🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. باب : صوم النبي صلى الله عليه وسلم - بأبي هو وأمي - وذكر اختلاف الناقلين للخبر في ذلك
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2373
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ! أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي هَذَا الْيَوْمِ:" إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ".
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو عاشوراء کے دن منبر پر کہتے سنا: اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن میں کہتے ہوئے سنا کہ میں روزہ سے ہوں تو جو روزہ رکھنا چاہے وہ رکھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2373]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم69 (2003)، صحیح مسلم/الصوم19 (1125)، (تحفة الأشراف: 11408)، موطا امام مالک/الصوم11 (34)، مسند احمد 4/95، 97 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاوية بن أبي سفيان الأموي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥حميد بن عبد الرحمن الزهري، أبو عثمان، أبو إبراهيم، أبو عبد الرحمن
Newحميد بن عبد الرحمن الزهري ← معاوية بن أبي سفيان الأموي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← حميد بن عبد الرحمن الزهري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2003
هذا يوم عاشوراء ولم يكتب الله عليكم صيامه وأنا صائم من شاء فليصم ومن شاء فليفطر
صحيح مسلم
2653
هذا يوم عاشوراء ولم يكتب الله عليكم صيامه وأنا صائم من أحب منكم أن يصوم فليصم ومن أحب أن يفطر فليفطر
سنن النسائى الصغرى
2373
إني صائم فمن شاء أن يصوم فليصم
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2373 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2373
اردو حاشہ:
امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصد یہ بتلانا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء کا روزہ بھی رکھا کرتے تھے، مگر عاشوراء کا اکیلا روزہ مناسب نہیں، اس کے ساتھ نویں یا نویں کا چھوٹ جائے تو مشابہت سے بچنے کی خاطر گیارہویں کا رکھنا بھی ان شاء اللہ جائز ہوگا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2373]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2003
2003. حضرت حمید بن عبدالرحمان سے روایت ہے انھوں نے حضرت امیر معاویہ ؓ کو عاشوراء کے دن، جس سال انھوں نے حج کیا، منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: اے اہل مدینہ!تمہارے علماء کہاں گئے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: یہ عاشوراء کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا۔ البتہ میں روزے سے ہوں، اس لیے جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے، اسے چھوڑ دے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2003]
حدیث حاشیہ:
شاید معاویہ ؓ کو یہ خبر پہنچی ہو کہ مدینہ والے عاشوراءکا روزہ مکروہ جانتے ہیں یا اس کا اہتمام نہیں کرتے یا اس کو فرض سمجھتے ہیں، تو آپ نے منبر پر یہ تقریر کی، آپ نے یہ حج 44ھ میں کیا تھا۔
یہ ان کی خلافت کا پہلا حج تھا۔
اور اخیر حج ان کا 57ھ میں ہوا تھا۔
حافظ کے خیال کے مطابق یہ تقریر ان کے آخری حج میں تھی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2003]