ھ):
[المجموع شرح المھذب: 403/3]
⓳ حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ (م۔ 852ھ):
[التلخیص الحبیر: 546]
ه۔ پھر اس حدیث میں سفیان الثوری رحمہ اللّٰہ کا عنعنہ ہے، کسی بھی کتاب میں سماعت کی صراحت نہیں ہے اور سفیان الثوری رحمہ اللّٰہ جمہور محدثین کے نزدیک مدلس ہیں۔ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«الْحُجَّةُ الثَّبْتُ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ مَعَ أَنَّهُ كَانَ يُدَلِّسُ عَنِ الضُّعَفَاءِ»
یعنی ثقہ ہیں لیکن ضعیف راویوں سے تدلیس کرتے ہیں [میزان الاعتدال: 3322]
عینی حنفی رحمہ اللّٰہ (م۔ 855ھ) فرماتے ہیں:
«وَسُفْيَانُ مِنَ الْمُدَلِّسِينَ وَالْمُدَلِّسُ لَا يُحْتَجُّ بِعَنْعَنَتِهِ إِلَّا أَنْ يَثْبُتَ سَمَاعُهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ»
یعنی سفیان مدلسین میں سے ہیں، مدلس کی جب تک سماعت کی صراحت نہ ہو، اس کا عنعنہ قابلِ حجت نہیں ہوتا
[عمدۃ القاری: 112/3]
و۔ خلاصۃ الکلام:
رفع الیدین کی احادیث کو سیوطی، انور شاہ کشمیری، احمد شاکر رحمہم اللّٰہ وغیرہ متواتر کہتے ہیں۔ اس کے برعکس عدمِ رفع کی احادیث مروی ضرور ہیں مگر مرجوح ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللّٰہ کے نزدیک رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ایک بھی صحابی سے بسندِ صحیح عدمِ رفع الیدین ثابت نہیں ہے۔ اللہ عزوجل ہم سب کو ہدایت پہ زندہ رکھے اور ہدایت پہ ہی موت دے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1027 in Urdu