سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
122. بَابُ : الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 180
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ بْنِ شَرِيقٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ فَسَقَتْهُ سَوِيقًا، ثُمَّ قَالَتْ لَهُ: تَوَضَّأْ يَا ابْنَ أُخْتِي، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
ابوسفیان بن سعید بن اخنس بن شریق نے خبر دی ہے کہ وہ اپنی خالہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، تو انہوں نے مجھے ستو پلایا، پھر کہا: بھانجے! وضو کر لو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 180]
ابوسفیان بن سعید بن اخنس بن شریق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ان کی خالہ تھیں۔ انہوں نے ان کو ستو پلائے، پھر فرمایا: ”اے بھانجے! وضو کرو کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر اس چیز (کے کھانے) سے وضو کرو جسے آگ نے پکایا ہو۔“” [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 180]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «الطہارة 76 (195)، (تحفة الأشراف: 15871)، مسند احمد 6/326، 327، 328، 426، 427 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
11307
الجامع الكامل حدیث نمبر :
11307
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
195
| توضئوا مما غيرت النار |
سنن النسائى الصغرى |
181
| توضئوا مما مست النار |
سنن النسائى الصغرى |
180
| توضئوا مما مست النار |
Sunan an-Nasa'i Hadith 180 in Urdu
أبو سفيان بن سعيد الثقفي ← رملة بنت أبي سفيان الأموية