سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. باب : القدر الذي يحرم من الرضاعة
باب: کس قدر دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 3312
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا (نکاح کو) حرام نہیں کرتا ۱؎“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 5 (1450)، سنن ابی داود/النکاح11 (2063)، سنن الترمذی/الرضاع3 (1150)، سنن ابن ماجہ/النکاح35 (1941)، (تحفة الأشراف: 17189)، مسند احمد 6/31، 95، 216، 247) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایک گھونٹ یا دو گھونٹ دودھ پی لینے سے اس سے نکاح کی حرمت کا حکم لاگو نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3590
| لا تحرم المصة والمصتان |
سنن أبي داود |
2063
| لا تحرم المصة ولا المصتان |
سنن ابن ماجه |
1941
| لا تحرم المصة والمصتان |
سنن النسائى الصغرى |
3312
| لا تحرم المصة والمصتان |
سنن النسائى الصغرى |
3313
| لا تحرم الخطفة والخطفتان |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3312 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3312
اردو حاشہ:
احادیث میں مختلف الفاظ ہیں: [مَصَّةُ،إملاجة،خَطْفَة] وغیرہ۔ سب کا مفہوم ایک ہے‘ یعنی ایک دفعہ پستان منہ میں ڈال کر دودھ چوستے رہنا حتیٰ کہ پستان منہ سے نکال دیا جائے۔ بعض مسائل میں شریعت نے قلیل وکثیر میں فرق کیا ہے‘ جیسے ماء قلیل اور ماء کثیر‘ اسی طرح رضاعت کے مسئلے میں بھی قلیل وکثیر کا فرق ہے بایں طور کہ قلیل کو معتبر نہیں سمجھا گیا حتیٰ کہ دودھ پینا باضابطہ ہو۔ یہ طریق کار فطرت انسانیہ سے بھی مناسبت رکھتا ہے۔
احادیث میں مختلف الفاظ ہیں: [مَصَّةُ،إملاجة،خَطْفَة] وغیرہ۔ سب کا مفہوم ایک ہے‘ یعنی ایک دفعہ پستان منہ میں ڈال کر دودھ چوستے رہنا حتیٰ کہ پستان منہ سے نکال دیا جائے۔ بعض مسائل میں شریعت نے قلیل وکثیر میں فرق کیا ہے‘ جیسے ماء قلیل اور ماء کثیر‘ اسی طرح رضاعت کے مسئلے میں بھی قلیل وکثیر کا فرق ہے بایں طور کہ قلیل کو معتبر نہیں سمجھا گیا حتیٰ کہ دودھ پینا باضابطہ ہو۔ یہ طریق کار فطرت انسانیہ سے بھی مناسبت رکھتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3312]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2063
کیا پانچ گھونٹ سے کم دودھ پلانے سے حرمت ثابت ہو گی؟
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک یا دو چوس حرمت ثابت نہیں کرتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2063]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک یا دو چوس حرمت ثابت نہیں کرتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2063]
فوائد ومسائل:
بلکہ جب تک پانچ مرتبہ (مذکورہ طریقے سے) دودھ پیے، حرمت رضا عت ثابت نہیں ہو گی۔
بلکہ جب تک پانچ مرتبہ (مذکورہ طریقے سے) دودھ پیے، حرمت رضا عت ثابت نہیں ہو گی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2063]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3590
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دو دفعہ دودھ چوسنے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3590]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
مَصَّةٌ:
(ن۔
س)
ایک بار پستان چوسنا۔
مفردات الحدیث:
مَصَّةٌ:
(ن۔
س)
ایک بار پستان چوسنا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3590]
عبد الله بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق