🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب : فضل صلاة الليل في السفر
باب: سفر میں قیام اللیل (تہجد) پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1616
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قال: سَمِعْتُ رِبْعِيًّا، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ رَفَعَهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، رَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَمَنَعُوهُ، فَتَخَلَّفَهُمْ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا لَا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالَّذِي أَعْطَاهُ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ، فَقَامَ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَانْهَزَمُوا فَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُفْتَحَ لَهُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے: ایک وہ شخص جو کسی قوم کے پاس آیا، اور اس نے ان سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگا، آپ سی قرابت کا واسطہ دے کر نہیں مانگا، تو انہوں نے اسے نہیں دیا، پھر انہی میں سے ایک آدمی ان کے پیچھے سے آیا، اور چھپا کر چپکے سے اسے دیا، اور اس کے اس صدقہ دینے کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور اس شخص کے جس کو اس نے دیا ہے کوئی نہیں جانتا، اور دوسرا آدمی وہ ہے جس کے ساتھ کے لوگ رات بھر چلتے رہے یہاں تک کہ جب نیند انہیں بھلی معلوم ہونے لگی تو وہ اترے اور سو رہے، لیکن وہ خود کھڑا ہو کر اللہ کے سامنے عاجزی کرتا رہا، اور اس کی آیتیں تلاوت کرتا رہا، اور تیسرا وہ شخص ہے جو ایک لشکر میں تھا، دشمن سے ان کی مڈبھیڑ ہوئی، تو وہ ہار گئے (جس کی وجہ سے بھاگنے لگے) لیکن وہ سینہ سپر رہا یہاں تک کہ وہ مارا جائے، یا اللہ اسے فتح دے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1616]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین (قسم کے) آدمی وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کو محبت ہے: ایک وہ آدمی جو کسی قوم کے پاس آیا اور ان سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کیا، اپنی کسی رشتے داری کی بنا پر سوال نہیں کیا لیکن کسی نے اسے کچھ نہ دیا مگر ایک آدمی ان سب لوگوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے چلا گیا اور اس (سائل) کو پوشیدہ طور پر مال دیا، اس کے اس عطیے کا کسی کو علم نہ ہوا، سوائے اللہ تعالیٰ کے اور اس شخص کے جس کو اس نے دیا۔ اور ایک وہ شخص کہ کچھ لوگ ساری رات چلتے رہے حتیٰ کہ جب نیند ان کو ہر چیز سے زیادہ پیاری لگنے لگی تو وہ اترے اور سو گئے مگر وہ شخص کھڑا ہو کر میرے سامنے گڑگڑانے لگا اور (نماز میں) میری آیات پڑھنے لگا اور ایک وہ شخص جو ایک لشکر میں شامل تھا، اس لشکر کا دشمن سے مقابلہ ہوا، سب شکست کھا گئے مگر وہ سینہ تان کر آگے بڑھا حتیٰ کہ وہ مارا گیا یا اسے فتح مل گئی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة الجنة 25 (2568)، (تحفة الأشراف: 11913)، مسند احمد 5/153، ویأتی عند المؤلف برقم: 2571 (کلھم بسیاق فیہ زیادة) (ضعیف) (اس کے راوی ”زیدبن ظبیان“ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥زيد بن ظبيان الكوفي
Newزيد بن ظبيان الكوفي ← أبو ذر الغفاري
مقبول
👤←👥ربعي بن حراش العبسي، أبو مريم
Newربعي بن حراش العبسي ← زيد بن ظبيان الكوفي
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← ربعي بن حراش العبسي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1616
ثلاثة يحبهم الله رجل أتى قوما فسألهم بالله ولم يسألهم بقرابة بينه وبينهم فمنعوه فتخلفهم رجل بأعقابهم فأعطاه سرا لا يعلم بعطيته إلا الله والذي أعطاه قوم ساروا ليلتهم حتى إذا كان النوم أحب إليهم مما يعدل به نزلوا فوضعوا رءوسهم فقام يتملقني ويتلو آياتي رجل ك
سنن النسائى الصغرى
2571
ثلاثة يحبهم الله وثلاثة يبغضهم الله أما الذين يحبهم الله فرجل أتى قوما فسألهم بالله ولم يسألهم بقرابة بينه وبينهم فمنعوه فتخلفه رجل بأعقابهم فأعطاه سرا لا يعلم بعطيته إلا الله والذي أعطاه وقوم ساروا ليلتهم حتى إذا كان
جامع الترمذي
2568
ثلاثة يحبهم الله وثلاثة يبغضهم الله فأما الذين يحبهم الله فرجل أتى قوما فسألهم بالله ولم يسألهم بقرابة بينه وبينهم فمنعوه فتخلف رجل بأعقابهم فأعطاه سرا لا يعلم بعطيته إلا الله والذي أعطاه قوم ساروا ليلتهم حتى إذا كان النوم أحب إليهم مما يعدل به نزلوا
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1616 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1616
1616۔ اردو حاشیہ:
➊ تین آدمی، یعنی تین قسم کے آدمی، خواہ وہ ہزاروں لاکھوں ہوں۔
پہلا وہ آدمی یعنی عطیہ دینے والا، نہ کہ مانگنے والا۔
➌ مخفی صدقہ کرنے کی فضیلت معلوم ہوئی۔
➍ اللہ تعالیٰ کی صفت محبت ثابت ہوئی، جیسے اس کی شان کے لائق ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1616]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2571
صدقہ و خیرات دینے والے کے ثواب کا بیان۔
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ عزوجل محبت کرتا ہے، اور تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ عزوجل بغض رکھتا ہے، رہے وہ جن سے اللہ محبت کرتا ہے تو وہ یہ ہیں: ایک شخص کچھ لوگوں کے پاس گیا، اور اس نے ان سے اللہ کے نام پر کچھ مانگا، اور مانگنے میں ان کے اور اپنے درمیان کسی قرابت کا واسطہ نہیں دیا۔ لیکن انہوں نے اسے نہیں دیا۔ تو ایک شخص ان لوگوں کے پیچھے سے مانگنے والے کے پاس آیا۔ اور ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2571]
اردو حاشہ:
(1) محبت اور بغض اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں جن کا قرآن وحدیث میں بکثرت ذکر ملتا ہے، مگر کچھ لوگ فلسفے کے بعض غیر مسلم اصولوں سے متاثر ہو کر ان صفات کی نفی کرتے ہیں اور ان سے صرف انعام وانتقام مراد لیتے ہیں، حالانکہ یہ الگ دو صفات ہیں جو اللہ تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں۔ ان لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات سے واقفیت رکھتے ہیں؟ لفظ سے وہی معنیٰ مراد لینے چاہئیں جو ایک سادہ سننے والے کی سمجھ میں آتے ہیں، حقیقت ہو یا مجاز۔ اگر ان صفات کا عام مفہوم اللہ تعالیٰ کے لائق نہ ہوتا تو ضرور بیان کر دیا جاتا۔
(2) جن تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ کے محبت فرمانے کا تعلق ہے۔ ان میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے خلوص۔ تینوں ریا کاری سے کوسوں دور ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنا مال، آرام اور جان قربان کرتے ہیں۔
(3) زنا، تکبر اور ظلم ہر حال میں کبیرہ گناہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں۔ اور ان کا فاعل اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ہے مگر جب ان کے فاعل کے پاس ذرہ بھر بھی عذر نہ ہو حتیٰ کہ عرفاً بھی نہ ہو تو یہ کام اکبر الکبائر بن جاتے ہیں۔ نوجوان کے پاس شہوت، مالدار کے پاس مال اور فقیر کے ہاں فقر ان جرائم کا عذر عرفاً بن سکتے ہیں مگر بوڑھے کے پاس زنا اور فقیر کے پاس تکبر اور اکڑفوں اور مال دار کے پاس کسی کی حق تلفی کا کیا عذر ہو سکتا ہے؟ جسے شرعاً نہیں تو عرفاً ہی پیش کیا جا سکے۔ أَعَاذَنَا اللّٰہُ عَنْھَا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2571]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1616 in Urdu