سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
84. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ فِي الْخَبَرِ فِي صِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ
باب: ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے والی حدیث کے سلسلہ میں موسیٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2423
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ، وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا وَأَمْسَكَ الْأَعْرَابِيُّ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ" , قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ , قَالَ:" إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الْغُرَّ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بھنا ہوا خرگوش لے کر آیا، اور اسے آپ کے سامنے رکھ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو روکے رکھا خود نہیں کھایا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، اور اعرابی (دیہاتی) بھی رکا رہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی (دیہاتی) سے پوچھا: ”تم کیوں نہیں کھا رہے ہو؟“ اس نے کہا: میں مہینے میں ہر تین دن روزے رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”اگر تم روزے رکھتے ہو تو ان دنوں میں رکھو جن میں راتیں روشن رہتی ہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2423]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی بھنا ہوا خرگوش لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسے آپ کے سامنے رکھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ روک لیا اور نہ کھایا اور لوگوں سے کہا کہ وہ کھالیں۔ اعرابی نے بھی ہاتھ روکے رکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کھانے میں کیا رکاوٹ ہے؟“ اس نے کہا کہ میں ہر مہینے میں تین دن روزے رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”اگر روزے رکھنے ہوں تو چاندنی راتوں (کے دنوں) کے (یعنی چاند کی ۱۳، ۱۴ اور ۱۵ تاریخ کو) روزے رکھا کر۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14624)، مسند احمد 2/336، 346، ویأتی عند المؤلف برقم2430، 2431، مرسلاً، 4315 (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 1567، وتراجع الالبانی 423)»
وضاحت: ۱؎: یعنی چاند کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخوں میں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، عبدالملك بن عمير مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
حدیث نمبر: 2424
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ نَصُومَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ الْبِيضَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم مہینے کے تین روشن دنوں: تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو روزے رکھا کریں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2424]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ہر مہینے میں «أَيَّامِ الْبِيضِ» ”روشن راتوں کے دنوں“ کے تین روزے رکھا کریں، یعنی (چاند کی) تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم54 (761)، (تحفة الأشراف: 11988)، مسند احمد 5/150، 152، 162، 177 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2425
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَصُومَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ الْبِيضَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ہر مہینے کے ایام بیض یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کو روزے رکھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2425]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر ماہ تین روشن (راتوں کے) دنوں کے روزے رکھنے کا حکم دیا، یعنی ”تیرہ، چودہ اور پندرہ کو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2426
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صُمْتَ شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ، فَصُمْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو مقام ربذہ میں کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم مہینے میں کچھ دن روزے رکھو تو تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2426]
حضرت موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ربذہ بستی میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو مہینے میں کچھ دنوں کے روزے رکھے تو (چاند کی) تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو رکھ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2424 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2427
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ:" عَلَيْكَ بِصِيَامِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ لَيْسَ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ، وَلَعَلَّ سُفْيَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا اثْنَانِ فَسَقَطَ الْأَلِفُ، فَصَارَ بَيَانٌ.
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”تم تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے کو اپنے اوپر لازم کر لو“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہاں (راوی سے) غلطی ہوئی ہے، یہ بیان کی روایت نہیں ہے۔ غالباً ایسا ہوا ہے کہ سفیان نے کہا «حدثنا اثنان» کہا ہو تو «اثنان» کا الف گر گیا پھر «ثنان» سے بیان ہو گیا (جیسا کہ اگلی روایت میں ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2427]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: (چاند کی) ”تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھا کر۔“ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ غلطی ہے۔ یہ حدیث ”بیان کی“ کی نہیں ہے، ہو سکتا ہے کہ حضرت سفیان نے «حَدَّثَنَا اثْنَانِ» کہا ہو، الف گر گیا اور کسی راوی نے غلطی سے اسے ”بیان“ پڑھ لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12006)، مسند احمد 5/150، ویأتي عند المؤلف 4316 (حسن) (سند میں ابن الحوتکیہ لین الحدیث ہیں، مگر پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی حسن ہے)»
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2428
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَجُلَانِ مُحَمَّدٌ وَحَكِيمٌ , عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا بِصِيَامِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو روزے رکھنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2428]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو ”تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھنے“ کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن) (دیکھئے پچھلی سند پر کلام)»
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2429
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ: قَالَ أَبِي: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَرْنَبٌ قَدْ شَوَاهَا وَخُبْزٌ، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي وَجَدْتُهَا تَدْمَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" لَا يَضُرُّ، كُلُوا"، وَقَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ:" كُلْ" , قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ:" صَوْمُ مَاذَا" , قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ , قَالَ:" إِنْ كُنْتَ صَائِمًا، فَعَلَيْكَ بِالْغُرِّ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الصَّوَابُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ وَقَعَ مِنَ الْكُتَّابِ ذَرٌّ، فَقِيلَ أَبِي.
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس کے ساتھ ایک بھنا ہوا خرگوش اور روٹی تھی، اس نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے لا کر رکھا۔ پھر اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ اسے حیض آتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”کوئی نقصان نہیں تم سب کھاؤ“، اور آپ نے اعرابی (دیہاتی) سے فرمایا: تم بھی کھاؤ، اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ نے پوچھا: ”کیسا روزے؟“ اس نے کہا: ہر مہینے میں تین دن کا روزے، آپ نے فرمایا: ”اگر تمہیں یہ روزے رکھنے ہیں تو روشن اور چمکدار راتوں والے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو لازم پکڑو“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: صحیح «عن ابی ذر» ہے، قرین قیاس یہ ہے کہ «ذر» کاتبوں سے چھوٹ گیا۔ اس طرح وہ «ابی بن کعب» ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2429]
ابن حوتکیہ سے روایت ہے کہ میرے والد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ اس کے پاس بھنا ہوا خرگوش تھا اور روٹیاں بھی تھیں۔ اس نے یہ سب کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، پھر کہا: میں نے اسے اس حالت میں پایا تھا کہ یہ (اس کا گوشت) خون آلود تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، کھاؤ۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی سے فرمایا: ”تو بھی کھا۔“ اس نے کہا: میرا تو روزہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیسا روزہ؟“ اس نے کہا: مہینے کے تین روزے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو نے یہ روزے رکھنے ہوں تو چاندنی راتوں کے دنوں کے روزے رکھا کر، یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو۔“ امام ابو عبدالرحمن نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا: صحیح بات یہ ہے کہ یہ روایت ابن حوتکیہ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، شاید کسی کاتب سے لفظ ذر (لکھنے سے) رہ گیا ہے اور اس نے ابی کہہ دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2429]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 78 (ضعیف) (ابن الحوتکیہ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن عبد الرحمٰن بن أبى ليلة ضعيف،. والحكم بن عتيبة عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
حدیث نمبر: 2430
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا، فَقَالَ الَّذِي جَاءَ بِهَا: إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا، فَكَفَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكَ" , قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَهَلَّا ثَلَاثَ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش لے کر آیا، آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کے لانے والے نے کہا: میں نے اس کے ساتھ خون (حیض) دیکھا تھا (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، ایک آدمی لوگوں سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا بات ہے، تم الگ تھلگ کیوں بیٹھے ہو؟“ اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: ”پھر تم ایام بیض: تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کو کیوں نہیں رکھتے؟“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2430]
حضرت موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (بھنا ہوا) خرگوش لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ لانے والے شخص نے کہا کہ میں نے اس کے ساتھ خون دیکھا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کھانے کا حکم دیا، وہاں ایک شخص الگ بیٹھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیوں نہیں کھاتے؟“ اس نے کہا: میرا روزہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چاندنی راتوں: تیرہ، چودہ اور پندرہ (تاریخ) کے روزے کیوں نہیں رکھتے؟“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2430]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، وانظر حدیث رقم: 2423 (ضعیف) (یہ مرسل روایت ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، لإرساله موسي بن طلحة رحمه الله تابعي،فالسند مرسل. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
حدیث نمبر: 2431
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا رَجُلٌ فَلَمَّا قَدَّمَهَا إِلَيْهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ بِهَا دَمًا، فَتَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْهَا وَقَالَ لِمَنْ عِنْدَهُ:" كُلُوا فَإِنِّي لَوِ اشْتَهَيْتُهَا أَكَلْتُهَا" وَرَجُلٌ جَالِسٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْنُ فَكُلْ مَعَ الْقَوْمِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ:" فَهَلَّا صُمْتَ الْبِيضَ" , قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ قَالَ:" ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خرگوش لایا گیا جسے ایک شخص نے بھون رکھا تھا، جب اس نے اسے آپ کے سامنے پیش کیا تو کہا: میں نے دیکھا اسے خون (حیض) آ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، نہیں کھایا، اور ان لوگوں سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا: ”تم کھاؤ، اگر مجھے اس کی خواہش ہوتی میں بھی کھاتا“، اور وہ شخص (جو اسے لایا تھا) بیٹھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”قریب آ جاؤ، اور تم بھی لوگوں کے ساتھ کھاؤ“، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو تم نے بیض کے روزے کیوں نہیں رکھے؟“ اس نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2431]
حضرت موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خرگوش لایا گیا جسے ایک شخص نے بھونا تھا۔ جب اس نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کے ساتھ خون دیکھا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا اور نہ کھایا، البتہ حاضرین سے فرمایا: ”تم کھاؤ۔ اگر مجھے خواہش ہوتی تو کھا لیتا۔“ ایک آدمی الگ بیٹھا رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بھی قریب ہو کر لوگوں کے ساتھ کھا لے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں روزے سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے چاندنی راتوں والے روزے کیوں نہ رکھ لیے؟“ اس نے کہا: وہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرہ، چودہ اور پندرہ (تاریخ کے)۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (ضعیف) (دیکھئے پچھلی روایت پر کلام)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، لإرساله موسي بن طلحة رحمه الله تابعي،فالسند مرسل. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
حدیث نمبر: 2432
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِهَذِهِ الْأَيَّامِ الثَّلَاثِ الْبِيضِ , وَيَقُولُ: هُنَّ صِيَامُ الشَّهْرِ".
قتادہ بن ملحان (ابن منہال) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیض کے ان تینوں دنوں کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے، اور فرماتے تھے: ”یہ مہینے بھر کے روزے کے برابر ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2432]
حضرت عبدالملک رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاندنی راتوں والے تین دنوں کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے: ”یہ تین روزے (ثواب کے لحاظ سے) مہینے بھر کے روزوں کے برابر ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم68 (2449)، سنن ابن ماجہ/الصوم29 (1707)، (تحفة الأشراف: 11071)، مسند احمد 4/165، 275، 28 (صحیح) (شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ’’عبدالملک بن قتادہ بن المنھال‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2449) ابن ماجه (1707) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339