علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. باب : الإحصاء في الصدقة
باب: گن گن کر صدقہ کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2550
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ هِنْدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: كُنَّا يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسًا وَنَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ , وَالْأَنْصَارِ، فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى عَائِشَةَ لِيَسْتَأْذِنَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ سَائِلٌ مَرَّةً وَعِنْدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرْتُ لَهُ بِشَيْءٍ، ثُمَّ دَعَوْتُ بِهِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا تُرِيدِينَ أَنْ لَا يَدْخُلَ بَيْتَكِ شَيْءٌ، وَلَا يَخْرُجَ إِلَّا بِعِلْمِكِ" , قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" مَهْلًا يَا عَائِشَةُ لَا تُحْصِي، فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ".
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ کچھ مہاجرین و انصار بھی تھے، ہم نے ایک شخص کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ملاقات کی اجازت حاصل کرنے کے لیے بھیجا، (انہوں نے اجازت دے دی، ہم ان کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا: ایک بار میرے پاس ایک مانگنے والا آیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے، میں نے (خادمہ کو) اسے کچھ دینے کا حکم دیا، پھر میں نے اسے بلایا اسے دیکھنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ چاہتی ہیں کہ بغیر آپ کے علم میں آئے تمہارے گھر میں کچھ نہ آئے اور تمہارے گھر سے کچھ نہ جائے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”عائشہ! ٹھہر جاؤ، گن کر نہ دو کہ اللہ عزوجل بھی تمہیں بھی گن کر دے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2550]
حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک دن مہاجرین و انصار کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد نبوی میں بیٹھے تھے کہ ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک شخص کو بھیجا تاکہ وہ ہمارے لیے (ان کے ہاں حاضر ہونے کی) اجازت طلب کرے۔ (اجازت ملنے پر) ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایک سائل میرے پاس آیا۔ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ میں نے (لونڈی سے) اسے کچھ دینے کو کہا، پھر میں نے وہ چیز منگوا کر دیکھی (کہ وہ کس قدر ہے؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! تو چاہتی ہے کہ تیرے گھر میں کوئی چیز تیرے علم کے بغیر نہ آئے اور نہ (وہاں سے) جائے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ ایسے نہ کرو۔ گن گن کر صدقہ نہ کیا کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھے گن گن کر دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15923) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة46 (1700)، مسند احمد 6/71، 108 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2550
| أما تريدين أن لا يدخل بيتك شيء ولا يخرج إلا بعلمك قلت نعم قال مهلا يا عائشة لا تحصي فيحصي الله عليك |
سنن أبي داود |
1700
| أعطي ولا تحصي فيحصى عليك |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2550 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2550
اردو حاشہ:
جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بے حساب رزق دے، اسی طرح ہمیں گنے بغیر صدقات کرتے رہنا چاہیے کیونکہ افعال کا بدلہ ان کی مثل ہوتا ہے۔ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے گننے کا ذکر تشاکل کے طور پر ہے ورنہ اللہ تعالیٰ گننے سے بے نیاز ہے۔ وہ گنے بغیر ہر چیز کو جانتا ہے۔ دراصل یہاں گننے سے مراد کم دینا ہے کیونکہ تھوڑی چیز ہی گنی جاتی ہے۔ زیادہ چیز تو بے حساب ہی دی جاتی ہے۔ یاد رہے یہ نفل صدقے کی بات ہے ورنہ فرض صدقات تو حساب کر کے ہی دیے جاتے ہیں اور وہ حساب خود شریعت نے مقرر کیا ہے۔
جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بے حساب رزق دے، اسی طرح ہمیں گنے بغیر صدقات کرتے رہنا چاہیے کیونکہ افعال کا بدلہ ان کی مثل ہوتا ہے۔ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے گننے کا ذکر تشاکل کے طور پر ہے ورنہ اللہ تعالیٰ گننے سے بے نیاز ہے۔ وہ گنے بغیر ہر چیز کو جانتا ہے۔ دراصل یہاں گننے سے مراد کم دینا ہے کیونکہ تھوڑی چیز ہی گنی جاتی ہے۔ زیادہ چیز تو بے حساب ہی دی جاتی ہے۔ یاد رہے یہ نفل صدقے کی بات ہے ورنہ فرض صدقات تو حساب کر کے ہی دیے جاتے ہیں اور وہ حساب خود شریعت نے مقرر کیا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2550]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2550 in Urdu
أسعد بن سهل الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق