🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
124. باب : فضل الصلاة في المسجد الحرام
باب: مسجد الحرام میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2900
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا يَقُولُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، غَيْرَ مُوسَى الْجُهَنِيِّ، وَخَالَفَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ وَغَيْرُهُ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میری مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کو موسیٰ جہنی کے سوا کسی اور نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور ابن جریج وغیرہ نے ان کی مخالفت کی ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2900]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 94 (1395)، (تحفة الأشراف: 8451)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 195 (1405)، مسند احمد (2/16، 29، 53، 68، 102) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مسجد الحرام میں نماز کا ثواب مسجد نبوی کی نماز سے سو گنا زیادہ ہے۔ ۲؎: ابن جریج نے اسے عن نافع عن ابراہیم عن میمونہ رضی الله عنہا روایت کیا ہے بخلاف موسیٰ جہنی کے کیونکہ انہوں نے اسے عن نافع عن ابن عمر رضی الله عنہما روایت کیا ہے، موسیٰ کی روایت کے مطابق یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما کے مسانید میں سے ہو گی اور ابن جریج وغیرہ کی روایت کے مطابق یہ ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کے مسانید میں سے ہو گی لیکن یہ مخالفت حدیث کے لیے ضرر رساں نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ نافع نے اسے دونوں سے سنا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥موسى بن عبد الله الجهني، أبو عبد الله، أبو سلمة
Newموسى بن عبد الله الجهني ← نافع مولى ابن عمر
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← موسى بن عبد الله الجهني
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة ثبت
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← محمد بن المثنى العنزي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2900
صلاة في مسجدي أفضل من ألف صلاة فيما سواه من المساجد إلا المسجد الحرام
صحيح مسلم
3379
صلاة في مسجدي هذا أفضل من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام
سنن ابن ماجه
1405
صلاة في مسجدي هذا أفضل من ألف صلاة فيما سواه من المساجد إلا المسجد الحرام
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2900 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2900
اردو حاشہ:
(1) ابن جریج کی مخالفت یہ ہے کہ انھوں نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی بجائے ام المومنین حضرت میمونہؓ کی مسند بنایا ہے جیسا کہ آئندہ روایت میں ہے۔
(2) امام نسائی رحمہ اللہ کا یہ فرمانا کہ میں نہیں جانتا… محل نظر ہے۔ عبیداللہ اور ایوب نے موسیٰ کی متابعت کی ہے۔ انھوں نے بھی اس روایت کو ابن عمر رضی اللہ عنہ کی مسند بنایا ہے، اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ یہ روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اور میمونہ رضی اللہ عنہ سے بھی، اسی لیے امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں دونوں طریق سے یہ روایت نقل کی ہے۔ دیکھیے: (صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1395)
(3) دوسری روایات میں وضاحت ہے کہ مسجد حرام میں ایک نماز عام مساجد کی ایک لاکھ نماز کے برابر ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2900]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1405
مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے، سوائے مسجد الحرام کے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1405]
اردو حاشہ:
فائدہ:
میری اس مسجد سے مراد مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف وہ حصہ نہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مسجد میں شامل تھا۔
بلکہ اس میں ہونے والے بعد کے تمام اضافے بھی شامل ہیں۔
کیونکہ ان اضافوں کی حیثیت الگ مسجد کی نہیں۔
اس لئے مسجد نبوی کے پُرانے یا نئے جس حصے میں بھی نماز ادا کی جائے۔
یہ ثواب حاصل ہوجائے گا۔
البتہ اگلی صفوں کی افضلیت جس طرح دوسری مساجد میں ہے وہاں بھی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1405]