🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
76. باب : ركوب البدنة بالمعروف
باب: معروف طریقے پر ہدی کے جانور پر سوار ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2804
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا".
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ان سے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دستور کے مطابق اس کی سواری کر جب تم اس کے لیے مجبور کر دئیے جاؤ یہاں تک کہ دوسری سواری پا لو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2804]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج65 (1324)، سنن ابی داود/المناسک 18 (1761)، (تحفة الأشراف: 2808)، مسند احمد (3/317، 324، 325، 348) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← ابن جريج المكي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
3214
اركبها بالمعروف إذا ألجئت إليها حتى تجد ظهرا
صحيح مسلم
3215
اركبها بالمعروف حتى تجد ظهرا
سنن أبي داود
1761
اركبها بالمعروف إذا ألجئت إليها حتى تجد ظهرا
سنن النسائى الصغرى
2804
اركبها بالمعروف إذا ألجئت إليها حتى تجد ظهرا
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2804 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2804
اردو حاشہ:
آخری الفاظ حتیٰ  کہ تجھے سواری مل جائے۔ سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ ضرورت سے مراد سواری کا نہ ہونا ہے، نہ کہ چلنے سے بالکل عاجز آ جانا، لہٰذا سواری نہ ہو، سفر لمبا ہو تو قربانی کے جانور پر سوار ہو سکتا ہے، البتہ سواری کرتے وقت بھی اس کا احترام قائم رکھے، یعنی اسے نہ بھگائے، نہ مارے، نہ سب وشتم کرے بلکہ اسے اپنی مرضی کے مطابق چلنے دے۔ جب وہ تھک جائے تو آرام کرنے دے۔ چارے وغیرہ کا بھی خیال رکھے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2804]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1761
ہدی کے اونٹوں پر سوار ہونے کا بیان۔
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ہدی پر سوار ہونے کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، جب تم اس کے لیے مجبور کر دئیے جاؤ تو اس پر سوار ہو جاؤ بھلائی کے ساتھ یہاں تک کہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1761]
1761. اردو حاشیہ: یعنی بوقت ضرورت انسان ہدی او ر قربانی کے جانور پر سواری کر لے تو کوئی حرج نہیں
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1761]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3215
ابو زبیر کہتے ہیں، میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قربانی کے اونٹ پر سوار ہونے کے بارے میں سوال کیا؟ انہوں نے جواب دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جب تک سواری نہ ملے تو دستور و عرف کے مطابق سوار ہو جاؤ۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3215]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے اگر سواری نہ ہو تو پھر ایسے طریقے سے قربانی کے اونٹ پر سوار ہوا جا سکتا ہے جو اس کے لیے تکلیف اور اذیت کا باعث نہ بنے،
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور بعض حضرات کا نظریہ یہی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3215]