سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب : التزويج على نواة من ذهب
باب: کھجور کی گٹھلی برابر سونے کے عوض شادی کرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3355
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ. ح وأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَجَّاجًا، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ عَلَى صَدَاقٍ، أَوْ حِبَاءٍ، أَوْ عِدَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا، وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطَاهُ، وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ" , اللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت سے نکاح مہر پر کیا گیا ہو یا (مہر کے علاوہ) اسے عطیہ دیا گیا ہو یا نکاح سے پہلے عورت کو کسی چیز کے دینے کا وعدہ کیا گیا ہو تو یہ سب چیزیں عورت کا حق ہوں گی (اور وہ پائے گی)۔ اور جو چیزیں نکاح منعقد ہو جانے کے بعد ہوں گی تو وہ جسے دے گا چیز اس کی ہو گی۔ اور آدمی اپنی بیٹی اور بہن کے سبب عزت و اکرام کا مستحق ہے“، (حدیث کے) الفاظ (راوی حدیث) عبداللہ بن محمد بن تمیم کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3355]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کے ساتھ جس مہر پر نکاح کیا جائے یا جو عطیہ یا وعدہ نکاح سے پہلے دیا جائے، وہ سب کچھ عورت کا ہے۔ البتہ عقد نکاح کے بعد ملنے والا تحفہ اسی کا ہو گا جسے دیا جائے گا۔ اور وہ (بہترین) چیز جس کی وجہ سے کسی کی عزت کی جائے، اس کی بیٹی یا بہن ہے (جو وہ کسی کے نکاح میں دے)۔“ یہ الفاظ عبداللہ کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3355]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 36 (2129)، سنن ابن ماجہ/النکاح 41 (1955)، (تحفة الأشراف: 8745)، مسند احمد (2/182) حسن) (البانی نے ابن جریج کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے، حالاں کہ نسائی کی ایک سند میں ابن جریج کی ’’تحدیث‘‘ موجود ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3355
| أيما امرأة نكحت على صداق أو حباء أو عدة قبل عصمة النكاح فهو لها وما كان بعد عصمة النكاح فهو لمن أعطاه وأحق ما أكرم عليه الرجل ابنته أو أخته |
سنن أبي داود |
2129
| أيما امرأة نكحت على صداق أو حباء أو عدة قبل عصمة النكاح فهو لها وما كان بعد عصمة النكاح فهو لمن أعطيه وأحق ما أكرم عليه الرجل ابنته أو أخته |
سنن ابن ماجه |
1955
| ما كان من صداق أو حباء أو هبة قبل عصمة النكاح فهو لها وما كان بعد عصمة النكاح فهو لمن أعطيه أو حبي وأحق ما يكرم الرجل به ابنته أو أخته |
بلوغ المرام |
884
| أيما امرأة نكحت على صداق أو حباء أو عدة قبل عصمة النكاح ، فهو لها ، وما كان بعد عصمة النكاح ، فهو لمن أعطيه ، وأحق ما أكرم الرجل عليه ابنته أو أخته |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3355 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3355
اردو حاشہ:
اس روایت میں امام نسائی رحمہ اللہ کے دواستاد ہیں: ہلال بن علاء اور عبداللہ بن محمد بن تمیم۔ بیان کردہ الفاظ عبداللہ کے ہیں۔
(1) نکاح سے قبل جو کچھ تحائف دیے جاتے ہیں‘ وہ عورت کی خاطر ہوتے ہیں‘ لہٰذا وہ عورت کے لیے شمار ہوں گے‘ اگرچہ کسی کو بھی ملیں‘ البتہ نکاح کے بعد چونکہ نئے رشتے قائم ہوجاتے ہیں‘ لہٰذا جسے تحفہ ملے گا‘ اسی کا شمار ہوگا۔
(2) کسی کو بیٹی یا بہن کا نکاح دینا بہت بڑا احسان ہے‘ لہٰذا بیوی کے باپ اور بھائی کا احترام لازماً ہے کیونکہ نکاح کا اختیار انہیں تھا۔ بیوی کے باپ کو تیسرا باپ کہا گیا ہے۔ پہلا حقیقی والد‘ دوسرا استاد اور تیسرا سسر۔ اسی طرح بیوی کی والدہ کا بھی احترام ضروری ہے۔ اسی بنا پر تو اس سے نکاح حرام کردیا گیا اور اس سے پردہ نہیں رکھا گیا۔
(3) ظاہراً اس حدیث کا باب سے کوئی تعلق نہیں بنتا‘ الا یہ کہ کہا جائے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر کی کوئی مقدار نہیں۔
اس روایت میں امام نسائی رحمہ اللہ کے دواستاد ہیں: ہلال بن علاء اور عبداللہ بن محمد بن تمیم۔ بیان کردہ الفاظ عبداللہ کے ہیں۔
(1) نکاح سے قبل جو کچھ تحائف دیے جاتے ہیں‘ وہ عورت کی خاطر ہوتے ہیں‘ لہٰذا وہ عورت کے لیے شمار ہوں گے‘ اگرچہ کسی کو بھی ملیں‘ البتہ نکاح کے بعد چونکہ نئے رشتے قائم ہوجاتے ہیں‘ لہٰذا جسے تحفہ ملے گا‘ اسی کا شمار ہوگا۔
(2) کسی کو بیٹی یا بہن کا نکاح دینا بہت بڑا احسان ہے‘ لہٰذا بیوی کے باپ اور بھائی کا احترام لازماً ہے کیونکہ نکاح کا اختیار انہیں تھا۔ بیوی کے باپ کو تیسرا باپ کہا گیا ہے۔ پہلا حقیقی والد‘ دوسرا استاد اور تیسرا سسر۔ اسی طرح بیوی کی والدہ کا بھی احترام ضروری ہے۔ اسی بنا پر تو اس سے نکاح حرام کردیا گیا اور اس سے پردہ نہیں رکھا گیا۔
(3) ظاہراً اس حدیث کا باب سے کوئی تعلق نہیں بنتا‘ الا یہ کہ کہا جائے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر کی کوئی مقدار نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3355]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 884
حق مہر کا بیان
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے باپ سے، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس عورت کو مہر عطیہ یا نکاح سے پہلے کسی وعدہ کی بنا پر بیاہ دیا جائے تو یہ اس عورت کا حق ہے اور جو عطیہ نکاح کے بعد دیا جائے تو وہ اسی کا ہے جسے دیا جائے اور وہ چیز جس کی وجہ سے مرد زیادہ تکریم کا مستحق ہے اس کی بیٹی یا اس کی بہن ہے۔“ اسے احمد اور ترمذی کے علاوہ چاروں نے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 884»
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے باپ سے، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس عورت کو مہر عطیہ یا نکاح سے پہلے کسی وعدہ کی بنا پر بیاہ دیا جائے تو یہ اس عورت کا حق ہے اور جو عطیہ نکاح کے بعد دیا جائے تو وہ اسی کا ہے جسے دیا جائے اور وہ چیز جس کی وجہ سے مرد زیادہ تکریم کا مستحق ہے اس کی بیٹی یا اس کی بہن ہے۔“ اسے احمد اور ترمذی کے علاوہ چاروں نے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 884»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في الرجل يدخل بامرأته قبل أن ينقدها شيئًا، حديث:2129، والنسائي، النكاح، حديث:3355، وابن ماجه، النكاح، حديث:1955، وأحمد:2 /182.» تشریح:
یہ حدیث دلیل ہے کہ اگر مرد‘ عورت کے ولی کو کچھ مال دے یا اس سے کوئی وعدہ کرے‘ اگر یہ نکاح سے پہلے ہو توپھر ولی اس مال کا مستحق نہیں ہے‘ خواہ ولی نے اس مال کی اپنے لیے شرط لگائی ہو‘ بلکہ عورت ہی اس کا استحقاق رکھتی ہے‘ البتہ اگر نکاح کے بعد کوئی چیز دی گئی ہے تو وہ اسی کا حق ہے جسے وہ دی گئی ہے‘ خواہ وہ عورت کا ولی ہو یا کوئی اور رشتہ دار یا خود وہ عورت ہی ہو۔
اور یہ معاملہ اس عطیہ یا ہدیہ وغیرہ کا ہے جو مہر کے علاوہ ہو۔
رہا مہر کا معاملہ تو وہ بہرصورت عورت ہی کا حق ہے۔
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في الرجل يدخل بامرأته قبل أن ينقدها شيئًا، حديث:2129، والنسائي، النكاح، حديث:3355، وابن ماجه، النكاح، حديث:1955، وأحمد:2 /182.»
یہ حدیث دلیل ہے کہ اگر مرد‘ عورت کے ولی کو کچھ مال دے یا اس سے کوئی وعدہ کرے‘ اگر یہ نکاح سے پہلے ہو توپھر ولی اس مال کا مستحق نہیں ہے‘ خواہ ولی نے اس مال کی اپنے لیے شرط لگائی ہو‘ بلکہ عورت ہی اس کا استحقاق رکھتی ہے‘ البتہ اگر نکاح کے بعد کوئی چیز دی گئی ہے تو وہ اسی کا حق ہے جسے وہ دی گئی ہے‘ خواہ وہ عورت کا ولی ہو یا کوئی اور رشتہ دار یا خود وہ عورت ہی ہو۔
اور یہ معاملہ اس عطیہ یا ہدیہ وغیرہ کا ہے جو مہر کے علاوہ ہو۔
رہا مہر کا معاملہ تو وہ بہرصورت عورت ہی کا حق ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 884]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3355 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي