یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب : التشهد والتسليم في صلاة الكسوف
باب: سورج گرہن کی نماز میں تشہد پڑھنے اور سلام پھیرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1498
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ، أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ عَنْ سُنَّةِ صَلَاةِ الْكُسُوفِ , فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَنَادَى أَنِ الصَّلَاةَ جَامِعَةً , فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا مِثْلَ قِيَامِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ سُجُودًا طَوِيلًا مِثْلَ رُكُوعِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً وَهِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى فِي الْقِيَامِ الثَّانِي، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ أَدْنَى مِنْ سُجُودِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ فِيهِمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَأَيُّهُمَا خُسِفَ بِهِ أَوْ بِأَحَدِهِمَا فَافْزَعُوا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِذِكْرِ الصَّلَاةِ".
عبدالرحمٰن بن نمر سے روایت ہے کہ انہوں نے زہری سے گرہن کی نماز کے طریقے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی ہے وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا، تو اس نے اعلان کیا کہ نماز جماعت سے ہونے والی ہے، تو لوگ جمع ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی، آپ نے اللہ اکبر کہا، پھر ایک لمبی قرآت کی، پھر اللہ اکبر کہا، پھر ایک لمبا رکوع کیا، اپنے قیام کی طرح یا اس سے بھی لمبا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر ایک لمبی قرآت کی یہ پہلی قرآت سے کم تھی، پھر «اللہ اکبر» کہا، اور ایک لمبا رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا، اور ایک لمبا سجدہ کیا اپنے رکوع کی طرح یا اس سے بھی لمبا، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا، اور اپنا سر اٹھایا، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا اور سجدہ کیا، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا اور ایک لمبی قرآت کی، یہ پہلی قرآت سے کم تھی، پھر «اللہ اکبر» کہا، پھر ایک لمبا رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر ایک لمبی قرآت کی لیکن یہ پہلی قرآت سے جو دوسری رکعت میں کی تھی کم تھی، پھر آپ نے «اللہ اکبر» کہا، اور ایک لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر «اللہ اکبر» کہا اور اپنا سر اٹھایا، پھر «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر «اللہ اکبر» کہا، اور سجدہ کیا، اور یہ پہلے سجدہ سے کم تھا، پھر آپ نے تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا، پھر ان کے بیچ میں کھڑے ہوئے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”سورج اور چاند نہ تو کسی کے مرنے سے گہناتے ہیں اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، تو ان میں سے کسی کو گہن لگ جائے تو نماز کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑ پڑو“۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1498]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ سورج کو گرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا کہ نماز کی جماعت ہونے والی ہے۔ لوگ اکٹھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی۔ آپ نے «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، پھر لمبی قراءت کی، پھر «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا اور لمبا رکوع کیا، اپنے قیام جتنا یا اس سے بھی لمبا، پھر اپنا سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہا، پھر طویل قراءت کی جو پہلی قراءت سے کم تھی، پھر «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا اور لمبا سجدہ کیا، رکوع جتنا یا اس سے بھی لمبا، پھر «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہہ کر سر اٹھایا اور پھر «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہہ کر سجدہ کیا، پھر «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہہ کر اٹھے اور لمبی قراءت کی جو پہلی قراءت سے کم تھی، پھر «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا اور لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہا اور پھر لمبی قراءت کی جو دوسرے قیام کی پہلی قراءت سے کم تھی، پھر «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا اور لمبا لیکن پہلے رکوع سے کم لمبا رکوع کیا، پھر اٹھایا اور «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہا، پھر «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہہ کر پہلے سجدوں سے کم لمبے سجدے کیے۔ پھر تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا۔ پھر آپ (تقریر کے لیے) کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”سورج اور چاند کسی کی موت و حیات کی بنا پر بے نور نہیں ہوتے بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ ان میں سے جسے گرہن لگ جائے تو گھبرا کر (فوراً) نماز کی صورت میں اللہ کا ذکر شروع کر دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1498]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1495 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥عبد الرحمن بن نمر اليحصبي، أبو عمرو عبد الرحمن بن نمر اليحصبي ← محمد بن شهاب الزهري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس الوليد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن نمر اليحصبي | ثقة | |
👤←👥عمرو بن عثمان القرشي، أبو حفص عمرو بن عثمان القرشي ← الوليد بن مسلم القرشي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1177
| الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته |
صحيح مسلم |
2089
| الشمس والقمر من آيات الله لا ينخسفان لموت أحد |
صحيح مسلم |
2091
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد |
صحيح مسلم |
2096
| الشمس والقمر لا يكسفان لموت أحد ولا لحياته |
سنن أبي داود |
1191
| الشمس والقمر لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته |
صحيح البخاري |
1044
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته |
صحيح البخاري |
1058
| الشمس والقمر لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته لكنهما آيتان من آيات الله يريهما عباده |
سنن ابن ماجه |
1263
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته |
صحيح البخاري |
3203
| آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته |
سنن النسائى الصغرى |
1473
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته |
سنن النسائى الصغرى |
1471
| الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته |
سنن النسائى الصغرى |
1475
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته |
سنن النسائى الصغرى |
1501
| الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته |
سنن النسائى الصغرى |
1498
| الشمس والقمر لا ينخسفان لموت أحد ولا لحياته |
مسندالحميدي |
179
| عايذ بالله من ذلك |
مسندالحميدي |
180
|
Sunan an-Nasa'i Hadith 1498 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق