🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
104. باب : دخول مكة ليلا
باب: مکہ میں رات میں داخل ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2866
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُزَاحِمُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلًا مِنْ الْجِعِرَّانَةِ، حِينَ مَشَى مُعْتَمِرًا، فَأَصْبَحَ بِالْجِعِرَّانَةِ كَبَائِتٍ حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، خَرَجَ عَنْ الْجِعِرَّانَةِ فِي بَطْنِ سَرِفَ حَتَّى، جَامَعَ الطَّرِيقَ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ مِنْ سَرِفَ".
محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں جعرانہ ۲؎ سے نکلے جس وقت آپ عمرہ کرنے کے لیے چلے پھر آپ رات ہی میں جعرانہ واپس آ گئے اور جعرانہ میں اس طرح صبح کی گویا آپ نے رات وہیں گزاری ہے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ جعرانہ سے چل کر بطن سرف پہنچے، سرف سے مدینہ کی راہ لی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2866]
حضرت محرش کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یقینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ سے رات کے وقت عمرہ کرنے کے لیے نکلے اور صبح سے پہلے واپس جعرانہ میں آگئے۔ گویا کہ رات وہیں رہے، حتیٰ کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے نکل کر وادی سرف میں آگئے اور سرف سے مدینہ منورہ کا راستہ اختیار فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2866]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 81 (1996)، سنن الترمذی/الحج 93 (935)، (تحفة الأشراف: 11220)، مسند احمد (3/426، 427، 4/69، 5/380)، سنن الدارمی/المناسک 41 (1903) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جعرانہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔ سرف ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سويد بن عبد الله الكعبيصحابي
👤←👥عبد العزيز بن عبد الله القرشي، أبو الحجاج
Newعبد العزيز بن عبد الله القرشي ← سويد بن عبد الله الكعبي
ثقة
👤←👥مزاحم بن أبي مزاحم المكي
Newمزاحم بن أبي مزاحم المكي ← عبد العزيز بن عبد الله القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← مزاحم بن أبي مزاحم المكي
ثقة
👤←👥شعيب بن إسحاق القرشي، أبو محمد
Newشعيب بن إسحاق القرشي ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥عمران بن أبي جميل الدمشقي، أبو عمرو، أبو عمر
Newعمران بن أبي جميل الدمشقي ← شعيب بن إسحاق القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
935
دخل مكة ليلا فقضى عمرته ثم خرج من ليلته أصبح بالجعرانة كبائت فلما زالت الشمس من الغد خرج من بطن سرف حتى جاء مع الطريق طريق جمع ببطن سرف فمن أجل ذلك خفيت عمرته على الناس
سنن النسائى الصغرى
2866
خرج ليلا من الجعرانة حين مشى معتمرا فأصبح بالجعرانة كبائت حتى إذا زالت الشمس خرج عن الجعرانة في بطن سرف حتى جامع الطريق طريق المدينة من سرف
سنن النسائى الصغرى
2867
خرج من الجعرانة ليلا كأنه سبيكة فضة اعتمر أصبح بها كبائت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2866 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2866
اردو حاشہ:
(1) یہ ذوالقعدہ آٹھ ہجری فتح مکہ کے بعد طائف، حنین اور اوطاس سے واپسی کے وقت کا واقعہ ہے۔
(2) جعرانہ ایک مقام ہے طائف اور مکہ مکرمہ کے درمیان۔ یہ حرم سے باہر ہے۔ آج کل اس جگہ آکر عمرے کا احرام باندھنے کو بڑا عمرہ اور تنعیم سے عمرے کا احرام باندھنے کو چھوٹا عمرہ کہتے ہیں کیونکہ تنعیم مکہ مکرمہ سے قریب ہے اور جعرانہ دور۔ تنعیم سے حضرت عائشہؓ نے حجۃ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے عمرہ کیا تھا۔
(3) معلوم ہوا کہ ذوطویٰ میں رات گزارنا ضروری نہیں بلکہ رات ہی کو عمرہ کرکے واپس جا سکتے ہیں جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔
(4) گویا کہ رات وہاں گزاری ہو۔ یعنی عشاء کی نماز کے بعد جعرانہ سے نکلے اور صبح کی نماز پھر جعرانہ میں پڑھی۔ عام لوگوں کے نزدیک تو آپ رات وہیں جعرانہ ہی میں رہے ہوں گے، اس لیے بعض لوگوں کو اس عمرے کا پتا نہیں چل سکا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2866]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2867
مکہ میں رات میں داخل ہونے کا بیان۔
محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے رات میں نکلے گویا آپ کھری چاندی کے ڈلے ہوں (یعنی آپ کا رنگ سفید چاندی کی طرح چمکدار تھا) آپ نے عمرہ کیا، پھر آپ نے جعرانہ ہی میں صبح کی جیسے آپ نے وہیں رات گزاری ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2867]
اردو حاشہ:
پگھلی ہوئی چاندی کی طرح گویا وہ چودھویں رات تھی جو بہت روشن ہوتی ہے۔ یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی صفت بھی ہو سکتے ہیں، یعنی آپ کا چہرہ پگھلی ہوئی چاندی کی طرح روشن اور صاف ستھرا تھا۔ واللہ أعلم۔ باقی مباحث اوپر گزر چکے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2867]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 935
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے عمرہ جعرانہ کا بیان۔
محرش کعبی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے رات کو عمرے کی نیت سے نکلے اور رات ہی میں مکے میں داخل ہوئے، آپ نے اپنا عمرہ پورا کیا، پھر اسی رات (مکہ سے) نکل پڑے اور آپ نے واپس جعرانہ ۱؎ میں صبح کی، گویا آپ نے وہیں رات گزاری ہو، اور جب دوسرے دن سورج ڈھل گیا تو آپ وادی سرف ۲؎ سے نکلے یہاں تک کہ اس راستے پر آئے جس سے وادی سرف والا راستہ آ کر مل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے (بہت سے) لوگوں سے آپ کا عمرہ پوشیدہ رہا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 935]
اردو حاشہ: 1؎:
مکہ اورطائف کے درمیان ایک جگہ کانام ہے۔ 2؎:
مکہ سے تین میل کی دوری پرایک جگہ ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 935]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2866 in Urdu