🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب : كم يترك الخارص
باب: درخت کے پھل کا تخمینہ لگانے والا کتنا چھوڑ دے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2493
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ خُبَيْبَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: أَتَانَا وَنَحْنُ فِي السُّوقِ، فَقَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَأْخُذُوا أَوْ تَدَعُوا الثُّلُثَ شَكَّ شُعْبَةُ فَدَعُوا الرُّبُعَ".
سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم درختوں پر پھلوں کا تخمینہ لگاؤ تو جو تخمینہ لگاؤ اسے لو، اور اس میں سے ایک تہائی چھوڑ دو ۱؎ اور اگر تم نہ لے سکو یا تہائی نہ چھوڑ سکو (شعبہ کو شک ہو گیا ہے) تو تم چوتھائی چھوڑ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2493]
حضرت عبدالرحمن بن مسعود بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس بازار میں تشریف لائے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم (عشر وصول کرتے وقت) فصل یا پھل کا اندازہ لگاؤ تو اندازے میں سے تیسرا حصہ چھوڑ دو، اگر تیسرا حصہ نہ چھوڑو تو چوتھا حصہ ضرور چھوڑ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2493]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة14 (1605)، سنن الترمذی/الزکاة17 (643)، (تحفة الأشراف: 4647)، مسند احمد (3/448، 4/2) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عبدالرحمان بن مسعود‘‘ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کی زکاۃ نہ لو تاکہ اسے دوستوں اور ہمسایوں پر خرچ کرنے میں کوئی تنگی محسوس نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن أبي حثمة الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو عبد الرحمنصحابي صغير
👤←👥عبد الرحمن بن مسعود الأنصاري
Newعبد الرحمن بن مسعود الأنصاري ← سهل بن أبي حثمة الأنصاري
مقبول
👤←👥خبيب بن عبد الرحمن الأنصاري، أبو محمد، أبو الحارث
Newخبيب بن عبد الرحمن الأنصاري ← عبد الرحمن بن مسعود الأنصاري
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← خبيب بن عبد الرحمن الأنصاري
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2493
إذا خرصتم فخذوا ودعوا الثلث فإن لم تأخذوا أو تدعوا الثلث فدعوا الربع
جامع الترمذي
643
إذا خرصتم فخذوا ودعوا الثلث فإن لم تدعوا الثلث فدعوا الربع
سنن أبي داود
1605
إذا خرصتم فجذوا ودعوا الثلث فإن لم تدعوا أو تجذوا الثلث فدعوا الربع
بلوغ المرام
497
‏‏‏‏إذا خرصتم فخذوا ودعوا الثلث فإن لم تدعوا الثلث فدعوا الربع
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2493 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2493
اردو حاشہ:
(1) حکومت جن فصلوں یا پھلوں کا عشر وصول کرتی تھی، ان میں طریقہ کار یہ تھا کہ فصل یا پھل پکنے سے پہلے سمجھ دار ماہر لوگ اندازہ لگانے کے لیے بھیجے جاتے جو یہ اندازہ لگاتے کہ فلاں آدمی کی فصل یا پھل اتنا ہونے کی توقع ہے۔ اسے خرص کہا جاتا تھا۔
(2) خرص کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ پھل یا فصل پکنے کے بعد مالک کھانے کھلانے میں آزاد ہوتا تھا۔ جو چاہے کھائے، دوسروں کو کھلائے۔ حکومت کٹائی کے موقع پر اندازے (خرص کے مطابق عشر وصول کر لیتی تھی۔ اس طریقے سے نہ مالک کو تنگی ہوتی تھی اور نہ حکومت کو اعتراض کا موقع ملتا تھا۔
(3) احناف خرص کے قائل نہیں کہ پتا نہیں اندازہ صحیح ہو یا نہ ہو۔ اس طرح کسی پر ظلم بھی ہو سکتا ہے، لہٰذا یہ سود والی علت کی بنا پر منع ہے، مگر وہ یہ بات نظر انداز کر گئے کہ اس میں فریقین کا فائدہ ہے۔ باقی رہا ظلم کا امکان تو اس کا حل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے الفاظ میں خود ہی تجویز فرما دیا ہے کہ اندازہ لگانے کے بعد تیسرے یا چوتھے حصے کی رعایت دی جائے، نیز خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات طیبہ میں اور خلفائے راشدین اپنے اپنے ادوار مبارکہ میں اور عام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس پر عمل کرتے رہے ہیں۔ اگر یہ سود یا جوئے کے مشابہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قسم کا اقدام نہ فرماتے، اور نہ اس کی اجازت ہی مرحمت فرماتے۔ کیا مانعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ دین کے خیر خواہ یا ان سے زیادہ علم والے ہیں؟ دراصل شریعت لوگوں کی تنگی کا بھی لحاظ رکھتی ہے، جیسے بلی کے جوٹھے کا پلید نہ ہونا اس کی واضح دلیل ہے۔
(4) تیسرا حصہ چھوڑ دو۔ کیونکہ ضروری نہیں اندازے کے مطابق ہی پیداوار ہو۔ جانور کھا جاتے ہیں، ناگہانی آفات سے فصل اور پھل کا نقصان ہو سکتا ہے، لوگ اور سائلین بھی کمی کا موجب بن سکتے ہیں، اس لیے مالک کو رعایت چاہیے۔ چونکہ حالات مختلف ہوتے ہیں، لہٰذا تیسرے یا چوتھے حصے یا ان کے مابین کمی کا اختیار دیا تاکہ کسی پر زیادتی نہ ہو۔ اگر زیادہ نقصان ہو جائے تو اس سے زیادہ بھی رعایت دینی پڑے گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2493]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 497
پھلوں میں زکاۃ کا بیان
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا جب تم غلہ کا تخمینہ اور اندازہ لگاؤ تو ایک تہائی چھوڑ دیا کرو اگر تہائی نہیں چھوڑ سکتے تو چوتھائی چھوڑ دیا کرو۔ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 497]
لغوی تشریح:
«اِذَا خَرَصْتُمْ» یہ خطاب زکاۃ وصول کرنے والے عاملین اور سرکاری نمائندوں کو ہے۔ «خرص» اندازہ اور تخمینہ لگانے کو کہتے ہیں۔ یہاں «خرص» سے مراد انگور اور تر کھجور کا درختوں پر اندازہ لگانا ہے۔ ان دونوں کا اندازہ لگانے کی صورت یہ ہے کہ جب انگور اور کھجور میں مٹھاس پیدا ہو جائے تو اندازہ لگانے والا درخت کے گرد چکر لگائے، سارے پھلوں پر سرسری نظر دوڑا کر اندازہ لگائے کہ جب یہ انگور خشک ہو کر کشمکش کی صورت اختیار کر لیں گے تو اس وقت ان کی مقدار اور وزن اتنا رہ جائے گا اور یہ کھجور جب خشک ہو گی تو اتنی مقدار میں باقی رہ جائے گی اور اگر وہ نصاب کو پہنچ جائے تو اس کے اندازے کے مطابق زکاۃ لی جائے گی۔ اس تخمینہ اور اندازہ لگانے کے لیے ایک ہی آدمی کافی ہے بشرطیکہ وہ منصف مزاج اور عادل ہوا اور اس کام میں مہارت رکھتا ہو۔
«فَخُذُوا» پس تخمینے کے مطابق تم زکاۃ وصول کر لو۔ «خُذُوا» امر کا صیغہ ہے اور «اخذ» سے ماخوذ ہے۔
«وَدَعُو الثُّلُثَ . . . . الخ» مال کے مالکوں کے لیے تخمینہ لگائی گئی مقدار میں سے ایک تہائی حصہ چھوڑ دو۔
ایک قول یہ ہے کہ تیسرا یا چوتھا حصہ مالکوں کے لیے اس لیے چھوڑا جاتا ہے کہ مالک خود اپنے اعزہ و اقرباء، ہمسایوں اور مانگنے والے فقراء مساکین پر صدقہ و خیرات کر سکے اور اس سلسلے میں، یعنی واجب مقدار سے زائد صدقہ کرنے میں اسے تنگی اور حرج میں نہیں پڑنا چاہیے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ تہائی یا چوتھائی حصہ عشر نکالنے سے پہلے اسی اصل مال سے الگ رکھا جائے گا تاکہ مالک پر وسعت و سہولت ہو۔ وہ خود بھی اس میں سے کھا سکے، پکے ہوئے پھل کو بیچ سکے اور اہل و عیال، پڑوسی اور مہمانوں کو ترجیح دیتے ہوئے ان پر خرچ کر سکے۔ یہ مقدار جس کے چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، ان سبزیوں کے قائم مقام ہو گی جن پر زکاۃ نہیں۔

فوائد:
یہ حدیث شریعت اسلامیہ کو خوبیوں اور محاسن میں سے ہے۔
صاحب سبل السلام نے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے، یہ تو معمول کی بات ہے کہ جب پھل پک جاتا ہے تو پھل کا مالک خود اور اس کے اہل و عیال اس میں سے کھاتے ہیں اور کبھی دوسرے لوگوں کو بھی کھلاتے ہیں، لہٰذا یہ مقدار ذخیرہ نہیں ہو سکتی۔ اور عرف عام میں خود کھانے اور دوسروں کو کھلانے کو ان سبزیوں کی جگہ تصور کیا جاتا ہے جو ذخیرہ کر کے رکھی نہیں جا سکتیں۔

راوی حدیث:
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ، سہل کے سین پر فتحہ اور ہا ساکن ہے۔ ان کا نام عبداللہ یا عامر بن ساعدہ بن عامر انصاری خزرجی مدنی ہے۔ صغار صحابہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ۳ ہجری میں پیدا ہوئے۔ کوفہ میں سکونت اختیار کی اور ان کا شمار اہل مدینہ میں ہوتا ہے اور حضرت معصب بن زبیر کے عہد میں مدینہ ہی میں وفات پائی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 497]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1605
درخت پر پھل کے تخمینہ لگانے کا بیان۔
عبدالرحمٰن بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ہماری مجلس میں تشریف لائے، انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ جب تم پھلوں کا تخمینہ کر لو تب انہیں کاٹو اور ایک تہائی چھوڑ دیا کرو اگر تم ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو ایک چوتھائی ہی چھوڑ دیا کرو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اندازہ لگانے والا ایک تہائی بیج بونے وغیرہ جیسے کاموں کے لیے چھوڑ دے گا، اس کی زکاۃ نہیں لے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1605]
1605. اردو حاشیہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔مگر دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔اور پھلوں کا اندازہ لگانے والا تیسرا یا چوتھا حصہ اس لئے چھوڑے کیونکہ یہ سب نظر کا معاملہ ہوتا ہے۔اور اس میں کمی بیشی کا احتمال یقینی ہے۔نیز کچھ پھل ضائع بھی ہوجاتا ہے۔اور کچھ جانور وغیرہ کھا جاتے ہیں۔اور کچھ مالک بھی غریبوں مسکینوں وغیرہ کودیتا ہے۔لہذا ثلث یا ربع چھوڑنے میں ان سب کی تلافی ہوجائےگی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1605]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 643
درخت میں موجود پھل کا تخمینہ لگانا۔
عبدالرحمٰن بن مسعود بن نیار کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ ہماری مجلس میں آئے تو بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جب تم تخمینہ لگاؤ تو تخمینہ کے مطابق لو اور ایک تہائی چھوڑ دیا کرو، اگر ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو چوتھائی چھوڑ دیا کرو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 643]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ خطاب زکاۃ وصول کر نے والے عمال اور ان لوگوں کو ہے جو زکاۃ کی وصولی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں،
تہائی یا چوتھائی حصہ چھوڑ دینے کا حکم اس لیے ہے تاکہ مالک پھل توڑتے وقت اپنے اعزاء و اقرباء اور اپنے ہمسایوں مسافروں وغیرہ پر خرچ کر سکے اور اس کی وجہ سے وہ کسی حرج اور تنگی میں مبتلا نہ ہو۔

نوٹ:
(سند میں عبدالرحمن بن مسعود لین الحدیث ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 643]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2493 in Urdu