🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
112. باب : حرمة الحرم
باب: حرم کی حرمت و تقدس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2883
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ , سَمِعَ جَدَّهُ يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ , أَنَّهُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِأَوْسَطِهِمْ، فَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ وَآخِرُهُمْ فَيُخْسَفُ بِهِمْ جَمِيعًا، وَلَا يَنْجُو إِلَّا الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ" , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَشْهَدُ عَلَيْكَ أَنَّكَ مَا كَذَبْتَ عَلَى جَدِّكَ، وَأَشْهَدُ عَلَى جَدِّكَ أَنَّهُ مَا كَذَبَ عَلَى حَفْصَةَ، وَأَشْهَدُ عَلَى حَفْصَةَ أَنَّهَا لَمْ تَكْذِبْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن صفوان کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ایک لشکر اس گھر پر حملہ کرنا چاہے گا، اس کا قصد کرے گا یہاں تک کہ جب وہ سر زمین بیداء میں پہنچے گا، تو اس کا درمیانی حصہ دھنسا دیا جائے گا (ان کو دھنستا دیکھ کر) لشکر کا ابتدائی و آخری حصہ چیخ و پکار کرنے لگے گا، تو وہ بھی سب کے سب دھنسا دیے جائیں گے، اور کوئی نہیں بچے گا، سوائے ایک بھاگے ہوئے شخص کے جو ان کے متعلق خبر دے گا، ایک شخص نے ان (امیہ بن صفوان) سے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے اپنے دادا کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کی ہے، اور انہوں نے حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف جھوٹی بات کی نسبت نہیں کی ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت نہیں کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2883]
ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک لشکر بیت اللہ پر حملہ کرنے آئے گا حتیٰ کہ جب وہ مقام بیداء (ایک چٹیل میدان) میں ہوں گے تو ان کے درمیان والے دھنسا دیے جائیں گے۔ ان کے اول و آخر (گھبراہٹ میں) ایک دوسرے کو پکاریں گے تو ان سب کو دھنسا دیا جائے گا اور کوئی نہیں بچ سکے گا مگر اکا دکا شخص جو (وہاں سے) بھاگ کر ان کے بارے میں لوگوں کو بتائے گا۔ ایک شخص نے ان (راویِ حدیث امیہ بن صفوان) سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے اپنے دادا پر جھوٹ نہیں بولا اور تمہارے دادا کی بابت گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ نہیں بولا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی بابت گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں بولا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2883]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الفتن 30 (4063)، (تحفة الأشراف: 15799)، مسند احمد (6/285) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حفصة بنت عمر العدويةصحابي
👤←👥عبد الله بن صفوان الأموي، أبو صفوان
Newعبد الله بن صفوان الأموي ← حفصة بنت عمر العدوية
مقبول
👤←👥أمية بن صفوان الأصغر
Newأمية بن صفوان الأصغر ← عبد الله بن صفوان الأموي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← أمية بن صفوان الأصغر
ثقة حافظ حجة
👤←👥الحسين بن عيسى الطائي، أبو علي
Newالحسين بن عيسى الطائي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
7242
ليؤمن هذا البيت جيش يغزونه حتى إذا كانوا ببيداء من الأرض يخسف بأوسطهم وينادي أولهم آخرهم ثم يخسف بهم فلا يبقى إلا الشريد الذي يخبر عنهم
صحيح مسلم
7243
سيعوذ بهذا البيت يعني الكعبة قوم ليست لهم منعة ولا عدد ولا عدة يبعث إليهم جيش حتى إذا كانوا ببيداء من الأرض خسف بهم
سنن ابن ماجه
4063
ليؤمن هذا البيت جيش يغزونه حتى إذا كانوا ببيداء من الأرض خسف بأوسطهم ويتنادى أولهم آخرهم فيخسف بهم فلا يبقى منهم إلا الشريد الذي يخبر عنهم
سنن النسائى الصغرى
2882
يبعث جند إلى هذا الحرم فإذا كانوا ببيداء من الأرض خسف بأولهم وآخرهم ولم ينج أوسطهم قلت أرأيت إن كان فيهم مؤمنون قال تكون لهم قبورا
سنن النسائى الصغرى
2883
ليؤمن هذا البيت جيش يغزونه حتى إذا كانوا ببيداء من الأرض خسف بأوسطهم فينادي أولهم وآخرهم فيخسف بهم جميعا ولا ينجو إلا الشريد الذي يخبر عنهم
مسندالحميدي
288
ليؤمن هذا البيت جيش يغزونه حتى إذا كانوا ببيداء من الأرض خسف بأوسطهم، فينادي أولهم آخرهم فلا يفلت منهم أحد إلا الشريد الذي يخبر عنهم
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2883 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2883
اردو حاشہ:
گویا حرم کی حرمت اللہ تعالیٰ قائم رکھے گا اور خدانخواستہ جب بیت اللہ کی حرمت قائم نہ رہے گی تو دنیا کا بھی خاتمہ کر دیا جائے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2883]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2882
حرم کی حرمت و تقدس کا بیان۔
ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس حرم کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا تو جب وہ سر زمین بیداء میں ہو گا تو ان کے شروع سے لے کر آخر تک سبھی لوگ دھنسا دئیے جائیں گے، درمیان کا بھی کوئی نہ بچے گا، میں نے کہا: بتائیے اگر ان میں مسلمان بھی ہوں تو بھی؟ آپ نے فرمایا: ان کے لیے قبریں ہوں گی (اور اعمال صالحہ کی بنا پر اہل ایمان کو ان قبروں میں عذاب نہیں ہو گا)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2882]
اردو حاشہ:
(1) درمیان والے بھی نہیں بچ سکیں گے۔ یعنی اول وآخر سے مراد سب کے سب ہیں، نہ کہ دو کنارے۔
(2) قبرستان بن جائے گا۔ یعنی ہلاک تو مومن بھی ہو جائیں گے مگر انھیں عذاب نہیں ہوگا اور قیامت کے دن وہ ظاہراً بھی کافروں سے الگ کر لیے جائیں گے۔
(3) یہ روایت شواہد کی بنا پر صحیح ہے جیسا کہ محقق کتاب نے بھی سنداً ضعیف قرار دیتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ آئندہ آنے والی روایت اس سے کفایت کرتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2882]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4063
بیداء کے لشکر کا بیان۔
عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ایک لشکر اس بیت اللہ کا قصد کرے گا تاکہ اہل مکہ سے لڑائی کرے، لیکن جب وہ لشکر مقام بیداء میں پہنچے گا تو اس کے درمیانی حصہ کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، اور دھنستے وقت جو لوگ آگے ہوں گے وہ پیچھے والوں کو آواز دیں گے لیکن آواز دیتے دیتے سب دھنس جائیں گے، ایک قاصد کے علاوہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا جو لوگوں کو جا کر خبر دے گا۔‏‏‏‏ (عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) جب حجاج (حجاج بن یوسف ثقفی) کا ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4063]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ صغار صحابہ میں سے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے حامی تھے۔
حجاج بن یوسف کے حملے وقت کعبہ شریف کے غلاف کو پکڑے ہوئے شہید ہوئے۔
ان کے والد حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بھی صحابی تھے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے قریب زمانہ میں فوت ہوئے۔ (تقریب التھذیب)

(2)
بیداء اس ہموار زمین کو کہتے ہیں جس میں کوئی چیز نہ اگتی ہو۔
مکہ شریف اور مدینہ شریف کے درمیان ایک مقام کا نام بھی بیداء ہے۔
حدیث میں غالباً دوسرے معنی مراد ہیں۔

(3)
  یہ واقعہ قیامت کے قریب پیش آئے گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4063]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:288
فائدہ:
بیت اللہ کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود لی ہے، قیامت کے قریب بیت اللہ ویران ہو گا، اور آخر کار گرا دیا جائے گا، اور یہ قیامت کی علامات کبریٰ میں سے ہوگا۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 288]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2883 in Urdu