سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
84. باب : ذكر الاختلاف على موسى بن طلحة في الخبر في صيام ثلاثة أيام من الشهر
باب: ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے والی حدیث کے سلسلہ میں موسیٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2431
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا رَجُلٌ فَلَمَّا قَدَّمَهَا إِلَيْهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ بِهَا دَمًا، فَتَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْهَا وَقَالَ لِمَنْ عِنْدَهُ:" كُلُوا فَإِنِّي لَوِ اشْتَهَيْتُهَا أَكَلْتُهَا" وَرَجُلٌ جَالِسٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْنُ فَكُلْ مَعَ الْقَوْمِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ:" فَهَلَّا صُمْتَ الْبِيضَ" , قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ قَالَ:" ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خرگوش لایا گیا جسے ایک شخص نے بھون رکھا تھا، جب اس نے اسے آپ کے سامنے پیش کیا تو کہا: میں نے دیکھا اسے خون (حیض) آ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، نہیں کھایا، اور ان لوگوں سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا: ”تم کھاؤ، اگر مجھے اس کی خواہش ہوتی میں بھی کھاتا“، اور وہ شخص (جو اسے لایا تھا) بیٹھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”قریب آ جاؤ، اور تم بھی لوگوں کے ساتھ کھاؤ“، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو تم نے بیض کے روزے کیوں نہیں رکھے؟“ اس نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2431]
حضرت موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خرگوش لایا گیا جسے ایک شخص نے بھونا تھا۔ جب اس نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کے ساتھ خون دیکھا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا اور نہ کھایا، البتہ حاضرین سے فرمایا: ”تم کھاؤ۔ اگر مجھے خواہش ہوتی تو کھا لیتا۔“ ایک آدمی الگ بیٹھا رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بھی قریب ہو کر لوگوں کے ساتھ کھا لے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں روزے سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے چاندنی راتوں والے روزے کیوں نہ رکھ لیے؟“ اس نے کہا: وہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرہ، چودہ اور پندرہ (تاریخ کے)۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (ضعیف) (دیکھئے پچھلی روایت پر کلام)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، لإرساله موسي بن طلحة رحمه الله تابعي،فالسند مرسل. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥موسى بن طلحة القرشي، أبو محمد، أبو عيسى | ثقة | |
👤←👥طلحة بن يحيى القرشي طلحة بن يحيى القرشي ← موسى بن طلحة القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥يعلى بن عبيد الطناقسي، أبو يوسف يعلى بن عبيد الطناقسي ← طلحة بن يحيى القرشي | ثقة إلا في حديثه عن الثوري ففيه لين | |
👤←👥محمد بن إسماعيل بن علية، أبو عبد الله، أبو بكر محمد بن إسماعيل بن علية ← يعلى بن عبيد الطناقسي | ثقة |
Sunan an-Nasa'i Hadith 2431 in Urdu
طلحة بن يحيى القرشي ← موسى بن طلحة القرشي