🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
123. باب : ترك الوضوء مما غيرت النار
باب: آگ کی پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 185
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كَانَ" آخِرَ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرْكُ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں باتوں (آگ کی پکی ہوئی چیز کھا کر وضو کرنے اور وضو نہ کرنے) میں آخری بات آگ پر پکی ہوئی چیز کھا کر وضو نہ کرنا ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 185]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان دو کاموں میں سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کام یہ تھا کہ آپ آگ پر پکی ہوئی چیز (کھانے) سے وضو نہیں فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 185]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 75 (192)، (تحفة الأشراف: 3047)، وأخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 53 (5457)، مسند احمد 3/304، 307، 322، 363، 375، 381، بغیر ھذا اللفظ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن المنكدر القرشي
ثقة حافظ متقن
👤←👥علي بن عياش الألهاني، أبو الحسن
Newعلي بن عياش الألهاني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
👤←👥عمرو بن منصور النسائي، أبو سعيد
Newعمرو بن منصور النسائي ← علي بن عياش الألهاني
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
80
أتته بعلالة من علالة الشاة فأكل ثم صلى العصر ولم يتوضأ
سنن أبي داود
191
أكل ثم دعا بوضوء فتوضأ به ثم صلى الظهر ثم دعا بفضل طعامه فأكل ثم قام إلى الصلاة ولم يتوضأ
سنن أبي داود
192
ترك الوضوء مما غيرت النار
سنن النسائى الصغرى
185
ترك الوضوء مما مست النار
صحيح ابن خزيمة
43
ترك الوضوء مما مست النار
المعجم الصغير للطبراني
158
ترك الوضوء مما مست النار
سنن أبي داود
3762
أقبل رسول الله من شعب من الجبل وقد قضى حاجته وبين أيدينا تمر على ترس أو حجفة فدعوناه فأكل معنا وما مس ماء
مسندالحميدي
1303
أتى النبي صلى الله عليه وسلم امرأة من الأنصار، فرشت له صورا لها، والصور النخلات المجتمعات، وذبحت له شاة، فأكل منها رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم جاءت صلاة الظهر، فقام النبي صلى الله عليه وسلم، فتوضأ، ثم صلى الظهر، ثم أتي بعلالة الشاة، فأكل منها، ثم قام إلى العصر ولم يتوضأ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 185 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 185
185۔ اردو حاشیہ: دو کاموں سے مراد آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کرنا اور نہ کرنا ہے، گویا وضو کرنے کا حکم منسوخ ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت بھی اسی طرف اشارہ کر رہی ہے کیونکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فتح مکہ کے بعد مدینہ آئے تھے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 185]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3762
جلدی ہو تو بغیر ہاتھ دھوئے کھانا درست ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑ کی گھاٹی سے قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آئے اس وقت ہمارے سامنے ڈھال پر کچھ کھجوریں رکھیں تھیں، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا تو آپ نے ہمارے ساتھ کھایا اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3762]
فوائد ومسائل:

علامہ خطابی لکھتے ہیں۔
کہ اگر دعوت دینے والے نے پیشگی دعوت نہ دے رکھی ہو تو اچانک اس کے کھانے میں شریک ہونا نا پسند سمجھا جاتاہے۔
الا یہ کہ آثار وقرائن سے واضح ہوکہ صاحب طعام فراخ دلی سے پیش کش کر رہا ہے۔
توشریک ہوجائے۔


مذکورہ دونوں روایات (ہاتھ دھونے والی اور نہ دھونے والی) ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابل حجت ہیں۔
بنا بریں کھانے کے وقت ہاتھ دھونے ضروری نہیں۔
ہاں اگر وہ صاف نہ ہوں تو پھر دھونے ضروری ہوں گے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3762]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 80
آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم (مدینہ میں) نکلے، میں آپ کے ساتھ تھا، آپ ایک انصاری عورت کے پاس آئے، اس نے آپ کے لیے ایک بکری ذبح کی آپ نے (اسے) تناول فرمایا، وہ تر کھجوروں کا ایک طبق بھی لے کر آئی تو آپ نے اس میں سے بھی کھایا، پھر ظہر کے لیے وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھی، آپ نے واپس پلٹنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ وہ بکری کے بچے ہوئے گوشت میں سے کچھ گوشت لے کر آئی تو آپ نے (اسے بھی) کھایا، پھر آپ نے عصر کی نماز پڑھی اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 80]
اردو حاشہ:
1؎:
سوائے اونٹ کے گوشت کے،
جیسا کہ اگلی حدیث میں آرہا ہے،
اونٹ کے گوشت میں ایک خاص قسم کی بو اور چکناہٹ ہوتی ہے،
جس کی وجہ سے ناقض وضو کہا گیا ہے،
اس سلسلے میں وارد وضو کو صرف ہاتھ منہ دھو لینے کے معنی میں لینا شرعی الفاظ کو خواہ مخواہ اپنے حقیقی معنی سے ہٹانا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 80]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1303
1303- سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری خاتون کے پاس تشریف لائے اس خاتون نے مختلف قسم کی کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک بکری بھی ذبح کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا گوشت کھایا پھر جب ظہر کی نماز کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ظہر کی نماز ادا کی پھر اس بکری کا باقی رہ جانے والا گوشت لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ کھا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1303]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ ایک دوسرے کی دعوت کرنی چاہیے، دعوت میں روٹی، اور دودھ وغیرہ جتنی ڈشیں چا ہیں، بنائی جاسکتی ہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1301]

Sunan an-Nasa'i Hadith 185 in Urdu