سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
84. باب : سؤال الصالحين
باب: اچھے اور نیک لوگوں سے مدد مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2588
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ، عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ، أَنَّ الْفِرَاسِيّ , قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْأَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَا، وَإِنْ كُنْتَ سَائِلًا لَابُدَّ فَاسْأَلِ الصَّالِحِينَ".
فراسی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! میں مانگوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، اور اگر تمہیں مانگنا ضروری ہو تو نیکو کاروں سے مانگو“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2588]
ابن فراسی سے روایت ہے کہ ان کے والد حضرت فراسی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں کسی سے کچھ مانگ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔ اور اگر تجھے مجبوراً مانگنا پڑے تو نیک لوگوں سے مانگ۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2588]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 28 (1646)، (تحفة الأشراف: 15524)، مسند احمد (4/334) (ضعیف) (اس کے راوی ’’مسلم‘‘ لین الحدیث ہیں، اور ’’ابن الفراسی‘‘ مجہول ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1646) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2588
| إن كنت سائلا لابد فاسأل الصالحين |
سنن أبي داود |
1646
| إن كنت سائلا لا بد فاسأل الصالحين |
Sunan an-Nasa'i Hadith 2588 in Urdu
مسلم بن مخشي المدلجي ← ابن الفراسي