🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ : لَعْنِ إِبْلِيسَ وَالتَّعَوُّذِ بِاللَّهِ مِنْهُ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں ابلیس پر لعنت کرنے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1216
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَسَمِعْنَاهُ , يَقُولُ:" أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، ثُمَّ قَالَ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ ثَلَاثًا وَبَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا" , فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ , وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ , قَالَ:" إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي , فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ , وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا بِهَا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو کہتے سنا: «أعوذ باللہ منك» ”میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے“ پھر آپ نے فرمایا: «‏ألعنك بلعنة اللہ» ”میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں“ تین بار آپ نے ایسا کہا، اور اپنا ہاتھ پھیلایا گویا آپ کوئی چیز پکڑنی چاہ رہے ہیں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں ایک ایسی بات کہتے ہوئے سنا جسے ہم نے اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے ہوئے نہیں سنا، نیز ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین بار کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، پھر میں نے تین بار کہا: میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں، پھر بھی وہ پیچھے نہیں ہٹا، تو میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لوں، اللہ کی قسم! اگر ہمارے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی، تو وہ صبح کو اس (کھمبے) سے بندھا ہوا ہوتا، اور اس سے اہل مدینہ کے بچے کھیل کرتے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1216]
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک ہم نے آپ کو یہ فرماتے سنا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ» ”میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر آپ نے تین دفعہ فرمایا: «أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ» ”میں تجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت بھیجتا ہوں۔“ نیز آپ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا گویا کہ کوئی چیز پکڑ رہے ہیں۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آج آپ کو نماز میں ایسے الفاظ کہتے سنا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں سنے اور ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک بھڑکتا ہوا شعلہ لے کر آیا تھا تاکہ میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین دفعہ کہا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ» ”میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر میں نے کہا: «أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ» ”میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں۔“ لیکن وہ پیچھے نہ ہٹا۔ تین دفعہ ایسا ہوا۔ آخر میں نے اسے پکڑنے کا ارادہ کیا۔ اللہ کی قسم! اگر میرے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام نے دعا نہ کی ہوتی تو اسے ستون سے باندھ دیا جاتا اور صبح اہل مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1216]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 8 (542)، (تحفة الأشراف: 10940) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عويمر بن مالك الأنصاري، أبو الدرداءصحابي
👤←👥أبو إدريس الخولاني، أبو إدريس
Newأبو إدريس الخولاني ← عويمر بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥ربيعة بن يزيد الإيادي، أبو شعيب
Newربيعة بن يزيد الإيادي ← أبو إدريس الخولاني
ثقة
👤←👥معاوية بن صالح الحضرمي، أبو حمزة، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newمعاوية بن صالح الحضرمي ← ربيعة بن يزيد الإيادي
صدوق له أوهام
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← معاوية بن صالح الحضرمي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن سلمة المرادي، أبو الحارث
Newمحمد بن سلمة المرادي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1216 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1216
1216۔ اردو حاشیہ:
➊ اس روایت سے معلوم ہوا کہ شیطان پر لعنت بھیجنا اور اس سے تعوذ، خواہ صیغۂ خطاب کے ساتھ ہی ہو، نماز کو باطل نہیں کرتا کیونکہ اس سے مقصود خطاب نہیں ہوتا بلکہ لعنت وغیرہ مقصود ہوتی ہے۔ ہاں، اگر نماز میں جنوں سے کلام مقصود ہو تو نماز باطل ہو جائے گی۔
➋ شیطان دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈرانا چاہتا تھا مگر اسے آپ کی روحانی قوت کا اندازہ نہ تھا۔
➌ حضرت سلیمان علیہ السلام نے دعا کی تھی: ”اے اللہ! مجھے ایسی حکو مت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو نہ ملے۔“ [ص: 35: 38] اس حکو مت کی ایک خصوصیت جنوں پر غلبہ بھی تھا۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس جن کو پکڑ لیتے اور اسے ستون سے باندھ دیتے تو یہ ان کے اختصاص اور دعا کے منافی ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ سلیمان علیہ السلام کی دعا قبول فرما چکا تھا۔
➍ ممکن ہے وہ انسانی شکل میں آیا ہو اور آپ کے پکڑنے سے وہ آدمی کی صورت میں رہ جاتا۔ تبھی اسے باندھا جاتا اور بچوں کے لیے شغل کا موقع فراہم ہوتا ورنہ اصلی صورت میں تو یہ ممکن نہیں۔
➎ قیدی کو مسجد میں باندھنا جائز ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1216]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1216 in Urdu