سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. باب : ما لا يجوز للمحرم أكله من الصيد
باب: کس طرح کا شکار کھانا محرم کے لیے ناجائز ہے؟
حدیث نمبر: 2824
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى، وَسَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ , فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمِ صَيْدٍ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ؟ قَالَ: نَعَمْ , أَهْدَى لَهُ رَجُلٌ عُضْوًا مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ، وَقَالَ:" إِنَّا لَا نَأْكُلُ إِنَّا حُرُمٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ آئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں یاد دلاتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے شکار کے گوشت کے بارے میں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کیا گیا تھا اور آپ محرم تھے کیا بتایا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص شکار کے گوشت کا ایک پارچہ (عضو) بطور ہدیہ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لوٹا دیا اور فرمایا: ”ہم نہیں کھا سکتے، ہم احرام باندھے ہوئے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2824]
حضرت طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انھیں یاد کرواتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے شکار کے گوشت کے بارے میں کیسے بتایا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کی حالت میں پیش کیا گیا تھا؟ وہ فرمانے لگے: ہاں، ہاں! ایک آدمی نے آپ کی خدمت میں شکار شدہ جانور کے گوشت کا ٹکڑا پیش کیا تھا تو آپ نے اسے واپس فرما دیا تھا، نیز فرمایا: ”ہم یہ نہیں کھا سکتے، ہم محرم ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2824]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 8 (1195)، (تحفة الأشراف: 3663)، مسند احمد (4/367، 374) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 2824 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← زيد بن أرقم الأنصاري