سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب : بأى شىء تستفتح صلاة الليل
باب: قیام اللیل (تہجد) کس دعا سے شروع کی جائے؟
حدیث نمبر: 1627
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ وَأَنَا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّهِ لَأَرْقُبَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةٍ حَتَّى أَرَى فِعْلَهُ،" فَلَمَّا صَلَّى صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَهِيَ الْعَتَمَةُ اضْطَجَعَ هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَنَظَرَ فِي الْأُفُقِ , فَقَالَ:" رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا حَتَّى بَلَغَ إِنَّكَ لا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ سورة آل عمران آية 191 - 194" , ثُمَّ أَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فِرَاشِهِ فَاسْتَلَّ مِنْهُ سِوَاكًا، ثُمَّ أَفْرَغَ فِي قَدَحٍ مِنْ إِدَاوَةٍ عِنْدَهُ مَاءً فَاسْتَنَّ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى حَتَّى قُلْتُ قَدْ صَلَّى قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى , قُلْتُ: قَدْ نَامَ قَدْرَ مَا صَلَّى ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ أَوَّلَ مَرَّةٍ , وَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ الْفَجْرِ".
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میں نے اپنے جی میں کہا کہ اللہ کی قسم! میں نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ آپ کے عمل کو دیکھ لوں، تو جب آپ نے عشاء کی نماز پڑھی، اور یہی عتمہ تھی، تو بڑی رات تک سوئے رہے، پھر آپ بیدار ہوئے توافق کی جانب نگاہ اٹھائی، اور فرمایا: «ربنا ما خلقت هذا باطلا» ”اے ہمارے رب! تو نے اسے بیکار پیدا نہیں کیا ہے“ (آل عمران: ۱۹۱) یہاں تک کہ آپ «إنك لا تخلف الميعاد» ”بلاشبہ تو وعدہ خلافی نہیں کرتا“ (آل عمران: ۱۹۴) تک پہنچے، پھر آپ اپنے بچھونے کی طرف جھکے، اور آپ نے اس میں سے ایک مسواک نکالی، پھر ڈول سے جو آپ کے پاس تھا ایک پیالے میں پانی انڈیلا، اور مسواک کی، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور نماز پڑھی یہاں تک کہ میں نے (اپنے دل میں) کہا: آپ جتنی دیر تک سوئے تھے اتنی ہی دیر تک آپ نے نماز پڑھی ہے، پھر آپ لیٹ گئے یہاں تک کہ میں نے (اپنے دل میں) کہا: آپ اتنی ہی دیر تک سوئے ہیں جتنی دیر تک آپ نے نماز پڑھی تھی، پھر آپ بیدار ہوئے تو آپ نے اسی طرح کیا جس طرح آپ نے پہلی مرتبہ کیا تھا، اور اسی طرح کہا جس طرح پہلے کہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے تین مرتبہ (اسی طرح) کیا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1627]
حضرت حمید بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ میں نے (دل میں) کہا: اللہ کی قسم! میں (رات کی) نماز کے وقت بغور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھوں گا تاکہ مجھے پتہ چلے کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ جب آپ نے عشاء کی نماز پڑھ لی تو آپ کافی رات تک لیٹے رہے، پھر آپ جاگے اور افق میں دیکھا، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا﴾ [سورة آل عمران: 191] حتیٰ کہ آپ نے ﴿إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ﴾ [سورة آل عمران: 194] تک پڑھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر کی طرف جھکے اور اس میں سے مسواک نکالی، پھر آپ نے اپنے پاس پڑے ہوئے چمڑے کے برتن سے ایک پیالے میں کچھ پانی ڈالا اور مسواک فرمائی (اور وضو کیا۔) پھر آپ نے نماز شروع فرمائی۔ میرا خیال ہے آپ جتنی دیر سوئے تھے، اتنی دیر آپ نے نماز پڑھی، پھر آپ لیٹ گئے حتیٰ کہ میرا خیال ہے کہ آپ اتنی دیر سوئے جتنی دیر نماز پڑھی تھی، پھر جاگے اور اسی طرح کیا جس طرح پہلے کیا تھا اور وہی کچھ پڑھا جو پہلی دفعہ پڑھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے تین بار ایسے کیا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15552) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1627 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1627
1627۔ اردو حاشیہ:
➊ اس طرز کا باب پہلے بھی گزر چکا ہے۔ وہاں بھی کچھ دعائیں بیان ہوئی ہیں۔ کوئی بھی دعا لی جائے، کافی و وافی ہے۔
➋ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عبادات میں اور غیرعبادات میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کی پیروی میں بہت حریص تھے۔
➊ اس طرز کا باب پہلے بھی گزر چکا ہے۔ وہاں بھی کچھ دعائیں بیان ہوئی ہیں۔ کوئی بھی دعا لی جائے، کافی و وافی ہے۔
➋ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عبادات میں اور غیرعبادات میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کی پیروی میں بہت حریص تھے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1627]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1627 in Urdu
حميد بن عبد الرحمن الزهري ← اسم مبهم