🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
74. باب : من يسأل بالله عز وجل ولا يعطي به
باب: اس شخص کا بیان جس سے اللہ کے نام پر مانگا جائے اور وہ نہ دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2570
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ الْقَارِظِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلًا" , قُلْنَا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" رَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ، وَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ" , قُلْنَا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ، وَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ" , قُلْنَا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يُعْطِي بِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں لوگوں میں مرتبہ کے اعتبار سے بہترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کا سر تھامے رہے یہاں تک کہ اسے موت آ جائے، یا وہ قتل کر دیا جائے، اور میں تمہیں اس شخص کے بارے میں بتاؤں جو مرتبہ میں اس سے قریب تر ہے۔ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! بتائیے، آپ نے فرمایا: یہ وہ شخص ہے جو لوگوں سے کٹ کر کسی وادی میں (گوشہ نشین ہو جائے) نماز قائم کرے، زکاۃ دے اور لوگوں کے شر سے الگ تھلگ رہے، اور میں تمہیں لوگوں میں برے شخص کے بارے میں بتاؤں؟، ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ضرور بتائیے، آپ نے فرمایا: وہ شخص ہے جس سے اللہ کے نام پر مانگا جائے اور وہ نہ دے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجھاد 18 (1652)، (تحفة الأشراف: 5980)، مسند احمد (1/237، 319، 322)، سنن الدارمی/الجھاد 6 (2440) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن عبد الرحمن الأسدي
Newإسماعيل بن عبد الرحمن الأسدي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥سعيد بن خالد القارظي
Newسعيد بن خالد القارظي ← إسماعيل بن عبد الرحمن الأسدي
مقبول
👤←👥محمد بن أبي ذئب العامري، أبو الحارث
Newمحمد بن أبي ذئب العامري ← سعيد بن خالد القارظي
ثقة فقيه فاضل
👤←👥محمد بن أبي فديك الديلي، أبو إسماعيل
Newمحمد بن أبي فديك الديلي ← محمد بن أبي ذئب العامري
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله
Newمحمد بن رافع القشيري ← محمد بن أبي فديك الديلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1652
خير الناس رجل ممسك بعنان فرسه في سبيل الله رجل معتزل في غنيمة له يؤدي حق الله فيها شر الناس رجل يسأل بالله ولا يعطي به
سنن النسائى الصغرى
2570
خير الناس منزلا قلنا بلى يا رسول الله قال رجل آخذ برأس فرسه في سبيل الله حتى يموت أو يقتل رجل معتزل في شعب يقيم الصلاة ويؤتي الزكاة ويعتزل شرور الناس شر الناس قلنا نعم يا رسول الله قال الذي يسأل بالله ولا يعطي به
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2570 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2570
اردو حاشہ:
(1) گھوڑا لیے پھرتا ہے۔ یعنی جہاد کرتا ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ مطلقاً اعلیٰ عمل ہے۔ اور پہاڑ کی گھاٹی میں علیحدہ رہنا صرف اس وقت افضل ہے جب دین کی حفاظت مقصود ہو اور لوگوں میں رہ کر دین پر قائم رہنا انتہائی مشکل ہو جائے، ورنہ لوگوں میں رہنا اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرنا ہی افضل ہے۔ رہبانیت کی اجازت نہیں۔
(2) لوگوں کے شر سے۔ یعنی اپنے دین کو محفوظ کر لیتا ہے، یا یہ مطلب ہے کہ لوگوں کو تکلیف نہیں پہنچاتا۔ اپنے شر سے لوگوں کو محفوظ رکھنا بھی بڑی فضیلت ہے۔
(3) [اَلَّذِیْ یَسْأَلُ بِاللّٰہِ] کویُسْأَلُ (مجہول) بھی پڑھا گیا ہے، جس کا ترجمہ ہوگا: جس سے اللہ کے نام پر سوال کیا جائے لیکن وہ نہ دے۔ پہلے مفہوم میں دو قباحتیں جمع ہوجاتی ہیں: لوگوں سے مانگنا بھی اور خود نہ دینا بھی، جبکہ دوسرے مفہوم میں صرف ایک قباحت ہے۔ الفاظ حدیث دونوں مفہوم کے متحمل ہیں۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2570]