🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

79. بَابُ: مَا لاَ يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ أَكْلُهُ مِنَ الصَّيْدِ
باب: کس طرح کا شکار کھانا محرم کے لیے ناجائز ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2821
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي قَالَ:" أَمَا إِنَّهُ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ".
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ کو ایک نیل گائے ہدیہ کیا اور آپ ابواء یا ودان میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے انہیں واپس کر دیا۔ پھر جب آپ نے میرے چہرے پر جو کیفیت تھی دیکھی تو فرمایا: ہم نے صرف اس وجہ سے اسے تمہیں واپس کیا ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2821]
حضرت صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جنگلی گدھا بطور ہدیہ پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ابواء یا ودان مقام میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انہیں واپس کر دیا۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے کے غم و تاسف کو ملاحظہ فرمایا تو فرمانے لگے: ہم نے یہ صرف اس لیے تجھے واپس کیا ہے کہ ہم محرم ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2821]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید6 (1825)، الہبة6 (2573)، 17 (2596)، صحیح مسلم/الحج8 (1193)، سنن الترمذی/الحج26 (849)، ق92 (3090)، (تحفة الأشراف: 4940)، موطا امام مالک/الحج 25 (83)، مسند احمد (4/37، 38، 71، 73)، سنن الدارمی/المناسک 22 (1870) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابواء اور ودّان یہ دونوں جگہوں کے نام ہیں جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2822
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِوَدَّانَ رَأَى حِمَارَ وَحْشٍ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ:" إِنَّا حُرُمٌ لَا نَأْكُلُ الصَّيْدَ".
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے یہاں تک کہ جب ودان پہنچے تو ایک نیل گائے دیکھا (جسے کسی نے شکار کر کے پیش کیا تھا) تو آپ نے اسے پیش کرنے والے کو لوٹا دیا، اور فرمایا: ہم احرام باندھے ہوئے ہیں، شکار نہیں کھا سکتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2822]
حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ودان میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگلی گدھا (میرے پاس بطور تحفہ) دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے واپس فرما دیا اور فرمانے لگے: ہم محرم ہیں، یہ شکار نہیں کھا سکتے (کیونکہ یہ ہمارے لیے شکار کیا گیا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2822]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2823
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ:" مَا عَلِمْتَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ لَهُ عُضْوُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَلَمْ يَقْبَلْهُ، قَالَ: نَعَمْ".
عطاء سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کو معلوم نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شکار کا کوئی عضو ہدیہ بھیجا گیا، اور آپ محرم تھے تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا، انہوں نے کہا: جی ہاں، (ہمیں معلوم ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2823]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نہیں جانتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ عالیہ میں شکار کیے ہوئے جانور کا ایک ٹکڑا پیش کیا گیا تھا جبکہ آپ محرم تھے، لہٰذا آپ نے اسے قبول نہ فرمایا۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں! (میں جانتا ہوں)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2823]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 41 (1850)، (تحفة الأشراف: 3677)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 8 (1195)، مسند احمد (4/369، 371) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2824
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى، وَسَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ , فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمِ صَيْدٍ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ؟ قَالَ: نَعَمْ , أَهْدَى لَهُ رَجُلٌ عُضْوًا مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ، وَقَالَ:" إِنَّا لَا نَأْكُلُ إِنَّا حُرُمٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ آئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں یاد دلاتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے شکار کے گوشت کے بارے میں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کیا گیا تھا اور آپ محرم تھے کیا بتایا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص شکار کے گوشت کا ایک پارچہ (عضو) بطور ہدیہ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لوٹا دیا اور فرمایا: ہم نہیں کھا سکتے، ہم احرام باندھے ہوئے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2824]
حضرت طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انھیں یاد کرواتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے شکار کے گوشت کے بارے میں کیسے بتایا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کی حالت میں پیش کیا گیا تھا؟ وہ فرمانے لگے: ہاں، ہاں! ایک آدمی نے آپ کی خدمت میں شکار شدہ جانور کے گوشت کا ٹکڑا پیش کیا تھا تو آپ نے اسے واپس فرما دیا تھا، نیز فرمایا: ہم یہ نہیں کھا سکتے، ہم محرم ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2824]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 8 (1195)، (تحفة الأشراف: 3663)، مسند احمد (4/367، 374) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2825
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ تَقْطُرُ دَمًا وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَهُوَ بِقُدَيْدٍ" فَرَدَّهَا عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نیل گائے کی ٹانگ بھیجی جس سے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے، اور آپ احرام باندھے ہوئے مقام قدید میں تھے۔ تو آپ نے اسے انہیں واپس لوٹا دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2825]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جنگلی گدھے کی ایک ران پیش کی جس سے خون کے قطرے گر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت محرم تھے اور مقام قدید میں فروکش تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس فرما دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2825]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 8 (1195)، (تحفة الأشراف: 5499)، مسند احمد (1/280، 290، 341، 345) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2826
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، وَحَبِيبٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ" أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نیل گائے ہدیہ میں بھیجا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے، تو آپ نے اسے انہیں واپس کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2826]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جنگلی گدھا بطور تحفہ پیش کیا جبکہ آپ محرم تھے، لہٰذا آپ نے وہ انہیں واپس فرما دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2826]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2625 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں