یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
161. باب : قوله عز وجل { خذوا زينتكم عند كل مسجد }
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”مسجد میں ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو“۔
حدیث نمبر: 2961
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْمُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" جِئْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِبَرَاءَةَ، قَالَ: مَا كُنْتُمْ تُنَادُونَ؟ قَالَ: كُنَّا نُنَادِي" إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَأَجَلُهُ، أَوْ أَمَدُهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ، فَإِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ، وَلَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، فَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اہل مکہ کے پاس سورۃ براءت دے کر بھیجا محرر بن ابی ہریرہ نے اپنے والد سے پوچھا: آپ لوگ کیا پکارتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہم اعلان کرتے تھے کہ جنت میں سوائے مومن کے کوئی نہ جائے گا، اور ننگا ہو کر کوئی بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا، اور جس شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی عہد و معاہدہ ہو تو اس کی مدت و مہلت چار مہینے کی ہے، اور جب چار مہینے گزر جائیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں سے بری ہو گا، اور اس کا رسول بھی، اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کر سکے گا۔ میں (یہ باتیں) لوگوں کو پکار پکار کر بتا رہا تھا یہاں تک کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2961]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا جبکہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے والوں کی طرف سے براءت کا اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ شاگرد نے کہا: آپ کیا اعلان فرماتے تھے؟ انھوں نے فرمایا: ہم اعلان کرتے تھے کہ ”مومن کے علاوہ کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ کوئی ننگا شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکے گا۔ جس شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح کا کوئی معاہدہ ہے تو اس کی مدت چار ماہ ہے۔ جب چار ماہ گزر جائیں گے تو ﴿اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین (کے ساتھ ہر قسم کے معاہدہ صلح) سے لا تعلق ہوں گے﴾ [سورة التوبة: 3] اور کوئی مشرک اس سال کے بعد حج کرنے نہیں آئے گا۔“ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) میں یہ اعلانات کرتا رہا حتیٰ کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2961]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14353)، مسند احمد (2/299)، سنن الدارمی/الصلاة 140 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2961 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2961
اردو حاشہ:
(1) یہ حدیث سابقہ حدیث ہی کی تفصیل ہے۔ اس موقع پر امیر حج تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی تھے مگر ”براء ت کا اعلان“ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خصوصی ذمے داری تھی کیونکہ اس قبائلی دور میں عہد کے متعلق کوئی اعلان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندانی شخص ہی کر سکتا تھا ورنہ مشرکین اسے معتبر نہ سمجھتے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آپ کے ساتھ رشتے داری سے سب لوگ واقف تھے، لہٰذا اس اعلان کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا گیا۔ دیگر اعلانات حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی سے کروائے، لہٰذا سابقہ حدیث اور اس حدیث میں کوئی اختلاف نہیں۔
(2) ”چار ماہ“ ظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس اعلان سے چار ماہ شمار ہوں گے لیکن بعض محققین نے براء ت کی آیت کے نزول سے چار ماہ شمار کیے ہیں، یعنی شوال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم۔ آیت کے آئندہ الفاظ ﴿فَإِذَا انْسَلَخَ الأشْهُرُ الْحُرُمُ…﴾ (التوبة: 9: 5) اس کی تائید کرتے ہیں اور یہی بات صحیح ہے۔
(3) اس حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہر عہد کی مدت چار ماہ مقرر فرما دی لیکن یہ بات درست نہیں۔ یا تو راوی کو غلطی لگی یا ضرورت سے زیادہ اختصار ہوگیا۔ دیگر احادیث میں وضاحت ہے کہ اعلان یوں تھا: ”جس شخص کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو چکا ہے تو وہ اپنی مقررہ مدت تک برقرار ہے۔ اور جس کے ساتھ آپ کا کوئی عہد نہیں (یا جس کی مدت مقرر نہیں) وہ چار ماہ تک امن میں ہے۔“ دیکھیے: (جامع الترمذي، باب ومن سورة التوبة، حدیث: 3092) مزید ملاحظہ ہو: (تفسیر ابن کثیر، سورۂ توبة، آیت: 2، تحت الآیة ﴿فَسِيحُوا فِي الأرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ﴾ یعنی اس کے بعد مشرکین سے عام لڑائی ہے۔ ویسے بھی یہ بعید ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سے کیے ہوئے عہد کو یکطرفہ طور پر ختم کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو عہد کی بہت زیادہ پاسدار فرمانے والے تھے۔ صلی اللہ علیہ وسلم
(1) یہ حدیث سابقہ حدیث ہی کی تفصیل ہے۔ اس موقع پر امیر حج تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی تھے مگر ”براء ت کا اعلان“ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خصوصی ذمے داری تھی کیونکہ اس قبائلی دور میں عہد کے متعلق کوئی اعلان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندانی شخص ہی کر سکتا تھا ورنہ مشرکین اسے معتبر نہ سمجھتے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آپ کے ساتھ رشتے داری سے سب لوگ واقف تھے، لہٰذا اس اعلان کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا گیا۔ دیگر اعلانات حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی سے کروائے، لہٰذا سابقہ حدیث اور اس حدیث میں کوئی اختلاف نہیں۔
(2) ”چار ماہ“ ظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس اعلان سے چار ماہ شمار ہوں گے لیکن بعض محققین نے براء ت کی آیت کے نزول سے چار ماہ شمار کیے ہیں، یعنی شوال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم۔ آیت کے آئندہ الفاظ ﴿فَإِذَا انْسَلَخَ الأشْهُرُ الْحُرُمُ…﴾ (التوبة: 9: 5) اس کی تائید کرتے ہیں اور یہی بات صحیح ہے۔
(3) اس حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہر عہد کی مدت چار ماہ مقرر فرما دی لیکن یہ بات درست نہیں۔ یا تو راوی کو غلطی لگی یا ضرورت سے زیادہ اختصار ہوگیا۔ دیگر احادیث میں وضاحت ہے کہ اعلان یوں تھا: ”جس شخص کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو چکا ہے تو وہ اپنی مقررہ مدت تک برقرار ہے۔ اور جس کے ساتھ آپ کا کوئی عہد نہیں (یا جس کی مدت مقرر نہیں) وہ چار ماہ تک امن میں ہے۔“ دیکھیے: (جامع الترمذي، باب ومن سورة التوبة، حدیث: 3092) مزید ملاحظہ ہو: (تفسیر ابن کثیر، سورۂ توبة، آیت: 2، تحت الآیة ﴿فَسِيحُوا فِي الأرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ﴾ یعنی اس کے بعد مشرکین سے عام لڑائی ہے۔ ویسے بھی یہ بعید ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سے کیے ہوئے عہد کو یکطرفہ طور پر ختم کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو عہد کی بہت زیادہ پاسدار فرمانے والے تھے۔ صلی اللہ علیہ وسلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2961]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2961 in Urdu
محرر بن أبي هريرة الدوسي ← أبو هريرة الدوسي