🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. باب : ذكر اختلاف الناقلين لخبر حفصة في ذلك
باب: اس باب میں حفصہ رضی الله عنہا کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2333
أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ لَمْ يُبَيِّتِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَلَا صِيَامَ لَهُ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص طلوع فجر سے پہلے روزہ کی نیت نہ کرے تو اس کا روزہ نہ ہو گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم71 (2454)، سنن الترمذی/الصوم33 (730)، سنن ابن ماجہ/الصوم26 (1700)، (تحفة الأشراف: 15802)، مسند احمد 6/287، سنن الدارمی/الصوم10 (1740)، وانظر الأرقام التالیة إلی 2345 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حکم فرض روزوں کے سلسلہ میں ہے یا قضاء اور کفارہ کے روزوں کے سلسلہ میں، نفلی روزے کے لیے رات میں نیت ضروری نہیں، جیسا کہ ابھی عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث سے معلوم ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (1700) عبد اللّٰه بن أبى بكر لم يسمعه من سالم. وانظر الحديث الآتي (2334) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حفصة بنت عمر العدويةصحابي
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← حفصة بنت عمر العدوية
صحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن أبي بكر الأنصاري، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي بكر الأنصاري ← سالم بن عبد الله العدوي
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن أيوب الغافقي، أبو العباس
Newيحيى بن أيوب الغافقي ← عبد الله بن أبي بكر الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يحيى بن أيوب الغافقي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥سعيد بن شرحبيل الكندي، أبو عثمان
Newسعيد بن شرحبيل الكندي ← الليث بن سعد الفهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥القاسم بن دينار القرشي، أبو محمد
Newالقاسم بن دينار القرشي ← سعيد بن شرحبيل الكندي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2333
من لم يبيت الصيام قبل الفجر فلا صيام له
سنن النسائى الصغرى
2334
من لم يبيت الصيام قبل الفجر فلا صيام له
سنن النسائى الصغرى
2336
من لم يبيت الصيام من الليل فلا صيام له
جامع الترمذي
730
من لم يجمع الصيام قبل الفجر فلا صيام له
سنن أبي داود
2454
من لم يجمع الصيام قبل الفجر فلا صيام له
بلوغ المرام
532
من لم يبيت الصيام قبل الفجر فلا صيام له
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2333 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2333
اردو حاشہ:
(1) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ اسی مفہوم کی روایت: 2338 کو موقوفاً صحیح قرار دیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے محقق کتاب کے نزدیک یہ روایت معناً صحیح ہے، نیز دیگر محققین نے بھی مذکورہ حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور ان کی تحقیق سے راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ مذکورہ روایت قابل عمل ہے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے (ذخیرة العقبی شرح سنن النسائي: 21/ 247- 251، وارواء الغلیل: 4/ 25-30، رقم: 914)
(2) اہل علم نے اس حدیث کو فرض یا اس کی قضا ادا کرنے اور دوسرے واجب روزوں پر محمول کیا ہے اور نفل روزے کو اس سے مستثنیٰ کیا ہے جیسا کہ مندرجہ بالا کثیر روایات سے صاف واضح ہوتا ہے۔ اس طریقے سے تمام احادیث میں تطبیق دی جا سکتی ہے، لہٰذا اگردن کو پتا چلے کہ آج رمضان المبارک شروع ہو چکا ہے تو اسی وقت روزہ شروع کیا جا سکتا ہے، کچھ کھایا پیا ہو یا نہ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2333]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 532
(روزے کے متعلق احادیث)
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ام المؤمنین سے مروی کہ نبی کریم صلی اللہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے صبح صادق سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا کوئی روزہ نہیں۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور نسائی کا رجحان اس کے موقوف ہونے کی طرف ہے اور ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اس کا مرفوع ہونا صحیح قرار دیا ہے اور دارقطنی کی روایت میں ہے جس نے رات کو اپنے آپ پر واجب نہ کر لیا اس کا کوئی روزہ نہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 532]
لغوی تشریح 532:
مَنْ لَّم یُبَیِّتِ۔۔۔ الخ یُبَیِّتِ تَبِییت سے ماخوذ ہے، یعنی رات میں روزے کی نیت کرنا۔
لَم یَفرِضہُ باب ضرب یضرب سے ہے، یعنی اسے اپنے اوپر فرض نہیں کیا اور یہ اس طرح کہ اس نے روزے کی نیت نہ کی۔

فوائد و مسائل 532:
➊ مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندًا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح کہا ہے۔ علاوہ ازیں فاضل محقق نے سنن ابنِ ماجہ کی تحقیق میں اس روایت کی بابت لکھا ہے کہ یہ مذکورہ روایت سنن نسائی میں بھی حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے، وہ روایت موقوفًا صحیح ہے۔ دیکھیے: تحقیق و تخریج سنن ابنِ ماجہ، رقم: 1700 شیخ البانی رحمہ اللہ نے أرواءالغلیل میں اسپر کافی بحث کی ہے جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [أرواءالغليل: 25/4، 30، رقم: 914]
بنابریں فرضی روزے کی نیت صبح صادق سے پہلے کر لینا ضروری ہے۔ گویا غروبِ آفتاب کے بعد سے لے کر صبح صادق کے طلوع ہونے سے پہلے تک نیت کی جا سکتی ہے۔ 2۔ نفلی روزے کی نیت دن میں بھی کی جا سکتی ہے۔
➌ نیت اس لیے ضروری اور لازمی ہے کہ روزہ ایک عمل ہے اور عمل کے لیے نیت ضروری ہے اور ہر دن کے روزے کے لیے الگ الگ نیت شرط ہے، البتہ روزے کی نیت کے جو الفاظ زبان سے کہے جاتے ہیں وہ بدعت ہیں کیونکہ نیت دل کا عمل ہے، زبان کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین ہی سے ثابت ہیں۔

راوئ حدیث:
حضرت حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنھا پہلے یہ خنیس بن حذافہ سھمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ ان کے ساتھ ہجرت کی۔ غزؤہ بدر کے بعد وہ وفات پا گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 3 ہجری میں انہیں اپنی زوجیت میں لے کر اپنے حرم میں داخل فرمالیا۔ ساٹھ سال کی عمر میں شعبان 45 ہجری میں فوت ہوئیں۔

[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 532]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2454
روزے کی نیت کا بیان۔
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے فجر ہونے سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ہو گا۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث اور اسحاق بن حازم نے عبداللہ بن ابی بکر سے اسی کے مثل (یعنی مرفوعاً) روایت کیا ہے، اور اسے معمر، زبیدی، ابن عیینہ اور یونس ایلی نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا پر موقوف کیا ہے، یہ سارے لوگ زہری سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2454]
فوائد ومسائل:
فرض روزوں میں فجر سے پہلے نیت کر لینا ضروری ہے اور افضل یہ ہے کہ ہر ہر روزے کی نیت علیحدہ سے کی جائے مگر خیال رہے کہ نیت دل کے عزم و ارادہ کا نام ہے۔
ان عبادات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یا ان کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے لفظی نیت کا کوئی ثبوت نہیں ہے، لفظی نیت کا اہتمام بدعت ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2454]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 730
جو رات ہی کو روزے کی نیت نہ کرے اس کا روزہ نہیں۔
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے روزے کی نیت فجر سے پہلے نہیں کر لی، اس کا روزہ نہیں ہوا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 730]
اردو حاشہ:
1؎:
بظاہر یہ عام ہے فرض اور نفل دونوں قسم کے روزے کو شامل ہے لیکن جمہور نے اسے فرض کے ساتھ خاص مانا ہے اور راجح بھی یہی ہے،
اس کی دلیل عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے جس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے اور پوچھتے:
کیا کھانے کی کوئی چیز ہے؟ تو اگر میں کہتی کہ نہیں تو آپ فرماتے:
میں روزے سے ہوں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 730]