سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. باب : المسألة
باب: لوگوں سے مانگنا اور سوال کرنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2586
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی برابر مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے روز ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر کوئی لوتھڑا گوشت نہ ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2586]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی ہمیشہ مانگتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں (لوگوں کے سامنے) آئے گا کہ اس کے چہرے میں گوشت کا ٹکڑا بھی نہ ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2586]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة52 (1474)، صحیح مسلم/الزکاة35 (1040)، (تحفة الأشراف: 6702)، مسند احمد (2/15، 88) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2586 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2586
اردو حاشہ:
قیامت کی جزا و سزا دنیوی عمل کے مماثل ہوگی۔ اس شخص نے مانگ مانگ کر اپنے چہرے کو ذلیل کیا حتیٰ کہ کسی کے نزدیک بھی اس کی وقعت نہ رہی اور کوئی شخص اسے احترام سے دیکھنا گوارا نہ کرتا تھا۔ قیامت کے دن بھی اس کا چہرہ اس حال میں ہوگا کہ اس کی عزت ہوگی، نہ کوئی اسے دیکھنا گوارا کرے گا۔ أَعَاذَنَا اللّٰہُ، البتہ یہ اس شخص کی سزا ہے جو پیشہ ور بھکاری ہے۔ جو مجبوری اور ضرورت سے مانگے اور لاچار ہو اسے معافی ہوگی۔
قیامت کی جزا و سزا دنیوی عمل کے مماثل ہوگی۔ اس شخص نے مانگ مانگ کر اپنے چہرے کو ذلیل کیا حتیٰ کہ کسی کے نزدیک بھی اس کی وقعت نہ رہی اور کوئی شخص اسے احترام سے دیکھنا گوارا نہ کرتا تھا۔ قیامت کے دن بھی اس کا چہرہ اس حال میں ہوگا کہ اس کی عزت ہوگی، نہ کوئی اسے دیکھنا گوارا کرے گا۔ أَعَاذَنَا اللّٰہُ، البتہ یہ اس شخص کی سزا ہے جو پیشہ ور بھکاری ہے۔ جو مجبوری اور ضرورت سے مانگے اور لاچار ہو اسے معافی ہوگی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2586]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2586 in Urdu
حمزة بن عبد الله المدني ← عبد الله بن عمر العدوي