سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب : أى النساء خير
باب: زیادہ اچھی اور بہترین عورتیں کون سی ہیں؟
حدیث نمبر: 3233
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِي نَفْسِهَا، وَمَالِهَا، بِمَا يَكْرَهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: عورتوں میں اچھی عورت کون سی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ عورت جو اپنے شوہر کو جب وہ اسے دیکھے خوش کر دے ۱؎، جب وہ کسی کام کا اسے حکم دے تو (خوش اسلوبی سے) اسے بجا لائے، اپنی ذات اور اپنے مال کے سلسلے میں شوہر کی مخالفت نہ کرے کہ اسے برا لگے ۲؎“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3233]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سی عورت بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ عورت کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے، اور جب اسے کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے، اور اپنے نفس اور مال میں اس کی مخالفت نہ کرے جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3233]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13058)، مسند احمد (2/251، 432) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اپنے صاف ستھرے لباس اور خندہ پیشانی سے اس کا استقبال کرے۔ ۲؎: جب شوہر اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کے لیے بلائے تو فوراً تیار ہو جائے اور اپنے مال میں کھلے دل سے اسے تصرف کی اجازت دے رکھے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله محمد بن عجلان القرشي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← محمد بن عجلان القرشي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3233 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3233
اردو حاشہ:
خاوند بیوی کی موافقت کے بغیر معاشرہ پر سکون نہیں رہ سکتا۔ اگر دونوں کی مساوی حیثیت ہو تو موافقت کا امکان بہت کم ہے، اس لیے بیوی کو خاوند کے تابع کردیا گیا کیونکہ مرد بلکہ مذکر کی فضیلت فطرتاً اور عملاً مسلم ہے، لہٰذا بہترین بیوی وہ ہے جو اپنے خاوند کے تابع فرمان رہے تاکہ یہ معاشرہ جنت نظیربن سکے۔ جس معاشرے میں مرد و زن کی حیثیت مساوی ہے، وہاں معاشرتی بے سکونی اور ازدواجی ابتری عام ہے۔ خاوند، بیوی اور والدین میں محبت واحترام مفقود ہے جو امن واطمینان کی بنیاد ہے۔
خاوند بیوی کی موافقت کے بغیر معاشرہ پر سکون نہیں رہ سکتا۔ اگر دونوں کی مساوی حیثیت ہو تو موافقت کا امکان بہت کم ہے، اس لیے بیوی کو خاوند کے تابع کردیا گیا کیونکہ مرد بلکہ مذکر کی فضیلت فطرتاً اور عملاً مسلم ہے، لہٰذا بہترین بیوی وہ ہے جو اپنے خاوند کے تابع فرمان رہے تاکہ یہ معاشرہ جنت نظیربن سکے۔ جس معاشرے میں مرد و زن کی حیثیت مساوی ہے، وہاں معاشرتی بے سکونی اور ازدواجی ابتری عام ہے۔ خاوند، بیوی اور والدین میں محبت واحترام مفقود ہے جو امن واطمینان کی بنیاد ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3233]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3233 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي