سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. باب : كيف يصوم ثلاثة أيام من كل شهر وذكر اختلاف الناقلين للخبر في ذلك
باب: ہر مہینے تین روزے کس طرح رکھے؟ اس سلسلے کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2421
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوَّلِ خَمِيسٍ وَالإِثْنَيْنِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن۔ ہر مہینے کی پہلی جمعرات کو، اور دو اس کے بعد والے دو شنبہ (پیر) کو پھر اس کے بعد والے دوشنبہ (پیر) کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2374 (شاذ) (’’حکم دیتے تھے“ کا لفظ شاذ ہے، محفوظ یہ ہے کہ آپ خود روزے رکھتے تھے)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ نے دوشنبہ (پیر) کو مکرر رکھنے کا حکم دیا اور اس سے پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہے کہ آپ جمعرات کو مکرر رکھتے تھے، ان دونوں روایتوں کے ملانے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مطلوب ان دونوں دنوں میں تین دن روزے ہیں، خواہ وہ دوشنبہ (پیر) کو مکرر کر کے ہوں یا جمعرات کو، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2452
| أصوم ثلاثة أيام من كل شهر أولها الاثنين والخميس |
سنن النسائى الصغرى |
2367
| يصوم من كل شهر ثلاثة أيام الاثنين والخميس من هذه الجمعة والاثنين من المقبلة |
سنن النسائى الصغرى |
2421
| يأمر بصيام ثلاثة أيام أول خميس والاثنين والاثنين |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2421 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2421
اردو حاشہ:
(1) ”حکم دیتے تھے۔“ یعنی استحباب کے طور پر۔
(2) ”پہلی جمعرات۔“ سابقہ روایات میں پہلے سوموار کا ذکر ہے۔ مقصود یہ ہے کہ پہلے جمعرات آجاتی تو جمعرات، سوموار اور پھر اگلے سوموار کا روزہ رکھتے اور اگر مہینے کے شروع میں سوموار پہلے آجاتا تو سوموار، جمعرات اور پھر اگلی جمعرات کا روزہ رکھ لیتے، یعنی تین روزے سوموار اور جمعرات میں محصور ہوتے تھے۔ ابتدا جمعرات سے ہو یا سوموار سے، کوئی فرق نہیں۔
(1) ”حکم دیتے تھے۔“ یعنی استحباب کے طور پر۔
(2) ”پہلی جمعرات۔“ سابقہ روایات میں پہلے سوموار کا ذکر ہے۔ مقصود یہ ہے کہ پہلے جمعرات آجاتی تو جمعرات، سوموار اور پھر اگلے سوموار کا روزہ رکھتے اور اگر مہینے کے شروع میں سوموار پہلے آجاتا تو سوموار، جمعرات اور پھر اگلی جمعرات کا روزہ رکھ لیتے، یعنی تین روزے سوموار اور جمعرات میں محصور ہوتے تھے۔ ابتدا جمعرات سے ہو یا سوموار سے، کوئی فرق نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2421]
أم هنيدة بن خالد الخزاعية ← أم سلمة زوج النبي