سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. باب : المسألة
باب: لوگوں سے مانگنا اور سوال کرنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2587
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بِسْطَامَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَأَعْطَاهُ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى أُسْكُفَّةِ الْبَاب: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ تَعْلَمُونَ مَا فِي الْمَسْأَلَةِ مَا مَشَى أَحَدٌ إِلَى أَحَدٍ يَسْأَلُهُ شَيْئًا".
عائذ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے مانگا تو آپ نے اسے دیا۔ جب (وہ لوٹ کر چلا اور) اس نے اپنا پیر دروازے کے چوکھٹ پر رکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم لوگ جان پاتے کہ بھیک مانگنے میں کیا (برائی) ہے تو کوئی کسی کے پاس کچھ بھی مانگنے نہ جاتا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2587]
حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے کچھ مانگنے لگا۔ آپ نے اسے دے دیا۔ جب اس نے اپنا پاؤں دروازے کی دہلیز پر رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مانگنے کی قباحت (یا سزا و گناہ) جان لو تو تم میں سے کوئی کسی کے پاس کچھ بھی مانگنے نہ جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5060)، مسند احمد (5/65) (حسن) (تراجع الالبانی 486، صحیح الترغیب والترہیب 796)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 2587 in Urdu
عبد الله بن خليفة العنبري ← عائذ بن عمرو المزني