🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. باب : الجلوس قبل أن توضع الجنازة
باب: جنازہ رکھنے سے پہلے بیٹھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2000
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامٍ، وَالْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، وَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدَنَّ حَتَّى تُوضَعَ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، اور جو اس کے ساتھ جائے وہ بھی کھڑا رہے یہاں تک کہ اسے رکھ دیا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2000]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، وہ نہ بیٹھے حتیٰ کہ جنازہ (زمین پر) رکھ دیا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2000]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1915 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو سعيد الخدري
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة مأمون
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل
Newسويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1310
إذا رأيتم الجنازة فقوموا فمن تبعها فلا يقعد حتى توضع
صحيح مسلم
2220
إذا اتبعتم جنازة فلا تجلسوا حتى توضع
صحيح مسلم
2221
إذا رأيتم الجنازة فقوموا فمن تبعها فلا يجلس حتى توضع
جامع الترمذي
1043
إذا رأيتم الجنازة فقوموا لها فمن تبعها فلا يقعدن حتى توضع
سنن أبي داود
3173
إذا تبعتم الجنازة فلا تجلسوا حتى توضع
سنن النسائى الصغرى
1915
إذا مرت بكم جنازة فقوموا فمن تبعها فلا يقعد حتى توضع
سنن النسائى الصغرى
1918
إذا رأيتم الجنازة فقوموا فمن تبعها فلا يقعد حتى توضع
سنن النسائى الصغرى
1920
إن رسول الله مرت به جنازة فقام
سنن النسائى الصغرى
2000
إذا رأيتم الجنازة فقوموا ومن تبعها فلا يقعدن حتى توضع
بلوغ المرام
464
إذا رايتم الجنازة فقوموا فمن تبعها فلا يجلس حتى توضع
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2000 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 2000
2000۔ اردو حاشیہ: تفصیل کے لیے دیکھیے، فوائد حدیث سنن نسائي: 1915 تا 1931۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2000]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 464
جنازے کے لیے کھڑا ہونا
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی جنازے کو آتے دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ۔ نیز جو شخص جنازے کے ساتھ ہو وہ جنازے کے زمین پر رکھے جانے سے پہلے نہ بیٹھے۔ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 464]
لغوی تشریح:
«فَقُومُوا» امر کا صیغہ ہے مگر امر استحباب کے معنی میں ہے، یا یہ حکم اب منسوخ ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں قسم کے فرامین میں سے جو آخری ارشادات ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام چھوڑ دیا تھا۔
«حَتّٰي تُوضَعَ» آدمیوں کے کندھوں سے اتار کر زمین پر رکھنے تک اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ قبر میں اتارنے تک۔ دونوں کا احتمال ہے مگر پہلا قول راجح ہے۔ جنازہ زمین پر رکھنے سے پہلے بیٹھنے کی ممانعت بھی استحباب پر محمول ہے، وجوب پر نہیں۔

فائدہ:
موت کا عمل انسان کے لیے اضطراب اور بےچینی و بےقراری کا باعث ہوتا ہے، نیز میت کے ہمراہ فرشتے بھی ہوتے ہیں، اس لیے ان کے احترام میں کھڑے ہونا لائق اعتبار ہے۔ مگر بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ صلى الله عليه وسلم کو علم ہوا کہ جنازے کے لیے کھڑا ہونا یہودیوں کا طریقہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنے اور یہودیوں کی مخالفت کا حکم فرمایا۔ اس بنا پر بعض نے کھڑے ہونے کے حکم کو منسوخ قرار دیا ہے۔ اور بعض نے اس حکم کو محض استحباب پر محمول کیا ہے اور صرف وجوب کو منسوخ قرار دیا ہے۔ شیخ البانی رحمہ الله وغیرہ نے کھڑے ہونے کے حکم کو منسوخ قرار دیا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 464]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1915
جنازے کو جلد دفنانے کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے (سامنے) سے جنازہ گزرے تو کھڑے ہو جاؤ، (اور) جو (جنازے) کے ساتھ جائے وہ نہ بیٹھے یہاں تک کہ اسے رکھ دیا جائے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1915]
1915۔ اردو حاشیہ:
➊ یہ حدیث اگلے باب کے تحت ذکر ہونی چاہیے۔ پچھلے باب سے اس کا کوئی تعلق نہیں بنتا۔ واللہ أعلم۔
کھڑے ہو جاؤ ایک اور حدیث میں اس کی وجہ بھی بیان کی گئی ہے: «إن للموت فزعا» (مسند أحمد: 354/3) موت گھبراہٹ کا باعث ہے۔ یعنی موت کو دیکھ کر یا سن کر انسان کو گھبرا جانا چاہیے۔ حوادث سے متاثر ہونا فطری چیز ہے۔ اور موت تو سب سے بڑا حادثہ ہے۔ ایک کی موت دوسروں کو بھی ان کی موت یاد دلاتی ہے، لہٰذا جنازہ دیکھیں تو اپنا کام چھوڑ کر کھڑے ہونا چاہیے۔ بعض روایات میں یہ وجہ بھی ذکر ہے کہ یہ قیام فرشتوں کے احترام کے طور پر ہے جو جنازے کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ان دونوں صورتوں میں جنازہ عام ہو گا، مسلم کا ہو یا کافر کا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ کھڑے ہونا تعاون کے امکان کے لیے ہے۔ اس صورت میں یہ حکم صرف مسلم کے جنازے کے لیے ہو گا، یعنی جب تک جنازہ کندھوں پر ہے، ساتھیوں کے تعاون کی ضرورت پڑ سکتی ہے، لہٰذا جنازہ زمین پر رکھنے تک شرکاء مت بیٹھیں لیکن یہ توجیہ کمزور ہے۔ (قیام کی باقی بحث آئندہ باب میں ہے۔)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1915]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3173
میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازے کے پیچھے چلو تو جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے نہ بیٹھو ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری نے اس حدیث کو سہیل سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے: یہاں تک کہ جنازہ زمین پر رکھ دیا جائے اور اسے ابومعاویہ نے سہیل سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ جب تک جنازہ قبر میں نہ رکھ دیا جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری ابومعاویہ سے زیادہ حافظہ والے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3173]
فوائد ومسائل:
اس سے میت کے ساتھ جانے والوں کےلئے اس بات کا استحباب معلوم ہوتا ہے۔
کہ جب تک میت کو رکھ نہ دیا جائے۔
بیٹھنے سے گریز کیا جائے۔
لیکن بعد میں بیٹھنے کے حکم والی روایات سے بعض علماء کے نزدیک اس کا نسخ اور بعض کے نزدیک ددنوں ہاتھوں کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3173]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1310
1310. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤاور جو شخص اس کے ہمراہ جا رہا ہو وہ نہ بیٹھے تاآنکہ اسے زمین پر رکھ دیا جائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1310]
حدیث حاشیہ:
اس بارے میں بہت کچھ بحث وتمحیص کے بعد شیخ الحدیث حضرت مولانا عبیداللہ صاحب ؒ فرماتے ہیں:
والقول الراجح عندي هو ما ذهب إليه الجمهور من أنه يستحب أن لا يجلس التابع والمشيع للجنازة حتى توضع بالأرض. وأن النهي في قوله:
فلا يقعد، محمول على التنزيه. والله تعالى أعلم. ويدل على استحباب القيام إلى أن توضع ما رواه البيهقي۔
(ص: 27ج: 4)
من طريق أبي حازم قال:
مشيت مع أبي هريرة وابن عمر وابن الزبير والحسن بن علي أمام الجنازة حتى انتهينا إلى المقبرة، فقاموا حتى وضعت ثم جلسوا، فقلت لبعضهم، فقال:
إن القائم مثل الحامل يعني في الأجر. (مرعاة‘ جلد: 2 ص: 471)
یعنی میرے نزدیک قول راجح وہی ہے جدھر جمہور گئے ہیں اور وہ یہ کہ جنازہ کے ساتھ چلنے والوں اور اس کے رخصت کرنے والوں کے لیے مستحب ہے کہ وہ جب تک جنازہ زمین پر نہ رکھ دیا جائے نہ بیٹھیں اور حدیث میں نہ بیٹھنے کی نہی تنزیہی ہے اور اس قیام کے استحباب پر بیہقی کی وہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جسے انہوں نے ابوحازم کی سند سے روایت کیا ہے کہ ہم حضرت ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر اور حسن بن علی ؓ کے ساتھ ایک جنازہ کے ہمراہ گئے۔
پس یہ جملہ حضرات کھڑے ہی رہے جب تک وہ جنازہ زمین پر نہ رکھ دیا گیا۔
اس کے بعد وہ سب بھی بیٹھ گئے۔
میں نے ان میں سے بعض سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ کھڑا رہنے والا بھی اسی کے مثل ہے جو خود جنازہ کو اٹھا رہا ہے یعنی ثواب میں یہ دونوں برابر ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1310]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1310
1310. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤاور جو شخص اس کے ہمراہ جا رہا ہو وہ نہ بیٹھے تاآنکہ اسے زمین پر رکھ دیا جائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1310]
حدیث حاشیہ:
(1)
جنازے کے لیے قیام کی یہ دوسری قسم ہے جسے امام بخاری ؒ نے اس عنوان میں بیان کیا ہے کہ جنازے کے ہمراہ جانے والوں کے لیے کیا حکم ہے؟ امام بخاری ؒ نے اس سلسلے میں حدیث پیش کی ہے کہ جو جنازے میں شرکت کرے وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک کہ جنازہ رکھ نہ دیا جائے۔
عنوان میں جنازہ رکھنے کو مقید کیا ہے کہ اسے لوگوں کے کندھوں سے اتار کر رکھ دیا جائے۔
گویا امام ؒ نے سنن ابی داود کی روایت کو ترجیح دی ہے جس کے الفاظ ہیں کہ جب تم جنازے کے پیچھے چلو تو اس وقت تک نہ بیٹھو تاآنکہ اسے زمین پر رکھ دیا جائے۔
(سنن أبي داود، الجنائز، حدیث: 3173)
اگرچہ بعض روایات میں قبر میں رکھنے کا بھی ذکر ہے، لیکن امام ابو داود ؒ نے اس روایت کو مرجوح قرار دیا ہے، نیز راوی حدیث سہیل بن ابی صالح کا عمل بایں الفاظ بیان ہوا ہے کہ وہ اس وقت تک نہ بیٹھتے تھے جب تک جنازہ کندھوں سے اتار نہ دیا جاتا، یعنی اسے زمین پر رکھ دیا جاتا۔
دیگر روایات سے بھی اس موقف کی تائید ہوتی ہے۔
حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ کسی جنازے میں شریک ہوں اور جنازہ رکھے جانے سے قبل بیٹھ گئے ہوں۔
(سنن النسائي، الجنائز، ص: 1919) (2)
ہمارے نزدیک جنازے کے لیے قیام کی یہ دوسری قسم بھی منسوخ ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازوں کے ساتھ کھڑے رہتے جب تک انہیں رکھ نہ دیا جاتا اور آپ کے ساتھ لوگ بھی کھڑے رہتے، پھر اس کے بعد آپ نے بیٹھنا شروع کر دیا اور لوگوں کو بھی بیٹھنے کا حکم دیا۔
(السنن الکبریٰ للبیيقي: 27/4)
اس کی وضاحت ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک جنازے کو لحد میں نہ رکھ دیا جاتا، پھر ایک یہودی عالم کا گزر ہوا تو اس نے کہا کہ اس طرح تو ہم کرتے ہیں، تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنا شروع کر دیا اور فرمایا کہ تم بھی بیٹھا کرو اور ان کی مخالفت کرو۔
(سنن أبي داود، الجنائز، حدیث: 3167)
علامہ البانی ؒ نے بھی اسی موقف کو اختیار کیا ہے۔
(أحکام الجنائز، حدیث: 77، 78)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1310]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2000 in Urdu